Loading
دنیا کے سب سے پہلے الیکٹرانک اسٹاک ایکسچینج کے عالمی شہرت یافتہ NASDAQ کے اسکرین پہ چار اکتوبر کے دن ٹائمز اسکوائر نیو یارک میں موجود ایک ایسی اسکرین جگمگائے گی جس میں پچیس ایسے ذہین افراد کے نام اور ان کے کارناموں کی تشہیر کی جائے گی جو کہ عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ماہرین ہیں، یہ پچیس افراد جن کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ OKTA جو ڈیجیٹل شناخت ، آئی کلاؤڈ اور سائبر سیکیورٹی اور IAM کا عالمی شہرت یافتہ پلیٹ فارم ہے۔
اس پلیٹ فارم سے اس اعزاز کا اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پہ کیا گیا یہ اعزاز ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو سافٹ ویئر کی تیاری اور ان کے معیار پہ ترقی کے پراجیکٹ مکمل کرتے ہیں اور ان ایجادات کو آسان بنانے کی مسلسل کوششوں کو جاری رکھتے ہیں۔ یہ لوگ انسانی نگرانی کے بغیر پیچیدہ کاموں کی نگرانی بھی کرتے ہیں اور AI سے بنائی گئی ڈیپ فیکس اور جعلی معلومات کے خلاف تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی بائیومیٹرک سیکیورٹی کو خطرے سے بھی بچاتے ہیں۔ ان پچیس ماہرین میں ایک ماہر شخصیت طارق ملک کا تعلق پاکستان سے ہے جنھیں 2026 میں بھی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے شعبہ میں کام کرنے والے پچاس افراد کی عالمی لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔
یہ وہی شخصیت ہیں جنھوں نے پاکستان میں نیشنل ڈیٹابیس اور رجسٹریشن اتھارٹی کی ترقی میں بنیادی مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ نادرا کا ادارہ جو شہریوں کا قومی شناختی ریکارڈ اور دوسرے معاملات دیکھتا ہے وہ اس ادارے کے دو دفعہ چیئرمین رہے ہیں۔آج کل وہ اقوام متحدہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ورلڈ بینک کے ٹیکنیکل ایڈوائزر بھی ہیں۔
انھوں نے پاکستان اور جرمنی سے اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔ان کا بنیادی شعبہ ڈیجیٹل شناخت ، بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل گورننس رہا ہے۔ ان کی نادرا کے ادارے میں ڈپٹی چیئرمین کی مدت ملازمت 2012 سے 2014 یعنی دو سال رہی، بعدازاں دوبارہ بطور چیئرمین اسی ادارے میں 2021 سے 2023 ان کی مدت ملازمت دو سال ہی رہی۔ ان کے دونوں ادوار میں نادرا کے ادارے کو جو استحکام ملا ہے، اس نے اس ادارے کو اس قابل بنا دیا کہ دوسرے ممالک بھی اب اپنے آئیڈنٹٹی سسٹم کے لیے تعاون مانگتے ہیں۔
طارق ملک کا دوسرا تعارف ان کے والد پروفیسر فتح محمد ملک کا بھی ہے۔ وہ پاکستان کے معروف اردو نقاد اور ادیب ہیں اور وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر بھی رہے ہیں۔ طارق ملک عالمی سطح پر مختلف ممالک کو ڈیجیٹل شناخت اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں اور ان کا کام کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ مختلف ملکوں کو اپنے علم اور تجربات سے فیضیاب کرتے ہیں۔ طارق ملک کو 2009 میں میلان، اٹلی میں ورلڈ انٹرنیشنل کانگریس کا ایوارڈ ملا، یہ بھی بین الاقوامی ایوارڈ مانا جاتا ہے۔ 2013 میں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے انھیں ستارہ امتیاز بھی دیا تھا۔
مارچ 2000ء میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نادرا کے نام سے ایک ایسے نئے ادارے کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد پاکستانیوں کی شناخت کو نئے سرے سے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کا اجراء کرنا اور ان کا ریکارڈ مرتب کرنا تھا، کارڈ کی ایک میعاد بھی رکھی گئی تھی۔ طارق ملک کو اس دور میں بھی کام کرنے کا موقع ملا تھا ، وہ 2008ء میں نادرا کے ڈپٹی چیئرمین بنے۔ اس دور میں اس ادارے میں بہت زیادہ اصلاحات کی گئیں۔ان کے دونوں ادوار کا جائزہ لیں تو ان کی قابلیت کی داد نہ دینا زیادتی ہے۔ ان کے پہلے دور میں اسمارٹ کارڈ متعارف کرایا گیا تھا۔
انھوں نے نادرا میں دنیا کے سب سے بڑے بائیو میٹرک رجسٹریشن منصوبہ کی نگرانی کی۔ انکم سپورٹ پروگرام میں ڈیجیٹل شناخت کے نظام کو سماجی پروگراموں کے لیے استعمال کیا جس کی وجہ سے خواتین کو با اختیار بنانا، بے گھر افراد کو تحفظ دینا، بدعنوانیوں کا خاتمہ کرنا اور غربت میں کمی جیسے پروگرام کامیاب ہوئے۔ پھر وہ دوسری دفعہ بھی استعفیٰ دے کر دوبارہ امریکا چلے گئے۔ وہ کئی برسوں سے مختلف حکومتوں اور عالمی اداروں کو ڈیجیٹل شناخت اور سول رجسٹریشن کے نظام کو بنانے میں مشاورت دیتے ہیں۔
انھوں نے سب سے پہلے آنکھوں کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کا انتہائی قابل اعتبار نظام، آئیرس، متعارف کروایا جس کی وجہ سے شہریوں کی شناختی معلومات میں دوہرے اندراج کے کسی بھی امکان کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ اس سسٹم سے پہلے انگلیوں کے نشانات پہ مبنی نظام ایک دہائی قبل رواج پا چکا تھا جسے مزید مستحکم بنانے کے لیے اس میں چہرے کی تصویر کی شناختی معلومات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
وہ پی پی پی کے پہلے دور میں ڈپٹی چیئرمین اور اسی حکومت میں آخری چند مہینوں میں مسلم لیگ ن کے دور میں چیئرمین رہے۔طارق ملک کی پاکستانی اور کینیڈین شہریت تھی۔ ان کی ملازمت کے دوران 2014 میں غیرملکی شہریت چھپانے کا ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا ، جو 2019 میں خارج کردیا گیا کیونکہ انھوں نے دانستہ اپنی شہریت نہیں چھپائی تھی اور ان کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا قومی شناختی کارڈ موجود ہے۔ طارق ملک نے 2014 میں استعفیٰ دے دیا۔ ان کا دوسرا استعفیٰ 2023 میں شہباز شریف حکومت میں دیا گیا تھا۔ بعدازاںوہ امریکا منتقل ہوگئے اور اقوام متحدہ میں بطور چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر شمولیت اختیار کرلی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل