Loading
دنیا میں معاشی بحرانوں کی تاریخ کوئی نئی تاریخ نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ معاشی بحرانوں کا وجود تقریباً اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود تجارت اور سرمایہ کاری کا نظام۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ان بحرانوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ کروڑوں لوگ بے روزگار ہوئے، بینک دیوالیہ ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے اور عالمی تجارت کو شدید نقصان پہنچا، لیکن ہر بحران کے بعد دنیا نے ایک نئی کروٹ بھی لی۔ کہیں نئے کاروبار سامنے آئے، کہیں نئے سرمایہ دار پیدا ہوئے اور کہیں معاشی نظام کی بنیادی ترجیحات ہی تبدیل ہوگئیں۔دنیا کے چند بڑے معاشی بحرانوں پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی تو نہیں، لیکن اپنے پرانے کردار نئے ناموں کے ساتھ ضرور واپس لے آتی ہے۔
آیئے! دنیا کے چند بڑے معاشی بحرانوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
1637ء میں ہالینڈ میں ٹیولپ مینیا (Tulip Mania) کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ ٹیولپ یعنی گل لالہ کے پھولوں کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ بعض نایاب اقسام کے سودوں کی مالیت عام آدمی کی سوچ سے بھی باہر ہوگئی۔
جب قیمتوں میں اضافے کی توقعات نے دم توڑا تو مارکیٹ بیٹھ گئی اور بہت سے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، یوں دنیا کو اندازہ ہوا کہ جب کسی چیز کی اصل قدر کے بجائے اس کی بڑھتی ہوئی قیمت ہی سرمایہ کاری کی بنیاد بن جائے تو خوش حالی کا یہ تاثر کسی بھی وقت بلبلے کی طرح پھٹ سکتا ہے۔
اس کے بعد 1929ء کا عظیم کساد بازاری کا بحران (The Great Depression) آیا۔ اکتوبر میں امریکی اسٹاک مارکیٹ کے شدید انہدام نے اس بحران کو نمایاں کیا اور بعد میں اس بحران نے دنیا بھر کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑھی، کاروبار بند ہوئے اور بینکاری کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہوا۔ اس بحران کے اثرات سے نکلنے میں کئی برس لگے اور دنیا کو یہ سمجھنے میں بھی وقت لگا کہ محض آزاد منڈی پر بھروسا کرنا ہر صورت میں معاشی استحکام کی ضمانت نہیں۔
1973ء میں تیل کے بحران نے عالمی معیشت کو ایک اور جھٹکا دیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی اور معاشی سست روی کو جنم دیا۔ 1997ء میں تھائی لینڈ کی کرنسی بھات کے بحران سے شروع ہونے والی ایشیائی مالیاتی ابتری نے جنوب مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک کو متاثر کیا۔ 2000ء کے آس پاس ڈاٹ کام بلبلہ پھٹا تو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کرنے والے بہت سے لوگوں کی دولت ہوا ہوگئی۔ کل تک جن کمپنیوں کے مستقبل سے اربوں کی امیدیں وابستہ تھیں، ان میں سے کئی اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکیں۔
پھر 2008ء کا عالمی مالیاتی بحران آیا، جسے 1930کی دہائی کے بعد دنیا کے بڑے مالیاتی بحرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امریکا میں رہائشی قرضوں، غیر محتاط مالیاتی سرگرمیوں اور خطرات کو درست طور پر نہ سمجھنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ابتری نے عالمی بینکاری اور مالیاتی نظام کو ہلا دیا۔ بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہوگئے اور اس بحران کے اثرات یورپ سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے گئے۔ ترقی پذیر ممالک بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے۔
2020ء میں کورونا کی وبا نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ایک مختلف نوعیت کے بحران سے دوچار کردیا۔ کاروبار بند ہوئے، سپلائی چین متاثر ہوئی اور لاکھوں لوگوں کے روزگار اور آمدنی کو نقصان پہنچا۔ گویا ہر دور میں بحران کی شکل بدلی، لیکن اس کے اثرات کا ایک نمایاں پہلو مشترک رہا، جب معیشت لڑکھڑاتی ہے تو اس کی قیمت صرف سرمایہ کار نہیں، عام آدمی بھی ادا کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک اور معاشی تصحیح کے دہانے پر ہے یا دنیا ایک مرتبہ پھر کسی بڑے معاشی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟
اسٹاک مارکیٹ کی اصطلاح میں جب حصص کی قیمتیں بنیادی معاشی حقائق سے بہت آگے نکل جائیں، سرمایہ کاروں کی توقعات غیر معمولی حد تک بڑھ جائیں اور منڈی میں ضرورت سے زیادہ جوش پیدا ہوجائے تو قیمتوں میں تصحیح (Correction) کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ البتہ دنیا کی پوری معیشت کو اسٹاک مارکیٹ کی اوور باؤٹ کیفیت سے تشبیہ دینا درست نہیں، کیونکہ معیشت کے بحران کے اسباب کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔
اس وقت اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی معیشت کی موجودہ ساخت اپنے اندر پیدا ہونے والے تضادات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، قرضوں کا دباؤ، مہنگی رہائش، روزگار کا عدم تحفظ، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایسے عوامل ہیں جو مختلف ممالک میں معاشی اور سماجی بے چینی کو بڑھا سکتے ہیں۔
ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جنگیں معیشت کو دوبارہ چلانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ جنگ کے دوران دفاعی اخراجات بڑھتے ہیں، صنعتوں کو نئے آرڈر ملتے ہیں اور بعض شعبوں میں روزگار اور پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جنگ کے بعد تعمیر نو بھی معاشی سرگرمیوں کو جنم دیتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جنگ ہر مرتبہ کساد بازاری کا خاتمہ کردیتی ہے۔
جنگیں انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے اور وسائل کی تباہی کے ساتھ قرضوں، مہنگائی اور طویل مدتی معاشی نقصان کا سبب بھی بنتی ہیں۔ البتہ ایک تلخ حقیقت ضرور ہے کہ جنگ سے کچھ کاروباروں اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس کی قیمت عام شہریوں کو مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکسوں اور انسانی المیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی معاشی نظام کو رواں رکھنے کے لیے تباہی کے بعد تعمیر نو کی ضرورت پڑنے لگے تو کیا ہمیں اس نظام کی بنیادی ترجیحات پر نظرثانی نہیں کرنی چاہیے؟
سرد جنگ کے خاتمے اور اشتراکی بلاک کے زوال کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کو عالمی سطح پر غیر معمولی برتری حاصل ہوئی۔ آزاد منڈی، نجی ملکیت، مسابقت اور کاروباری آزادی کو معاشی ترقی کا بنیادی راستہ سمجھا جانے لگا۔ ٹیکنالوجی نے نئی صنعتوں کو جنم دیا، عالمی تجارت پھیلی اور دنیا کے مختلف حصوں میں دولت پیدا کرنے کے نئے مواقعے سامنے آئے۔
مالیاتی بحرانوں میں ایک اور سوال بار بار سامنے آتا ہے۔ کیا منافع نجی سرمایہ کار کی ملکیت ہونا چاہیے، لیکن نقصان کی صورت میں اسے بچانے کے لیے عوامی وسائل استعمال کیے جانے چاہئیں؟ جب کسی بڑے مالیاتی ادارے کو بچانے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کیے جاتے ہیں تو اس کے حق میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس کے دیوالیہ ہونے سے پورا مالیاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
بعض حالات میں یہ دلیل معقول بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی ضروری ہے کہ خطرات مول لینے والے اداروں کا احتساب کیسے ہوگا اور عوامی وسائل استعمال کرنے کی قیمت کون ادا کرے گا؟ اگر کامیابی کا فائدہ چند سرمایہ کاروں تک محدود رہے اور ناکامی کا بوجھ ٹیکس دہندگان پر منتقل ہوجائے تو معاشی نظام کی منصفانہ حیثیت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل