Wednesday, October 14, 2026
 

وفاقی پولیس میں انسپکٹرز کی بھرتیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

 



اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی پولیس میں انسپکٹرز کی بھرتیوں سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت عالیہ نے وفاقی پولیس میں انسپکٹرز کی بھرتیوں کے عمل کو عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ براہ راست انسپکٹرز کی بھرتی کا عمل کیس کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس، ایڈیشنل آئی جی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف کمشنر، ڈپٹی سیکرٹری داخلہ، پبلک  سروس کمیشن کو بھی جواب کے لیے نوٹس جاری کردیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ایاز شوکت نے 39  سب انسپکٹرزکی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری کیا۔ درخواستگزاروں نے وزارتِ داخلہ کا 29 اپریل کا نوٹیفکیشن اورپبلک سروس کمیشن کا 11 اگست کا اشتہار چیلنج کررکھا ہے۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق درخواست گزاروکیل نے انسپکٹر کے عہدے پر براہِ راست بھرتیوں کو پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 7(3) کے منافی قرار دیا۔ وکیل کے مطابق پولیس آرڈر 2002 اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں نافذ العمل ہے۔  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2019 کے فیصلے میں پولیس آرڈر 2002 کے نفاذ کو تسلیم کیا تھا۔ حکم نامے  میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کے مطابق انسپکٹر کے عہدے پر براہِ راست بھرتیوں کی قانون میں گنجائش نہیں ہے۔ درخواستگزران کے مطابق بھرتیوں کا عمل جاری رہا تو قانونی طریقہ کار کے خلاف تقرریاں ہو سکتی ہیں۔ اسلام آبادہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد انسپکٹرز کی بھرتیوں سے متعلق اس درخواست پر مزید سماعت 28 اکتوبرکو ہوگی۔ عدالت نے قرار دیا کہ بھرتیوں کے عمل میں اٹھائے جانے والے اقدامات درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گے۔ انسپکٹرز کی براہِ راست بھرتیوں کا معاملہ قانون کی تشریح اور پولیس آرڈر 2002 کے اطلاق سے متعلق ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل