Loading
غزہ کے بلکتے، تڑپتے، بھوک سے نڈھال بچے جن کے بدن پر زخموں نے خون کے بیل بوٹے بنا دیے ہیں وہ تڑپ رہے ہیں لیکن دنیا کے حکمرانوں کو نظر نہیں آتے ہیں جبکہ مسلم امہ کفار سے زیادہ طاقتور ہے۔
جذبہ ایمان کی طاقت نے ان کے اجسام کو فولادی بنا دیا ہے، وہ جہاد کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ حکمران اشارہ تو کریں، اپنے مسلم بھائیوں کو بچانے کے لیے دوڑتے چلے جائیں گے۔ عوام کا دل روتا ہے۔
میں سمجھتی ہوں یہ امتحان کے مرحلے سے گزر رہے ہیں، آزمائشوں میں مبتلا کر دیے گئے ہیں، وہ دنیا کی مختصر زندگی کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔ موت عبرت ناک سبق ہے، جس سے اتنا ضرور سیکھا جا تا ہے کہ آج ہمارے ساتھی اس مادی دنیا سے رخصت ہو کر دائمی زندگی کی طرف روانہ ہو گئے ہیں، کل ہماری بھی باری ہے تو ہم ایسا کر جائیں کہ ہمارے لوگ اطمینان کا سانس لے سکیں اور اللہ ان سے راضی ہو جائے، اگر اللہ راضی ہو جاتا ہے تو منزل آسان ہے، جنت قریب ہے اور جنت کی آسائشیں بندہ مومن کی منتظر ہیں۔
اسلام سے دوری نے خونی رشتوں کی شناخت کو بھلا دیا ہے۔احسن آباد کے واقعے کو مدتوں نہیں بھلایا جا سکے گا۔ ڈاکٹر ، ان کی اہلیہ اور تین بچوں کی موت کا اس وقت پتا چلا جب ان کے جسموں سے تعفن اٹھنے لگا ا ور بدبو دور تک پھیلی، تب اہل محلہ نے پولیس کو اطلاع دی۔
یہ کیسے ظالم پڑوسی تھے جب ڈاکٹر کی مسز نے اپنا فریزر بیچنے کے لیے اہل محلہ یا چند گھرانوں میں جا کر اس کی فروخت کی بات کی تو لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی فیملی بہت برے حالات سے گزر رہی ہے۔
دو ہزار کی مدد سے مایوسی، دکھ اور بھوک دور نہیں ہو سکتی تھی۔ لوگ آپس میں مل کر اس مسئلے پر بات کرتے ،چندہ جمع کرتے ،اگر ہزار پانچ یا سو دو سو لوگ ازراہ ہمدردی دے دیتے تو یقینا ایک کثیر رقم جمع ہو سکتی تھی، اس کے ساتھ ہی کئی ادارے ہیں جو ان سے افلاس زدہ خاندان کی امداد کی بات کرتے، ان کاموں میں تھوڑی سی محنت تو ہوتی ہے لیکن ایک خاندان بچ جاتا۔ کس کسمپرسی میں انھوں نے اپنی جانوں کو قربان کیا ہوگا۔
موت کو گلے لگانا آسان نہیں ہوتا، بڑے دل گردے کا کام ہے کہ پہلے بچوں کو اور پھر خود کو اذیت سے ہمکنار کرنا اور ایک ایسی موت کو گلے لگانا جو اذیت کا باعث بنے ، لیکن ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آ سکی ہے کہ ان کی اموات کی وجہ خودکشی ہی تھی ۔
لیکن حالات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انھوں نے نجات کا راستہ خود کشی کو ہی جانا، حالات جیسے بھی ہوں صبر اور برداشت سے کام لینا ضروری ہے۔ مایوس لوگوں کو اللہ سے امید ضرور رکھنی چاہیے کہ کوئی نہ کوئی حل ضرور نکلے گا۔ وہ رحیم و کریم ہے کوئی سبیل ضرور پیدا کرے گا۔
ڈاکٹر صاحب کو جب گردوں کے کینسر کا پتا چلا تو انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ آج کل بڑے سے بڑے مرض کا علاج ممکن ہے، پیوندکاری حتیٰ کہ دل کے امراض ، اوپن ہارٹ سرجری، ایڈز جیسی بیماری سب کا ہی علاج ہے اور پھر قرآن پاک تو خود تمام بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ بڑی بڑی تکلیفوں میں مبتلا مریض اللہ کا کلام پڑھنے اور سننے سے شفا پا جاتے ہیں۔ افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر کے خاندان کو سات سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ایک دوسرے کی خبر نہیں تھی۔یقینا یہ بہت بڑا المیہ ہے ۔
مسائل کا حل خودکشی میں نہیں ہے بلکہ حالات سے مقابلہ کرنے میں ہے جب مایوسی حد سے زیادہ بڑھ جائے کوئی راستہ نظر نہ آئے تو کسی فلاحی ادارے کی مدد لی جا سکتی ہے۔ سرکاری اسپتال اور خاص طور پر جب گردوں کا مرض لاحق ہو جائے تو ایس آئی یو ٹی اور ڈاکٹر ادیب رضوی کے اسپتالوں میں جانے کی کوشش ضرور کی جائے۔
کچھ بھی کریں اپنی اور اپنے بچوں کی جان نہ لیں خودکشی اور قتل کی سزائیں بہت دردناک ہیں جن سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ قتل، خودکشی، آبرو ریزی، اغوا جیسے جرم روز کی کہانی میں شامل ہو چکے ہیں۔ان دنوں خصوصاً ایک دو سال کے عرصے میں بھیانک واقعات کا رونما ہونا روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے۔
ہمارے ملک میں امرا، وزرا، مفتیان دین، علما، تجار، ڈاکٹرز، دوسرے معالج، اسکول و کالج ، مل و فیکٹری کے مالکان تمام حضرات کے پاس دولت کی ریل پیل ہے۔ کیا یہ اہل ثروت یہ نہیں کر سکتے کہ اپنے ملک کے مالی مسائل سے پریشان لوگوں کی مدد دامے، درمے، قدمے، سخنے کریں۔ پسماندہ علاقوں اور بے روزگاروں، بیماروں کے لیے غذا، ادویات اور نقد رقوم کو ضرورت مندوں تک پہنچائیں تاکہ یہ لوگ بہترین اجر کے حقدار ہوں اور لوگوں کو مسائل سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
رمضان المبارک کی آمد میں کل چار ماہ رہ گئے ہیں پھر اہل ثروت آٹے کی بوریاں تقسیم کریں گے، عورتوں کی قطار دھوپ اور گرمی میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کرے گی، لیکن نمبر آنے تک بھگدڑ مچ جائے گی اور ان میں سے کئی وہ خواتین شہید ہو جائیں گی جو خود بھوکی پیاسی تھیں اور اپنے معصوم بچوں کے لیے آٹا لینے آئی تھیں لیکن بھوک کی حالت میں ناقص نظام کے تحت شہید کر دی گئیں۔
ان کے گھر آٹا نہیں پہنچا بلکہ ماں کی لاش پہنچی۔ گھر ماں جیسی انمول دولت اور اس کی محبت کی روشنی سے محروم ہو گیا۔کتنے ہی گھرانے ہر سال ماہ رمضان میں اجڑ جاتے ہیں۔ عید کی خوشیاں دھری رہ جاتی ہیں۔
ایسے تمام حالات کی ذمے دار ہماری حکومتیں ہیں جنھوں نے مہنگائی تنخواہوں اور آمدنی سے زیادہ کر دی ہے اور یہ گرانی عفریت بن چکی ہے جس نے لوگوں کا گلا دبوچ لیا ہے۔ اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا کرسیوں کے حق دار بھی بدلتے رہتے ہیں۔ انقلاب آتے ہیں اور اپنے ساتھ طوفان باد و باراں کی طرح سب کچھ بہا کر لے جاتے ہیں۔ انسان وہی کاٹتا ہے جو بوتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل