Loading
نارتھ ناظم آباد میں نوجوان کی مبینہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے معاملے پر ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس اور ایس آئی یو صدر کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا پولیس ذرائع کے مطابق کشیدگی کے دوران ڈی ایس پی شادمان کا سر پھٹ گیا جبکہ دونوں جانب سے افسران اور اہلکاروں کو تحویل میں لینے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق نوجوان کی مبینہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں ملوث ملزمان کی لوکیشن پر ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس اور ایس آئی یو کی ٹیمیں پہنچیں، جس کے بعد تیموریہ پولیس نے ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی یو صدر کی ٹیم نے ملزمان کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس سے رابطے کے بجائے مبینہ طور پر دھاوا بول دیا جس کے بعد تنازع شدت اختیار کرگیا۔
اس دوران ڈی ایس پی منہاج، اے ایس آئی راحیل قریشی اور اہلکار اسد کو ایس آئی یو صدر منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے ایس آئی یو کی پولیس موبائل کو افسران اور اہلکاروں سمیت ناظم آباد تھانے منتقل کردیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق منتقل کیے جانے والوں میں ایس آئی یو کے ایڈمن ارشد جنجوعہ، ایس ایچ او ممتاز مہر، پولیس افسر نور اللہ اور ذوالفقار شامل ہیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈی ایس پی منہاج کے سر پر چوٹ آنے کے باوجود انہیں طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ واقعے کے بعد ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کی بھاری نفری رات گئے ناظم آباد تھانے پہنچ گئی جہاں ایس آئی یو صدر کے ڈی ایس پی ایڈمن ارشد جنجوعہ اور ڈی ایس پی نسیم کمال کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔
ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سومرو سے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم رابطہ نہ ہوسکا۔
دوسری جانب ایس آئی یو صدر کے ایس ایچ او ممتاز مہر نے ان اطلاعات کو قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ معاملے میں کوئی صداقت نہیں۔
واقعے سے متعلق پولیس حکام کا باضابطہ مؤقف اور نوجوان کی مبینہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے مقدمے کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل