Loading
اسرائیل کے جنوبی شہر کریات گت میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی انٹیل کی فیکٹری میں دھماکے اور آگ لگنے کے نتیجے میں تین کارکن شدید زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل اور دیگر مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکا بدھ 14 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے دوران پیش آیا۔
واقعے کے وقت وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی شہر کے دورے پر تھے دھماکے کے بعد خطرناک کیمیائی مادے کے اخراج کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
تینوں زخمی ملازمین کے جسم پر جھلسنے کے شدید زخم آئے۔ دو دھماکے کے بعد بے ہوش ہوگئے تھے اور ان کی نبض بند ہو گئی تھی۔
طبی عملے نے فوری طور پر سی پی آر اور برقی جھٹکوں کے ذریعے ان کی سانس اور دل کی دھڑکن بحال کی۔ دونوں کو بے ہوشی کی حالت میں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔
پولیس اور امدادی اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں گیس سلنڈر پھٹنے کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے۔ کسی حملے کے شواہد نہیں ملے۔
نائٹروجن ٹرائی فلورائیڈ کے اخراج کا خدشہ
اسرائیلی فائر اینڈ ریسکیو سروس نے بتایا کہ واقعے میں نائٹروجن ٹرائی فلورائیڈ گیس کے ممکنہ اخراج کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
یہ ایک بے رنگ گیس ہے جو سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے پر نقصان دہ ہوسکتی ہے اور اس میں آکسیڈائزنگ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔
حکام نے خطرناک مادوں سے نمٹنے میں تربیت یافتہ خصوصی ٹیمیں تعینات کیں، جبکہ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔
شہری انتظامیہ نے مقامی رہائشیوں کو جائے وقوعہ سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
تحقیقات جاری، دھماکے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی
پولیس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا گیس سلنڈر پھٹنے سے دھماکا ہوا یا کسی تکنیکی خرابی کے باعث خطرناک مادہ خارج ہوا۔
حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا کیمیائی گیس کے اخراج سے آس پاس کے علاقے کو کوئی خطرہ لاحق ہوا۔
واضح رہے کہ کریات گت میں انٹیل کا پلانٹ کمپنی کی اہم پیداواری تنصیبات میں شامل ہے جہاں کمپیوٹر پروسیسرز اور دیگر سیمی کنڈکٹر چپس تیار کی جاتی ہیں۔ کمپنی کی جانب سے واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل