Loading
ملک میں سال 2026 کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھائوکے باعث عوام کو مہنگائی کے دباؤکا سامنا ہے۔
سال کے آغاز میں پیٹرول 253 روپے 17 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر فروخت ہورہا تھا جبکہ 10 اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت 398 روپے 30 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 396 روپے 24 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔
اس طرح سال کے آغاز کے مقابلے میں پیٹرول 145 روپے 13 پیسے جبکہ ڈیزل 139 روپے 16 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوچکا ہے۔
21 جولائی 2026 کو عالمی منڈی کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام شروع ہونے سے 10 اکتوبر تک پیٹرول کی قیمت میں 22 مرتبہ کمی جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل میں 23مرتبہ کمی ہوئی۔
اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں 35 مرتبہ اضافہ،ہائی ڈیزل کی قیمت میں 34مرتبہ اضافہ ہوا،اکیس جولائی سے دس اکتوبر تک 2026ء تک عالمی منڈی کے مطابق قیمتوں کے تعین کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 35 مرتبہ اضافہ اور 22 مرتبہ کمی ہوئی جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 34 مرتبہ بڑھائی اور 23 مرتبہ کم کی گئی۔
3 اپریل 2026ء کو پیٹرول کی قیمت 458 روپے 41 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔
دستیاب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.205 کھرب روپے وصول کیے گئے جبکہ جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک یہ وصولیاں تقریباً 1.342 کھرب روپے تک پہنچ گئیں۔
یہ اعدادوشمار مالی سال کے دوران ہونے والی وصولیوں سے متعلق ہیں، انہیں صرف کیلنڈر سال 2026 کی مجموعی وصولی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.676 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے،پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر عام شہریوں کے اخراجات پر پڑتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل