Loading
سعودی عرب میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سے ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس بات کی تصدیق امریکی سفارت خانے نے کی اور اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ حملوں سے متعلق مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔
ریاض میں امریکی سفارت خانے نے مزید بتایا کہ امریکی شہریوں کو حالیہ واقعات کی تصاویر بنانے پر حراست میں لیا گیا ہے تاہم سفارت خانے نے گرفتار افراد کی تعداد نہیں بتائی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ انہیں رہا کیا گیا ہے یا نہیں۔
امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو احتیاط برتنے اور سعودی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ریاض میں مقیم بعض غیر ملکی باشندوں نے بھی بتایا کہ ان کے جاننے والوں کو حالیہ واقعات کی ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔
خیال رہے کہ سعودی حکام پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں، ان کے ملبے اور متاثرہ مقامات کی فلم بندی، تصاویر بنانے یا معلومات شائع کرنے پر قانونی ذمہ داری عائد ہوسکتی ہے۔
یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب اہم ترین ایئرپورٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل