Sunday, October 11, 2026
 

سائنس دانوں نے دنیا کی پہلی عملی نیوکلیئر گھڑیاں تیار کرلیں

 



سائنس دانوں نے ایسی تجرباتی جوہری گھڑیاں تیار کرلی ہیں جو مستقبل میں وقت کی پیمائش کو مزید درست بنانے اور طبیعیات کے بنیادی اصولوں کی تحقیق میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ سائنسی جریدے نیچر میں 7 اکتوبر کو شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یورپ اور چین کے سائنس دانوں کی مشترکہ ٹیم نے پہلی مرتبہ یہ ثابت کیا ہے کہ جوہری گھڑیوں کو عملی طور پر وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس تحقیق میں ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، جرمنی کے قومی ادارے برائے پیمائش اور چین کی سنگھوا یونیورسٹی کے محققین شامل تھے۔ روایتی ایٹمی گھڑیاں ایٹم کے الیکٹرانز میں توانائی کی تبدیلی کو وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کرتی ہیں جبکہ نئی جوہری گھڑیاں ایٹم کے مرکزے میں ہونے والی توانائی کی تبدیلی پر کام کرتی ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ طریقہ وقت کی پیمائش کے لیے زیادہ مستحکم اور حساس نظام تیار کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ دونوں تجرباتی گھڑیاں تھوریم-229 نامی آئسوٹوپ پر مبنی ہیں جسے کیلشیم فلورائیڈ کے مادے میں شامل کیا گیا ہے۔ خصوصی الٹرا وائلٹ لیزر اس کے مرکز میں توانائی کی تبدیلی کو متحرک کرتا ہے جبکہ مرکز لیزر کی فریکوئنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے ریفرنس فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ابتدائی نمونے فی الحال بہترین آپٹیکل ایٹمی گھڑیوں کی کارکردگی تک نہیں پہنچ سکے لیکن محققین کے مطابق یہ کامیابی اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل