Tuesday, October 13, 2026
 

وزیر خزانہ کی سعودی فنڈ اور آئی ایف سی حکام سے اہم ملاقاتیں، سرمایہ کاری پر گفتگو

 



وزیر خزانہ  محمد اورنگزیب نے سعودی فنڈ اور آئی ایف سی حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، جس میں سرمایہ کاری سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی فنڈ برائے ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے ملاقات میں پاکستان کے لیے سعودی عرب کی دیرینہ معاونت پر اظہار تشکر کیا اور سعودی عرب میں حالیہ واقعات کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کی۔ اس اہم ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال بہتر ہو رہی ہے ۔ ملک نے بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کرلی ہے۔ ملاقات میں نجی شعبے کی شمولیت مضبوط بنانے، دوطرفہ سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے پر پیش رفت اور آئل ریفائنریوں کی بہتری کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سعودی فنڈ برائے ترقی کے تعاون سے پاکستان میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کو اطمینان بخش قرار دیا گیا۔ فریقین نے نئے منصوبوں کی جامع فہرست تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ سعودی فنڈ نے اپنے دائرۂ کار کے اندر پاکستان کی مسلسل معاونت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے علاقائی نائب صدر عماد فخوری سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے آئی ایف سی کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں آئی ایف سی کے بڑھتے ہوئے منصوبوں، چھوٹے کاروباروں کے لیے مالی معاونت، کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ منڈیوں اور گرین و ڈیجیٹل بانڈز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ریکوڈک منصوبے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ منصوبے کی مالی معاونت میں آئی ایف سی کے قائدانہ کردار کو سراہا گیا۔ علاوہ ازیں معدنی وسائل سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور مقامی سطح پر ان کی قدر میں اضافے پر بھی گفتگو ہوئی۔ فریقین نے سستے مکانات کی فراہمی اور ڈویلپرز کے لیے مالی معاونت کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بہتر ذخیرہ کاری، کولڈ چینز اور الیکٹرانک گودام رسیدوں کی بنیاد پر مالی سہولتوں کا جائزہ لیا گیا، جبکہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں ضابطہ جاتی معیار بہتر بنا کر سرمایہ کاری اور ادویات کی برآمدات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ پانی کے شعبے میں سرکاری و نجی شراکت داری، بجلی کی جدید میٹرنگ اور صوبائی منصوبوں کے لیے مالی معاونت کے مختلف طریقۂ کار کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل