Loading
نجکاری ڈویژن نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے منتقلی اختیار کی سب کمیٹی کو جواب جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی نئی منظوری درکار نہیں۔
نجکاری ڈویژن کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل نے 2011 میں بجلی پیدا کرنے والی تین اور بجلی کی نو تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی منظوری دی تھی۔ یہ فیصلہ بدستور برقرار ہے۔
ڈویژن نے 21 جون 2021 کو مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے منظور کردہ قومی انرجی پالیسی کا حوالہ بھی دیا، جس میں سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نجکاری سمیت مختلف آپشنز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ قومی انرجی پالیسی کی شق 5.9.4 کے تحت حکومت سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نجکاری کے مختلف طریقوں کا جائزہ لے گی۔ نجکاری ڈویژن کے مطابق 2011 کا فیصلہ اور 2021 کی پالیسی دونوں بدستور نافذ العمل ہیں۔
نجکاری ڈویژن نے مزید بتایا کہ لاء ڈویژن نے 25 ستمبر 2026 کے خط میں تصدیق کی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے 2011 کے فیصلے کی روشنی میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے نئی منظوری ضروری نہیں۔
اسی قانونی مؤقف کی بنیاد پر نجکاری ڈویژن نے دوبارہ واضح کیا ہے کہ 2011 کے فیصلے اور 2021 کی قومی انرجی پالیسی کے تحت نئی منظوری لینے کی ضرورت نہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل