Tuesday, October 13, 2026
 

پولیس کی غفلت سے زیر التوا مقدمات میں اضافہ، عدالتوں پر بوجھ بڑھ گیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

 



لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں چھ سال تک گواہان پیش نہ کرنے کے خلاف درخواست پر آئی جی پنجاب سے زیر التوا چالان اور زیر تفتیش مقدمات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے 19 اکتوبر کو پنجاب پولیس کا متعلقہ میکنزم بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے محمد صائم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تھانہ رائیونڈ سٹی میں 2020 سے دوہرے قتل کا مقدمہ درج ہے، درخواست گزار چھ سال سے جیل میں قید ہے، تاہم پولیس کی جانب سے تفتیش مکمل نہیں کی جا رہی اور نہ ہی مقدمے کا ٹرائل مکمل ہو سکا ہے۔ عدالت کے حکم پر آئی جی پنجاب پولیس پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے مقدمہ دیکھا ہے؟ پولیس افسران کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے، پولیس کی نااہلی کے باعث عدالتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی غفلت کے باعث عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ ان مسائل کو ختم کرنے کے لیے پولیس کے پاس کیا میکنزم ہے؟ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ مقدمے کا چالان دو سال تک زیر سماعت رہا۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملزمان کب پکڑے گئے اور پولیس نے انہیں پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ کے مطابق جب مقدمے میں شہادتیں ریکارڈ ہونے لگتی ہیں تو پولیس نیا ملزم گرفتار کرلیتی ہے، اسی وجہ سے چھ سال گزرنے کے باوجود مقدمے کا ٹرائل مکمل نہیں ہوسکا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں 11 ملزمان ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا میری عدالت سست ہے؟ جج کام کر رہا ہے، لیکن پولیس کی غفلت کی وجہ سے مقدمات آگے نہیں بڑھ پاتے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب سے زیر التوا چالان اور زیر تفتیش مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے پولیس کا طریقہ کار اور میکنزم بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئی جی پنجاب کی رپورٹ چیمبرز میں دیکھی جائے گی، جبکہ مقدمے کی تفتیش مکمل کرنے اور گواہان کو پیش کرنے کے لیے مہلت دے دی۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ چھ سال سے جیل میں قید ہونے اور تفتیش و ٹرائل مکمل نہ ہونے کے باعث اس کی درخواست ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل