Loading
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت میں ہے جب کہ اجلاس کے آغاز پر وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی، وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے تحریک پیش کی، اپوزیشن کی جانب سے تحریک کی مخالفت کی گئی۔
تحریک کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق کی قرارداد ایوان میں پیش کی گئی، صدر مملکت کے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق کی قرارداد طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی قرارداد پر بحث شروع ہوئی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی ایوان میں پہنچ گئے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے بعد اس کے نفاذ کا ڈیکلریشن دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ہوتا ہے، ہم نے بڑی سوچ بچار کے بعد ایمرجنسی کا نفاذ کیا، اندرونی خلفشار، سرحد پار سے دراندازی اور صوبے کی حکومت اقدامات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد دس دن میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے، بہت سارے دوستوں نے اسے بارہ اکتوبر سے تشبیہہ دی، کابینہ میں اس معاملے پر سیر حاصل بحث کی گئی ، خیبرپختونخوا کے حالات ملکی سلامتی کے خطرہ بنتے جارہے تھے، کئی سالوں میں دہشتگردی کے اضافے کی وجوہات ہیں۔
افواج پاکستان اور پولیس نے قربانیاں دے کر کامیابی حاصل کی تھی، کامیابی کے باوجود حالات دوبارہ خراب ہوگئے، ایک سال میں 3700 سے زائد دہشت گرد واقعات ہوئے۔
وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ آئینی تقاضا ہے کہ صدر مملکت جب ایمرجنسی نافذکریں تو اس کی دس روز میں منظوری دونوں ایوانوں سے لینا ضروری ہے، ہمیں کہا گیا کہ بارہ اکتوبر 1999جیسی ایمرجنسی لگادی گئی ہے، ہمیں کہا گیا کہ گیارہ اکتوبر 2026کو بھی جمہوری حکومت کو ختم کرکے ایمرجنسی لگا دی گئی، کے پی کے میں دہشتگردی جس طرح سے بڑھی وہ سب کے سامنے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کو جو ہوا ملی اس کی وجہ سیاسی جماعت کی دہشتگردوں سے نظریاتی ہم آہنگی تھی، کابینہ کا اجلاس اڑھائی گھنٹے جاری رہا ، سال 2026سے 3787دہشتگردی واقعات ہوئے، سال 2021 سے لیکر 2024تک دہشتگردی کے بے شمار واقعات ہوئے، وزیر اعلی نے شہدا کے جنازوں میں شرکت کی بجائے سیاسی مقاصد کے لئے ملکی سطح پر دورے شروع کردیے، جب صورتحال ایسی ہوتو پھر ردعمل بھی ویسا ہی ہونا چاہئے۔
اس دوران حمزہ شہباز شریف بھی ایوان میں پہنچ گئے جب کہ وزیراعظم شہباز شریف، بلاول بھٹوزرداری اور مولانا فضل الرحمان ایوان نہ پہنچ سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل