Monday, October 12, 2026
 

ایمر جنسی کے بعد کا منظر نامہ؟

 



وفاق نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگا دیا ہے۔ جس کے بعد، کے پی میں تحریک انصاف کا تیرہ سالہ دور اقتدار ختم ہو گیا ہے۔ ایمرجنسی کے بعد گورنر نے اپنی گیارہ رکنی مشاورتی کونسل کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے اس ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان اس کھیل میں کون جیتا کون ہارا۔ سب سے پہلے تحریک انصاف کا جائزہ لیتے ہیں۔ معزول وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا آخری ٹوئٹ یہی تھا کہ اگر کے پی میں گورنر راج اور ایمر جنسی لگائی گئی تولوگ ترکی کو بھول جائیں گے۔ جنید اکبر کا بھی یہی موقف تھا کہ اگر ایمرجنسی لگائی گئی تو وفاق اور مقتدرہ مل کر بھی کے پی کو سنبھال نہیں سکیں گے۔ یہ بھی کہا گیا کہ تحریک انصاف کے پاس ایمرجنسی اور گورنر راج سے نبٹنے کے لیے پلان بی موجود ہے۔ اب جائزہ لیں کہ ان میں کونسی بات سچ ہوئی ہے۔ کیا تحریک انصاف ایمرجنسی کے بعد کے پی کو ترکی بنا سکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں نہیں۔ قارئین کے سمجھنے کے لیے سہیل آفریدی ترکی کی مثال کیوں دے رہے تھے۔ جب ترکی کے صدر طیب اردگان کے خلاف وہاں کی فوج نے بغاوت کی تو ترکی کی عوام نے اس بغاوت کو ناکام بنا دیا تھا۔ ترکی کے لوگ طیب اردگان کی ایک کال پر باہر نکل آئے تھے۔ سہیل آفریدی کا خیال تھا کہ اس کی کال پر کے پی، کے عوام بھی ترکی کے عوام کی طرح ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ایمرجنسی اور گورنر راج کو ناکام بنا دیں گے۔ جنید اکبر کا بھی یہی خیال تھا اور کے پی میں سہیل آفریدی کے ساتھیوں کا بھی یہی خیال تھا۔ اس لیے یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ایسا ہوا ہے۔ ایسا نہیں ہوا ہے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج لگنے کے بعد کے پی میں کہیں بھی کوئی بہت بڑا احتجاج نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ترکی بنانے کی حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے۔ لوگ باہر نہیں نکلے ہیں بلکہ لانگ مارچ میں جو لوگ تھے وہ بھی مردان سے گھر چلے گئے اور لانگ مارچ کا کنٹینر بھی پولیس نے قبضہ میں لے لیا۔ میری رائے میں لانگ مارچ کو اتنے دن سڑک پر رکھ کر تحریک انصاف نے اپنی سیاسی طاقت کو پہلے ہی اتنا تھکا دیا ہوا تھا کہ ان میںاب مزاحمت کی مزید طاقت ہی نہیں تھی۔ لوگ پہلے ہی سڑکوں پر تھے اور تھک گئے تھے۔ اس لیے مردان میں لانگ مارچ کے شرکا کو واپس گھر بھیجنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ لوگ گھر چلے گئے۔ دوسرا ایمرجنسی لگنے کے بعد پوری تحریک انصاف نے لوگوں کو پشاور پہنچنے کی کال دی۔ لیکن کوئی پشاور نہیں پہنچا۔ لوگ پشاور نہیں آئے۔ لوگوں نے تحریک انصاف کی کال پر گورنر ہاؤس پشاور کا گھیراؤ نہیں کیا۔ پشاور میں کوئی احتجاجی دھرنا نہیں ہوا۔ کے پی کے دیگر بڑے شہر بھی عمومی طور پر پرامن رہے۔ ہنگو اور خیبر میں لوگ نکلے۔ لیکن ایک تو ان کی تعداد بہت کم تھی۔ دوسرا وہ نکلے احتجاج کیا اور گھر چلے گئے۔ پولیس کے ساتھ کوئی بڑا تصادم نہیں ہوا۔ کے پی میں تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریاں ایمرجنسی لگنے سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔ اور ایمر جنسی کے بعد تو گرفتاریوں میں شدت آگئی کچھ گرفتار ہو گئے ہیں۔ کچھ روپوش ہو گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کچھ فرمائشی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں تا کہ نام بھی شہدا میں لکھا جا سکے۔ لوگوں نے گرفتاریوں پر بھی کوئی رد عمل نہیں دیا۔ جنید اکبر اسلام آباد کو سومنات بنانے کی بات کرتے رہے۔ لیکن ان کی حکمت عملی کا اب جائزہ لیا جائے تو مکمل ناکام نظر آئے گی۔ اسلام آباد پہنچنا تو دور کی بات وہ تو اسلام آباد کی کال بھی نہیں دے سکے۔ اب دوسرے فریق حکومت کی حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہیں۔ وفاق نے ایک متبادل سیٹ اپ کی مکمل تیاری کی ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی کے پی میں متبادل سیٹ اپ لے آئے۔ نئی مشاورتی کونسل کا اعلان کر دیا گیا۔ ان کے نام سامنے آگئے اور پھر چند گھنٹوں میں ہی گورنر کی زیر صدارت مشاورتی کونسل کا اجلاس بھی ہوگیا۔ مطلب نظام نے کام کرنا شروع کر دیا۔ پھر بیوروکریسی کے تبادلوں کا ہوم ورک بھی مکمل تھا۔ چند گھنٹوں میں نئے افسر تعینات ہو گئے۔ نئی انتظامیہ لگ گئی اور اس نے چارج بھی سنبھال لیا۔ اس لیے وفاق کی تیاری مکمل نظر آئی۔ ان کے پاس روڈ میپ تیار تھا۔ جس پر بغیر کیس بحران کے عمل بھی ہوگیا۔ ایمر جنسی کے نفاذ پر تحریک انصاف کی سیاسی تنہائی بھی سامنے آئی۔ ملک کی کوئی بھی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آئی۔ یہی تحریک انصاف کی سیاسی ناکامی کی بڑی وجہ ہے۔ آپ دیکھیں اس بار قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی بھی ساتھ نظر نہیں آئے۔ وہ نہ تو سہیل آفریدی کے کنٹینر پر موجود تھے اور نہ ہی ایمرجنسی کے بعد ان کا کوئی فعال کردار سامنے آیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ایمرجنسی کے خلاف سیاسی بیان تو دیا ہے لیکن انھوں نے کوئی احتجاج کر نے کا اعلان نہیں کیا۔ یہی صورتحال ایمل ولی خان کی بھی نظر آئی ہے۔ جماعت اسلامی کی بھی یہی پالیسی سامنے آئی ہے۔ ویسے بھی جماعت اسلامی کے نزدیک ایمرجنسی سے زیادہ اہم بات پٹرولیم لیوی ہے۔ ویسے بھی جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی کی تحریک میں تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کا کوئی رسمی ساتھ بھی نہیں دیا تھا۔ اب جماعت اسلامی بھی رسمی ساتھ نہیں دے رہی۔ سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا۔ ایمرجنسی لگ گئی اور چل بھی پڑی۔ یہ وفاق کی پہلی کامیابی ہے۔ تحریک انصاف ایمرجنسی کے خلاف کوئی قابل ذکر ردعمل نہیں دے سکی۔ یہ تحریک انصاف کی ناکامی ہے۔اگر تحریک انصاف نے اس طرح اپنی حکومت ختم ہی کرنی تھی تو 2024ء کے انتخابات کے بعد انھوں نے حکومت بنائی ہی کیوں۔ شائد تب حکومت نہ بناتے اور کہتے کہ ہمیں انتخابی نتائج قبول نہیں۔ یہ زیادہ بہتر تھا۔ اگر دیکھا جائے تو 2024ء میں کے پی میں حکومت بنا کر تحریک انصاف نے انتخابی نتائج کو قبول کیا اور سارے انتخابات کو قابل قبول بنا دیا۔ جس کا تحریک انصاف کے مخالفین کو براہ راست فایدہ ہوا۔اب ان کی حکومت ان کے مخالفین کے لیے درد سر بن چکی تھی۔ وہ اس سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ تحریک انصاف نے اپنی حکومت پلیٹ میں رکھ کو اپنے سیاسی مخالفین کو دے دی۔ اس وقت حکومت کو بچانا تحریک انصاف کے مفاد میں تھا اور تحریک انصاف نے خود ہی اپنی حکومت کو ختم کرنے کا ماحول بنا دیا۔ اس لیے دیکھا جائے تو یہ تحریک انصاف کی سیاسی ناکامی ہی کہی جائے گی۔ کیا یہ ایمرجنسی چھ ماہ میں ختم ہو جائے گی۔ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ جس کا ابھی کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ اگر لمبی چلانے پڑی تو کوئی آئینی ترمیم بھی ہو سکتی ہے۔ اور اگر اس دوران سیاسی طورپر معاملات کنٹرول میں آگئے تو پھر نیا سیٹ اپ بھی آسکتا ہے۔ اس ضمن میں اگلے چند ماہ بہت اہم ہونگے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل