Wednesday, October 14, 2026
 

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے سائنسی تحقیق ناگزیر ہے، مصدق ملک

 



وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان گلیشیئرز کے پگھلاوٴ، سطحِ سمندر میں اضافے اور شدید موسمی واقعات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور سائنسی تحقیق ناگزیر ہیں۔ آئس لینڈ میں آرکٹک اسمبلی 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سرحدوں کی پابند نہیں، اس لیے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی انصاف اور ماحول کے تحفظ کے لیے عالمی شراکت داری کا حامی ہے۔ آرکٹک اور ہمالیائی خطوں کے درمیان تعاون کو فروغ دے کر گلیشیئرز کے پگھلاوٴ کے اثرات سے نمٹنے میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے موٴثر انداز میں نمٹنے کے لیے سائنس دانوں اور پالیسی سازوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ تحقیق، علم اور جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی بھی موسمیاتی تبدیلی کے حل کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی ٹیکنالوجی اور ماحول دوست کاروبار کے فروغ کے لیے عالمی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار اقدامات کیے جا سکیں۔ مصدق ملک نے بتایا کہ پاکستان نے عالمی محققین اور طلبہ کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کے لیے ورچوئل گرین یونیورسٹی کے قیام کی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد علم اور تحقیق کے تبادلے کے مواقع بڑھانا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل