Wednesday, October 14, 2026
 

صنعا میں بڑی کارروائی کا خدشہ؟ سعودی اتحاد نے انخلا کا حکم جاری کردیا

 



صنعا / ریاض: یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان حملوں میں شدت آگئی ہے۔ سعودی اتحاد نے جولائی کے بعد پہلی مرتبہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے لیے انخلا کا حکم جاری کیا ہے، جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے بدھ کو بتایا کہ ملک کے مشرقی حصے میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک عمارت پر حملے کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ دوسری جانب سعودی دارالحکومت ریاض میں حوثیوں کے داغے گئے میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ گرنے سے چار افراد زخمی ہوگئے۔ اس سے ایک روز قبل، منگل کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مغربی یمن میں تیل کی تنصیبات سمیت حوثیوں سے منسلک اہداف پر حملے کیے تھے۔ یہ کارروائیاں سعودی سرزمین پر کئی برسوں کے دوران ہونے والے سب سے ہلاکت خیز حملے کے جواب میں کی گئیں۔ صنعا، ذمار اور صعدہ میں حوثیوں کی تنصیبات نشانہ سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا اور مغربی صوبوں ذمار اور صعدہ میں حوثیوں کی ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو ان کی جنگی سرگرمیوں کے لیے رسد فراہم کرتی تھیں۔ ترجمان کے مطابق ان تنصیبات کو سعودی عرب، یمن، بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے اور اہم بحری گزرگاہوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ سعودی اتحاد کی جانب سے صنعا کے لیے انخلا کا حکم جولائی کے بعد پہلی ایسی کارروائی ہے۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں انخلا کے حکم سے متاثرہ علاقوں، شہریوں کی تعداد یا ممکنہ کارروائی کے وقت کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی آرامکو کی عمارت پر حملے، ریاض میں میزائلوں کے ملبے سے شہریوں کے زخمی ہونے اور سعودی اتحاد کی جوابی کارروائیوں نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی تنصیبات پر حملے نہ صرف متعلقہ فریقوں کی معیشت بلکہ خطے میں تیل کی ترسیل اور بحری سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔ تاہم تازہ واقعات میں مجموعی مالی نقصان اور توانائی کی فراہمی پر پڑنے والے اثرات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل