Loading
دفترخارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بھارت کے جارحانہ اور دھمکی آمیز بیانات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا طرز عمل جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے ناقابل قبول ہیں، ایسے حملے علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا، پاکستان اور عمان کا مختلف اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان 5 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے جن سے دیرینہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی روس کے وزیر داخلہ سے ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور روس کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور کثیرالجہتی فورمز پر مسلسل تعاون کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔
انہوں بتایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، نائب وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم خطرات کے تدارک کے لیے اقدامات کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ وزارت خارجہ اور ایچ ای سی کے درمیان ڈیجیٹل خدمات کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں اور اسحاق ڈار نے قونصلر خدمات میں بہتری کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحیت کی دھمکیوں پر مبنی اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کرتے ہیں، بھارت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اس کی بالادستی کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں اور اس کا جارحانہ طرز عمل جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان نے خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، پاکستان کسی بھی غیر دانش مندانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، پاکستان کے امن کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت گزشتہ سال کے تجربے سے سبق سیکھے، جارحانہ طرز عمل اور خطرناک بیان بازی ترک کرے، خطے میں پائیدار امن کے لیے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔
کشمیر پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات غیر قانونی اور کالعدم ہیں، بھارت نے ان اقدامات کے ذریعے جموں و کشمیر کو حصوں میں تقسیم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدامات متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے، جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور اس کی حتمی حیثیت کا تعین سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہونا ہے۔
غیر قانونی ہجرت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستانی اقدامات پر 18 ماہ کے دوران یورپ جانے والے غیر قانونی تارکین وطن میں 64 فیصد کمی ہوئی ہے، پاکستان نے سرحدی انتظام بہتر بنانے، ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے ہیں جنہیں حالیہ دورہ پاکستان کے دوران یورپی کمشنر نے بھی سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان میں ہجرت اور نقل و حرکت اہم ستون ہیں، غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے ساتھ محفوظ، منظم اور قانونی ہجرت کے مواقع بڑھانا اہم ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت اور نقل و حرکت سے متعلق مکالمے کا آغاز نومبر 2022 میں ہوا جو دونوں فریقین کے لیے یکساں مفاد کا ذریعہ ہے، یورپ کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے جبکہ پاکستان میں افرادی قوت دستیاب ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل