Loading
میں اکثر اپنے دوستوں سے یہ کہتا آیا ہوں کہ سیاحت کے لیے دوردراز جانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ کم بجٹ اور کم وقت میں بھی آپ بہترین ٹور کر سکتے ہیں اور اگر آپ کا گروپ ساتھ ہے تو یہ سفر اور سستا ہو سکتا ہے۔
ستمبر میں میرے پاس تین دن تھے اور دو شہر۔ سو ایک دن گوجرانوالہ اور دو دن اسلام آباد، راولپنڈی کے نواح میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس بار میں نے پنج پیر کو سفر کے لیے منتخب کیا جہاں عمران احسان صاحب اور جناب تنویر ملک میرے سفر کے ساتھی تھے۔
راول پنڈی سے ہم نے سوزوکی مہران میں کیمپنگ اور کھانے کا سامان لیا اور جانبِ کہوٹہ و پنج پیر سفر شروع کیا۔ ایک غلطی جو ہم سے ہوئی کہ ہم اپنے سلنڈر میں گیس بھروانا بھول گئے جو آگے جا کے بھی کہیں سے ناں ملی لیکن اللہ پاک نے اس کا بھی حل نکال رکھا تھا۔ خیر۔
پنج پیر، ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کی یونین کونسل نڑھ میں واقع ہے۔ یہ دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 70 کلومیٹر اور پنڈی سے 65 کلومیٹر دور مشرق میں پنجاب و آزاد کشمیر کی سرحد پہ واقع ہے۔
اس مقام کی بلندی سطحِ سمندر سے تقریباً 6100 فٹ ہے جس کی بدولت یہ ایک پر فضا مقام ہے جہاں ایک آزاد روح کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔
راولپنڈی سے کہوٹہ اور کہوٹہ سے پنج پیر براستہ نڑھ بہترین سڑک موجود ہے۔ علاقہ پرامن اور محفوظ ہے جہاں آپ فیملی کے ساتھ بھی جا سکتے ہیں۔
کہوٹہ میں ہم نے ایک بہترین ہوٹل (حسن لاہوری ہوٹل) سے ناشتہ کیا جن کا ذائقہ اور معیار دونوں بہت اعلیٰ تھے۔ خوب صورت، پُرفضا اور بل کھاتے راستوں سے ہو کر ہم دو گھنٹوں میں اپنی منزل پہ پہنچ گئے۔
پنج پیر پہنچتے ہی شروع میں ایک دیسی ہوٹل موجود ہے جہاں چائے پانی، ناشتہ، کھانا اور۔ دیگر لوازمات دست یاب ہیں۔
یہاں سامنے گاڑیوں کی پارکنگ بھی ہے جس کی رکھوالی ہوٹل والے کرتے ہیں۔ ہم نے انہیں اپنی کار کی ایک رات کے حفاظت کے عوض پانچ سو ادا کیے۔ اگر آپ چند گھنٹوں کے لیے جا رہے ہیں تو پیسے دینے کی ضرورت نہیں۔
گاڑی پارک اور تھوڑی سی ٹریکنگ (بہت آسان ہے) کرکے آپ اوپر پنج پیر پہنچتے ہیں جہاں ایک خوب صورت اور قدرے صاف جنگل اور پنج پیر کی مشہور چٹانیں موجود ہیں۔ یہاں سے غروب آفتاب کا بہترین نظارہ کیا جا سکتا ہے۔
یہاں آپ صبح سے شام کا وقت بھی گزار سکتے ہیں اور کیمپنگ بھی کرسکتے ہیں۔ ہم چوںکہ اپنا کیمپ اور ضروری سامان ساتھ لے گئے تھے سو ہمیں قدرت نے یہاں کہکشاں بھی ودیعت کی جو ایک ناقابل بیاں تجربہ ہے۔
پانی یہاں قریب کہیں نہیں سے سو اپنی ضروریات کا پانی ساتھ لے کر جائیں۔ چوںکہ زیادہ گرمی نہیں ہوتی سو زیادہ پانی کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
ہمارے پاس وقت کم اور کام زیادہ تھے سو ہم پکی پکائی بریانی اور پھل ساتھ لے گئے تھے جس سے وقت کی بچت بھی ہوئی اور گندگی بھی نہیں پھیلی۔ اپنا کھانا پکانا ہے تو گیس کے سلنڈر لے جائیں ورنہ پتھر کے دیسی چولہے وہاں موجود ہیں۔ پکائیں، کھائیں اور اپنا گند سمیٹ کے واپس آئیں۔
واش روم کی سہولت یہاں نہیں ہے سو جنگل زندہ باد۔ لیکن کچھ آگے بنے اکلوتے ہوٹل کے ساتھ چھوٹے چھوٹے واش روم بنے ہیں جنہیں آپ قیمت ادا کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔
ان کے پاس تازہ تعمیر کیے گئے دو رہائشی کمرے بھی ہیں لیکن کچھ خاص معیاری نہیں۔ سو میرے خیال میں اگر آپ دوستوں کے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو کیمپنگ بہتر ہے اور اگر فیملی کے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو صبح جا کے شام کو واپسی کر لیں۔
فوٹوگرافی، کیمپنگ، گیمز، ٹریکنگ سمیت آپ یہاں کہکشاں اور بادلوں کے نظارے بھی کر سکتے ہیں۔
پنج پیر میں کیا دیکھیں؟
یہاں قریب دیکھنے کی بہت سی جگہیں ہیں جن میں نڑھ آبشار، ویوپوائنٹ، کھوئیاں آبشار، سور آبشار، پنج پیر دربار، پنج پیر راکس، جنگل اور تاریخی باغ جوگیاں کمپلیکس شامل ہیں۔
یوں تو پنج پیر اور اطراف میں کئی ڈھکی چھپی وادیاں اور آبشاریں ہیں لیکن چند ایک اہم مقامات کا میں یہاں تفصیلاً ذکر کروں گا۔
یادگار لانس نائیک محفوظ شہید
لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا مزار ان کے آبائی گاؤں پنڈ ملکاں (جس کا نام اب تبدیل کرکے محفوظ آباد رکھ دیا گیا ہے)، اسلام آباد میں ان کے گھر کے قریب واقع ہے۔ لانس نائیک محفوظ شہید کے مزار کے پہلو میں ان کی والدہ کی قبر بھی موجود ہے۔
محمد محفوظ اعوان شہید، اس وقت ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں پنڈ ملکاں (اب محفوظ آباد) میں 25 اکتوبر 1944ء کو پیدا ہوئے اور انھوں نے 25 اکتوبر 1962ء کو پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ انیس سو اکہتر کی جنگ کے وقت واہگہ اٹاری سیکٹر میں تعینات تھے۔
16 دسمبر1971ء کو جب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو پاک فوج نے اپنی کارروائیوں کو بند کردیا، دشمن نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور سرحد کے قریب واقع پل کنجری کا جو علاقہ پاک فوج کے قبضے میں آچکا تھا، اسے واپس لینے کے لیے سترہ اور اٹھارہ دسمبر کی درمیانی شب زبردست حملہ کردیا۔
پاک فوج میں لانس نائیک محمد محفوظ کی پلاٹون نمبر تین ہر اول دستے کے طور پر سب سے آگے تھی چناںچہ اسے خود کار ہتھیاروں کا سامنا کرنا پڑا۔ محفوظ شہید نے بڑی شجاعت اور دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کی گولہ باری سے شدید زخمی ہونے کے باوجود، غیر مسلح حالت میں دشمن کے بنکر میں گھس کر ہندوستانی فوجی کو دبوچ لیا اور سترہ دسمبر کو ایسی حالت میں جام شہادت نوش کیا کہ مرنے کے بعد بھی دشمن کی گردن ان کے ہاتھوں کے آہنی شکنجے میں تھی۔
انھوں نے پاک بھارت جنگ حصہ لیا اور بڑی شجاعت اور دلیری سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ ان کی اسی بہادری کے اعتراف میں23 مارچ 1972ء کو وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے لانس نائیک محمد محفوظ کو نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا جو اُن کے والد نے وصول کیا۔
جامع مسجد چونترہ سوداگراں
کہوٹہ لہتراڑ روڈ پر پنڈ ملکاں سے آگے چونترہ سوداگراں نامی گاؤں ہے جس کے ایک سرے پر ایک قدیم مسجد موجود ہے۔
یہ جامع مسجد چونترہ سوداگراں ہے جس کے صرف دو گنبد ہیں۔ اس کے مرکزی ہال کے بیچ میں مرزا سکندر خان المعروف سوداگر کی قبر ہے جو شاید اس علاقے کی اہم شخصیت رہے ہوں گے، جب کہ اندرونی کمرے میں پرانا فریسکو آرٹ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
باغ جوگیاں کمپلیکس
باغ جوگیاں، اسلام آباد کے دیہی علاقے میں دریائے سواں کے کنارے واقع ہے جس کی دوسری جانب گکھڑوں کا مشہور قلعہ پھروالہ واقع ہے۔
باغ جوگیاں اسلام آباد جب کہ قلعہ پھروالا راولپنڈی کی حدود میں آتا ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ علاقہ ناتھ جوگیوں کی روحانی مشق، قیام اور مراقبے کے لیے مشہور تھا۔
یہاں موجود تاریخی ورثے میں مائی قمرو مسجد، سلطان مقرب خان گکھڑ کا مقبرہ اور گکھڑوں کا قدیمی قبرستان شامل ہیں۔ اول الذکر دونوں عمارتوں کو پاکستان نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا ہے۔
مائی قمرو مسجد
یہاں موجود مائی قمرو مسجد خطے کی قدیم اسلامی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ سرکاری معلومات کے مطابق مسجد کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس کی بحالی اور تحفظ پر توجہ دی جا رہی ہے۔ تین خوب صورت گنبدوں اور محرابوں پر مشتمل یہ سادہ سی مسجد پہلے خودرو جھاڑیوں اور بھنگ کے پودوں سے گھری ہوئی تھی جسے اب صاف ستھرا کرکے اس کی مرمت کی گئی ہے۔ دراڑوں میں مصالحہ بھرا گیا ہے جب کہ قریبی قبرستان کو بھی صاف کیا گیا ہے جس کی بدولت اب یہ مسجد دور سے نظر آ جاتی ہے۔
مقبرہ سلطان مقرب خان
باغ جوگیاں کے شمالی جانب سلطان مقرب خان گکھڑ کا مقبرہ بھی موجود ہے۔
مقرّب خان گکھڑ پنجابی مسلم سپہ سالار اور قبیلہ گکھڑ کے سردار تھے جو 1739ء سے 1767ء تک پوٹھوہار کے سلطان رہے۔ انھیں پوٹھوہار کا آخری فرماںروا بھی کہا جاتا ہے۔
انھوں نے گجرات پر قبضہ کر کے اسے اپنا دارالحکومت بنایا، جو 1765ء تک ان کے زیراقتدار رہا بعد ازاں سکھوں نے اسے فتح کرلیا۔ اس کے بعد ان کے بیٹوں نے پھروالہ اور دان گلی کے علاقوں کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ ان کا ہشت پہلو مقبرہ اور ساتھ ایک قدیم درخت یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
قلعہ پھروالا
قلعہ پھروالہ پوٹھوہار کا ایک تاریخی قلعہ ہے جو راولپنڈی سے مشرق کی جانب 27 کلو میٹر اور اسلام آباد ہائی وے سے 17 کلومیٹر کے فاصلہ پر کہوٹہ-لہتراڑ روڈ کے قریب واقع ہے۔ پھروالہ قلعہ قدرتی طور پر ایک طرف کوہ ہمالیہ کی پہاڑیوں اور دوسری جانب دریائے سواں سے گھرا ہونے کے باعث محفوظ پہاڑی چوکی کے طور پہ استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ قلعہ ایک زمانے میں گکھڑ سلطنت کا پایۂ تخت تھا جسے 1008ء سے 1012ء کے درمیانی عرصہ میں گکھڑ سردار نے بنوایا تھا۔
450 کنال پر محیط یہ قلعہ دفاعی نقطۂ نظر سے بنایا گیا تھا جس کے ایک طرف دریا اور دوسری جانب بلند پہاڑی ہے۔ اس کی فصیل چوںکہ پہاڑوں پہ ہے سو قدرتی طور پر یہ پوٹھوہار کی دفاعی چوکی ہے جسے فتح کرنا ہر حملہ آوار کے لیے ضروری ہوتا تھا۔
نورآبادآبشار
نورآباد آبشار (نڑھ آبشار) کہوٹہ کے قریب پنج پیر راکس کے مقام پر واقع ایک خوب صورت اور پرسکون مقام ہے جہاں تک پہنچنا بہت آسان ہے اور کوئی لمبی یا مشکل ہائیکنگ نہیں کرنی پڑتی کہ یہ سڑک کے قریب واقع ہے۔ یہاں داخلہ بالکل مفت ہے اور یہ 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ اوپر سڑک کنارے ایک کھانے پینے کی دکان ہے جب کہ بار بی کیو والے صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ ویک اینڈ یا عام تعطیلات پر یہاں کافی رش ہوتا ہے، اس لیے عام دنوں میں جانے کو ترجیح دیں۔
پنج پیر راکس
پنج پیر راکس ابھی پاکستان کے ان سیاحتی مقامات میں شامل ہے جنہیں بڑے پیمانے پر دریافت نہیں کیا گیا۔ یہی نسبتاً غیرمعروف حیثیت اسے مزید دل کش وپراسرار بناتی ہے۔ پنج پیر کی چٹانیں ضلع راولپنڈی کے مشرقی پہاڑی علاقے میں واقع ہیں۔ یہ دنوئی رِج کے بلند حصے پر موجود قدرتی چٹانیں ہیں جن کی بلندی مختلف ذرائع کے مطابق تقریباً 1,800 میٹر (تقریباً 5,900 فٹ) تک ہے۔ اس مقام کی خاص بات اس کی وسیع قدرتی چٹانیں، گھنے چیڑ کے جنگلات، پہاڑی چشمے، آبشاریں اور دور تک پھیلے ہوئے وادیوں کے مناظر ہیں۔ نام سے تو لگتا ہے کہ یہاں پانچ پیروں نے قیام یا مراقبہ کیا ہوگا، اس لیے اس کا یہ نام پڑا۔ انہیں چٹانوں پر ایک جگہ حضرت شاہ شمس کی چلہ گاہ کی تختی بھی لگی ہے، جب کہ پنج پیر کا مزار بھی انہی چٹانوں کے قریب ذرا بلندی پر واقع ہے۔ اس خوبصورت اور ایڈونچر سے بھرپور جگہ کا اسلام آباد سے فاصلہ تقریباً 70 کلومیٹر ہے۔ آخری حصے میں سڑک نسبتاً دشوار اور پہاڑی ہے، اس لیے موسم اور مقامی راستے کی موجودہ حالت معلوم کرکے جانا بہتر ہے۔
یہ تو تھا پنج پیر کا احوال جہاں ہم نے تاروں کی چھاؤں اور ٹھنڈی ہوا میں زندگی کی یادگار رات گزاری۔ باغ جوگیاں اور پھروالا کا مفصل ذکر مجھ پر ادھار رہا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل