Loading
وفاقی کابینہ کی منظوری اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخطوں کے بعد خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ایک غیر معمولی آئینی پیش رفت ہے۔ صوبائی حکومت کے اختیارات معطل کرکے انتظامی معاملات گورنر فیصل کریم کنڈی کے سپرد کیے گئے ہیں، جبکہ معاونت کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔
ابتدائی طور پر چھ ماہ کے اس بندوبست کو وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے سنگین خطرات اور صوبائی انتظامی مشینری کی ناکامی کے تناظر میں ضروری قرار دیا ہے۔ فوج کی سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے تعیناتی بھی اسی انتظام کا حصہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے انسداد کے لیے قومی لائحہ عمل پر مؤثر عمل درآمد میں ناکام رہی، جس کے باعث امن و امان کی صورت حال مسلسل بگڑتی چلی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر خاموشی اختیار کرکے قومی ذمے داری سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق گزشتہ دس برس کے دوران خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تقریباً آٹھ سو ارب روپے فراہم کیے گئے، لیکن پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی استعداد بڑھانے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت مذاکرات کے دوران طے شدہ مسودے سے پیچھے ہٹ گئی اور دہشت گردی کے سنگین مسئلے کو پس پشت ڈال کر وفاقی دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ الزامات اپنی جگہ سنجیدہ ہیں، مگر ان کی حقیقت اور ذمے داری کا تعین سیاسی تقریروں کے بجائے قابل تصدیق شواہد، انتظامی ریکارڈ اور غیر جانب دارانہ جائزے سے ہونا چاہیے، اگر قومی خزانے سے خطیر وسائل فراہم کیے گئے تو ان کے استعمال، نتائج اور نگرانی کا مکمل حساب بھی عوام کے سامنے آنا ضروری ہے۔ خیبر پختونخوا کی جغرافیائی حیثیت اس بحران کو مزید حساس بناتی ہے۔
افغانستان سے متصل سرحدی اضلاع، دشوار گزار پہاڑی علاقے، دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور مقامی آبادی کو درپیش خطرات نے صوبے میں امن و امان کو محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہنے دیا۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس کی تربیت، جدید آلات، قابل اعتماد انٹیلی جنس، مضبوط عدالتی نظام، سرحدی نگرانی اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک شعبے میں بھی مسلسل کمزوری رہے تو دوسرے اقدامات کے نتائج محدود ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو سیاسی وفاداری کے بجائے قومی ضرورت سمجھنا ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کی ذمے داری نہیں، یہ پورے ریاستی نظام کا مشترکہ امتحان ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی الزامات کی تردید اور گورنر راج کو غیر آئینی و غیر جمہوری قرار دینا بھی اس بحران کا اہم پہلو ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے اور صوبے کے مخصوص اضلاع میں بدامنی کی بنیاد پر پوری صوبائی حکومت کو غیر فعال کرنا غیر متناسب اقدام ہے۔
کسی سیاسی جماعت کے لیے صرف دہشت گردی کی مذمت کافی نہیں، اسے اپنے زیر انتظام علاقوں میں امن کے قیام، پولیس کی فعالیت، مشتبہ مالی سرگرمیوں کی روک تھام اور قومی سلامتی کے فیصلوں میں عملی تعاون کا ثبوت بھی دینا ہوتا ہے، اگر صوبائی حکومت کے پاس وفاقی الزامات کے خلاف شواہد موجود ہیں تو انھیں آئینی فورمز پر پیش کرکے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔
اس تمام صورت حال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا گورنر راج دہشت گردی کے بنیادی اسباب ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ آئینی اختیار کا استعمال وقتی طور پر انتظامی فیصلوں میں رکاوٹیں دور کرسکتا ہے، افسران کو متحرک کرسکتا ہے اور سیکیورٹی اداروں کے مابین رابطہ بہتر بنا سکتا ہے، لیکن دہشت گردی کا مستقل خاتمہ صرف اقتدار کی تبدیلی سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد، موثر پولیسنگ، فوری انصاف، روزگار کے مواقع، تعلیم، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور شدت پسند نظریات کے خلاف فکری مزاحمت بھی ناگزیر ہیں۔ ریاستی کارروائی کا مقصد شہریوں کو تحفظ دینا ہے، اس لیے ہر آپریشن میں عام آبادی کی سلامتی کو مقدم رکھنا ہوگا۔ جو خاندان پہلے ہی بدامنی، نقل مکانی اور معاشی محرومی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، انھیں مزید غیر یقینی صورت حال سے بچانا حکومت کی اولین ذمے داری ہے۔
آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی حکومت نے سنگین خطرات اور صوبائی آئینی مشینری کی ناکامی کو فیصلے کی بنیاد بنایا ہے۔ تاہم کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کی صحت کا انحصار صرف اس کے اعلان پر نہیں بلکہ اس کے قانونی جواز، طریقہ کار، مدت اور عملی ضرورت پر بھی ہوتا ہے۔ وفاق کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اختیار کے استعمال کے لیے کون سے شواہد بنیاد بنے، صوبائی نظام کی ناکامی کا تعین کس طریقے سے کیا گیا اور معمول کے آئینی انتظام کی بحالی کے لیے کیا شرائط مقرر کی گئی ہیں، اگر فیصلہ آئینی تقاضوں کے مطابق ہے تو شفافیت اور عدالتی جانچ سے اس کی قانونی حیثیت مضبوط ہوگی،اگر کسی پہلو میں ابہام ہے تو اسے دور کرنا بھی ریاستی ذمے داری ہے۔ آئین کسی حکومت کو غیر محدود اختیار نہیں دیتا، بلکہ ہر اختیار کے ساتھ حدود اور جواب دہی بھی وابستہ کرتا ہے۔
اسی تناظر میں عدلیہ کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے اس فیصلے کو عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ راستہ سیاسی احتجاج کے مقابلے میں زیادہ موثر اور آئینی اصولوں سے ہم آہنگ ہے، بشرطیکہ تمام فریق عدالتی عمل کا احترام کریں۔ عدالتوں کو قانونی سوالات کا جائزہ لینے کا موقع ملنا چاہیے، جبکہ وفاقی حکومت کو بھی اپنے فیصلے کے حق میں مکمل ریکارڈ پیش کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن یہ نہیں کہ ہر فیصلہ سب کی پسند کے مطابق ہو، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کو قانون کے دائرے میں حل کرنے کے راستے کھلے رہیں۔ سیاسی مخالفین کو محض اختلاف کی بنیاد پر دشمن سمجھنا یا ریاستی طاقت کو جماعتی برتری کے لیے استعمال کرنا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
افغانستان سے متعلق وزیراعظم کا مؤقف بھی قومی سلامتی کے تناظر میں قابل توجہ ہے۔ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنا دونوں ممالک کے تعلقات اور علاقائی استحکام کے لیے بنیادی شرط ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مؤثر سفارت کاری، قابل اعتماد معلومات کا تبادلہ اور سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے سفارتی دباؤ اور عملی اقدامات کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا ہوگا، تاکہ سرحدی آبادیوں کے تجارتی، سماجی اور انسانی معاملات غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہوں۔ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی اور عام افغان شہریوں کے ساتھ معاملات کو الگ رکھنا دانش مندی ہے۔
پاکستان کو اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور اپنی سلامتی کو اولین ترجیح دینا چاہیے۔اب وفاقی حکومت کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس غیر معمولی فیصلے کو محض سیاسی مخالفین پر برتری حاصل کرنے کا ذریعہ بننے سے کیسے روکتی ہے۔ چھ ماہ کی ابتدائی مدت کو غیر ضروری طوالت دینے کے بجائے واضح اہداف، قابل پیمائش نتائج اور باقاعدہ جائزے سے مشروط کیا جانا چاہیے۔
پولیس کی استعداد میں اضافہ، دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ، شہریوں کا تحفظ، قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد اور انتظامی شفافیت وہ پیمانے ہونے چاہییں جن پر اس بندوبست کی کامیابی پرکھی جائے۔ مشاورتی کونسل میں متعلقہ شعبوں کی مہارت، مقامی نمائندگی اور عوامی مسائل کے ادراک کو اہمیت دی جائے۔ صوبے کے منتخب نمائندوں اور سیاسی جماعتوں سے رابطے بھی برقرار رہنے چاہییں، کیونکہ دیرپا امن کے لیے انتظامی طاقت کے ساتھ سیاسی اعتماد بھی درکار ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی قومی ضرورت ہے اور دہشت گردی کے خلاف غفلت یا دانستہ عدم تعاون کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا، اگر شواہد سے ثابت ہو کہ صوبائی انتظامیہ نے اپنی آئینی ذمے داریاں پوری نہیں کیں اور قومی سلامتی کے تقاضوں میں رکاوٹ پیدا کی تو قانون کے مطابق جواب دہی ہونی چاہیے، لیکن یہ فیصلہ ثبوت اور قانونی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے، سیاسی نسبت یا الزام کی بنیاد پر نہیں۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو بھی اپنے غیر معمولی اختیارات کے استعمال میں احتیاط، شفافیت اور جواب دہی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ریاست کی قوت کا حقیقی معیار صرف یہ نہیں کہ وہ کسی حکومت کو غیر فعال کرسکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ شہریوں کو دہشت گردی سے محفوظ کرکے آئینی نظام کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
خیبر پختونخوا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بندوق کے مقابلے میں قانون، بداعتمادی کے مقابلے میں مکالمہ اور سیاسی کشمکش کے مقابلے میں قومی ذمے داری کو ترجیح دی جائے۔ یہی راستہ وفاق کی مضبوطی، جمہوریت کے استحکام اور عوام کے اعتماد کی بحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل