Tuesday, October 13, 2026
 

آذربائیجان میں باحجاب طالبات کو کلاس سے باہر کردیا؛ طلبا سڑکوں پر نکل آئے؛ 37 گرفتار

 



آذربائیجان میں اسکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو کلاسوں میں داخلے سے روکنے کے خلاف احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سمیت مختلف علاقوں میں طلبا نے احتجاج کرتے ہوئے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور حجاب پہننے والی ساتھی طالبات سے اظہار یکجہتی کیا۔ احتجاج کی اطلاعات اسکول نمبر 322 اور اسکول نمبر 69 کے علاوہ مسالی اور جلیل آباد کے علاقوں سے بھی سامنے آئیں۔ بعض مقامات پر والدین نے پابندی کے خلاف اپنے بچوں کو اسکولوں سے نکالنے کی دھمکی بھی دی۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنازع 21 ستمبر کو منظور ہونے والی کابینہ کی قرارداد نمبر 309 کے بعد شروع ہوا جس میں اسکول یونیفارم کے ضوابط سے متصادم اضافی لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس قرارداد میں حجاب کا واضح ذکر نہیں تاہم بعض اسکولوں میں اس پر عمل درآمد کے دوران طالبات کو سر ڈھانپنے سے روکے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس پر طلبا نے شدید احتجاج کیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ لباس کے ضوابط کا مقصد ملک کے سیکولر تعلیمی نظام کے مطابق یکساں یونیفارم کو یقینی بنانا ہے جبکہ ناقدین اس اقدام کو مذہبی آزادی اور تعلیم تک رسائی کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ آذربائیجان کی وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 12 اکتوبر تک تعلیمی اداروں میں ضوابط کے نفاذ سے متعلق واقعات میں 37 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حکام نے الزام لگایا کہ بعض افراد نے تعلیمی عملے سے تصادم کیا، اداروں کو نقصان پہنچایا اور عوامی نظم و ضبط متاثر کرنے کی کوشش کی۔ اس معاملے میں فوجداری مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اب صرف آذربائیجان تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ اس سے باہر بھی پھیل گیا ہے۔ ترکیہ کے شہر استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے باہر بھی مظاہرہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ آذربائیجان میں تقریباً 96 فیصد آبادی مسلمان ہے تاہم آئین آذربائیجان کو سیکولر ریاست قرار دیتا اور تمام مذاہب کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل