Saturday, October 17, 2026
 

گلابی ربن

 



’’شکریہ پیاری لڑکی!‘‘ میں نے کارڈ پر ادائیگی کر کے اپنا سامان اٹھایا تو اس نے مجھ سے کہا کہ اگر مجھے گاڑی تک سامان لے جانے میں مدد چاہیے ہو تو… ’’ابھی مجھے اور بھی خریداری کرنا ہے۔‘‘ میں نے اسے کہا اور اس کے سینے پر قمیض کی جیب پر لگا ہوا گلابی ربن مجھے نظر آگیا۔ ’’واؤ، بڑا خوبصورت سا بروچ لگا رکھا ہے آپ نے… یہ کہاں سے لیا آپ نے؟‘‘ ’’شکریہ!‘‘ اس نے جوابا کہا، ’’ہم سب لڑکیوں کو یہ ربن دیئے گئے تھے کہ ہم نے یہ پورا مہینہ لگانے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’ اس کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہو گا؟‘‘ ’’ہاں شاید، اگست میں ہمیں پاکستان کے جھنڈوں والے بروچ لگانا ہوتے ہیں اور اس دفعہ ہمیں پہلی بار یہ ملے ہیں لگانے کو۔‘‘ ’’گویا آپ کو علم نہیں ہے کہ اس کا کیا مقصد ہے؟‘‘ میں نے سوال کیا۔ ’’نہیں!‘‘ مختصرسا جواب۔ ’’اسمارٹ فون تو ہو گا نا آپ کے پاس پیاری؟‘‘ میںنے پوچھا۔ ’’ اس پر سوشل میڈیا بھی ہو گا اور آپ استعمال بھی کرتی ہوں گی۔ آج جا کر یہ چیک کرنا کہ آپ کو اس مہینے میں یہ گلابی ربن والے بروچ کیوں پہننے کے لیے دیئے گئے ہیں۔‘‘ میں نے اسے کہا، ’’ بھولنا نہیں ہے آپ نے، ا س میں آپ کا سب سے زیادہ فایدہ ہے۔‘‘ ’’میرا کیا فایدہ ہے اس میں؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا، ’’آپ ہی بتا دیں۔‘‘ ’’میں بتاؤں گی تو آپ کا بہت سا وقت ضایع ہو گا، بہتر ہے کہ آپ خود چیک کریں، اس میں نہ صرف آپ کا بلکہ آپ کے تمام اہل خاندان کا بھی فایدہ ہو گا۔ اگر آپ جیسی پڑھی لکھی لڑکی کو یہ علم نہیں ہے تو یہ بہت غیرمعمولی بات ہے۔‘‘ ’’چلیں میں ضرور چیک کروں گی۔‘‘ اس نے کہا تو میں نے سوچا کہ کہیں مجھے ٹال نہ رہی ہو۔ ’’میں کسی دن آ کر آپ سے یہ سوال دوبارہ پوچھوں گی۔‘‘ مسکرا کر اس نے مجھے اور میں نے اسے دیکھا۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ اس اسٹور میں اور دیگر کئی اور اسٹورز میں اسی نوعیت کے بروچ لڑکیوں کے سینوں پر سجے تھے… یہ بروچ لڑکوں نے کیوں نہیں پہن رکھے تھے؟ کیا انھیں اس کی اہمیت اور افادیت کا علم نہیں اور اگر نہیں تو انھیں ضرور علم ہونا چاہیے کیونکہ ان کے گھروں میں بھی مائیں، بہنیں، بیویاں اور بیٹیاں ہیں اور بھی کئی رشتہ دار لڑکیاں۔ ماہ اکتوبر چھاتی کے سرطان کی آگاہی کا مہینہ کہلاتا ہے اور اس کے لیے صرف لڑکیوں کو ہی گلابی ربن نہیں سجنے چاہییں بلکہ لڑکوں کو بھی اس تحریک میں برابر کا شریک ہونا چاہیے۔ انھیں بھی گلابی ربن کا بروچ پہن کر بتانا چاہیے کہ وہ بھی اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور ان تما م مریضوں سے اظہار یکجہتی کے لیے چھاتی کے سرطان کے مریضوں کے ساتھ شامل ہیں۔ عورتوں کے ساتھ اس لیے نہیں لکھا کیونکہ چھاتی کا سرطان صرف عورتوں میں ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس بات کو نہیں جانتے اور مانتے ہیں کہ مردوں میں بھی چھاتی کے سرطان کا مرض ہوتا ہے۔ ہم لکھے پڑھے لوگ بھی اس سے آگاہ نہیں ہوتے، میں نے جب پہلی بار کینسر کی تشخیص کے دوران ڈاکٹر سے ملاقات کی تو مجھے انھوں نے بتایا کہ چھاتی کا کینسر عورتوں کے علاوہ مردوں میں بھی ہوسکتا ہے۔ اگرچہ اس کا تناسب لگ بھگ عورتوں میں اس کینسر کی نسبت ایک فیصد ہوتا ہے مگر ہے تو سہی۔ اگر گھر میں کسی کو بھی کینسر ہو تو سارا گھر اس سے متاثر ہوتا ہے، ہر انسان فکرمند ہوجاتا ہے، سارا خاندان ایک ایسی پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کا وہ اظہار بھی نہیں کرسکتا۔ جو خود مبتلا ہوتا ہے اس کے دل کا حال تو صرف وہ جانتا ہے یا اس کا رب۔ وہ ڈاکٹروں اور مریضوں پر بھروسہ تو کرتا ہے مگر اس کا دل وسوسوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور وہ پوری شدت سے اپنے رب سے دعا گو ہوتا ہے کہ وہی اس کا پیدا کرنے والا، پالنے والا اور تکلیف میں اسے سکون اور آرام دینے والا ہے، وہ اس کا غم ہر کسی سے زیادہ جانتا ہے اور اس کا مداوا کرتا ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جتنی تیزی سے دنیا میں کینسر پھیل رہا ہے، اسی رفتار سے اس کے علاج اور دوائیں بھی ایجاد ہورہی ہیں اور لوگوں میں امید کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ ہمارے ملک میں ہی اس کا علاج اس وقت بہترین ہو رہا ہے، سب سے بنیادی اور اہم ترین اصول یہ ہے کہ آپ جس ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے جائیں، اس پر پورا یقین رکھیں، اس کے حق میں دعا کریں کہ اس کا علاج آپ کے حق میں بہترین ہو اور اس کے بعد وہ جو دوائیں، علاج اور احتیاطیات آپ کو بتائیں، ان پر پورا عمل کریں۔ ظاہر ہے کہ علاج کے دوران کئی مراحل بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں بتایا ہے کہ ہر تکلیف کے ساتھ آسانی ہے۔ میں نے خود سے ہمیشہ یہ کہا، This too will pass، یہ وقت بھی ان شااللہ گزر جائے گا۔ اگر چہ خوشی کا وقت مختصر اور تکلیف کا وقت طویل محسوس ہوتا ہے مگر اصل میں ہر وقت کے گزرنے کی رفتار ایک ہی ہوتی ہے، یہ تو وہ کرب اور تکلیف ہے جو یہ محسوس کرواتی ہے کہ وقت تھم گیا ہے۔ اگر کسی کی موت کا دکھ بھی وقت کے ساتھ ساتھ مدہم ہو جاتا ہے تو ہر تکلیف گزرنے کے بعد کم محسوس ہوتی ہے۔ آپ کا اللہ پر یقین، توکل اور اپنے ڈاکٹروں پر مکمل یقین آپ کے بہترین علاج کی ضمانت ہوتا ہے۔ ہر کینسر برا ہوتا ہے لیکن عورتوں میں پائے جانے والے کینسر اس لیے دیر سے تشخیص ہوتے ہیں کہ عورتیں چھاتی یا رحم سے متعلقہ مسائل کو یوں چھپا کر رکھتی ہیں جیسے کہ ان میں ان کا کوئی قصور ہو۔ میں نے خود اسپتالوں کے وارڈز میں ان لڑکیوں سے سوالات کیے جن کے کینسر کی تشخیص دیر سے ہوئی اور جب تک وہ اسپتال لائی گئیں، تب تک مرض پہلی سے دوسری یا تیسری اسٹیج پر پہنچ چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں کسی کو بتاتے شرم آتی تھی… یا یہ کہ انھوں نے اپنی ماں کو بتایا تو ماں نے منہ بند کروا دیا کہ کسی اور سے نہ کہنا، باپ یا بھائی کے سامنے ذکر نہ کرنا، وہ کیا سوچیں گے۔ ان کا قصور نہیں بھی ہوتا مگر مرض کے بڑھ جانے کے بعد انھیں بھگتنا پڑتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ کسی اسٹور کے کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی جو آپ سے بات بھی انگریزی میں کر رہی ہو، اسے بھی علم نہیں ہے کہ وہ گلابی ربن کیوں سجائے ہوئے ہے۔ گاؤں کی ان پڑھ اور بے خبر لڑکیوں کو تو علم بھی نہیں ہوتا ہو گا کہ انھیں اپنا ماہانہ معائنہ کیسے کرنا ہو گا یا رحم سے متعلقہ کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کی کیا علامات ہیں اور انھیں فوراً ڈاکٹر کو دکھانا ہوگا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ شہروں کی اور تعلیم یافتہ خواتین کو بھی اپنے چیک اپ کے طریقے سے آگاہی نہیں ہو گی اور اگر ہو گی تو انھیں پورا مہینہ وقت نہیں ملتا ہو گا کہ وہ سکون اور اطمینان سے اپنا معائنہ کریں۔ہم سب اپنے ہاتھوں میں پکڑی اس چھوٹی سی device سے ہر وقت کچھ نہ کچھ پوچھتے رہتے ہیں تو آپ ٹک ٹاک،  Gemeni, Chat GPT, Pinterestیا کسی بھی اے آئی ایپ سے اپنے معائنے کا طریقہ سیکھ سکتی ہیں اور وقت پر ہی چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی کو محسوس کرسکتی ہیں۔ کوئی گلٹی، کوئی ابھار خواہ وہ کتنا چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، کسی جگہ پر رنگت کی تبدیلی، تناؤ، ڈمپل یا جلد کا سکڑا ہوا کوئی حصہ… کسی جگہ کو دبانے سے غیرمعمولی احساس، درد یا بے حسی۔ اپنا معائنہ خود کرنا قطعی مشکل نہیں مگر اہم بہت ہے، یہ آپ کی اپنی بقا اور سکون کے لیے ضروری ہے۔ بہتر ہے کہ آپ کسی بھی بیماری یا کینسر کو اس وقت سے بہت پہلے پکڑ لیں جب وہ پہلی اسٹیج سے نکل جائے۔ کوئی بھی چیز غیرمعمولی محسوس ہو تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں، اگر ڈاکٹر کے معائنے، چھاتی کے سکین، الٹراساؤنڈ اور میموگرام میں سب کچھ ٹھیک ہو تو آپ کے حق میں بہت اچھا ہے۔ دنیا بھر میں خواتین کے لیے بالخصوص سالانہ میموگرام کروانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، اس سے کینسر بہت اولین مراحل میں تشخیص ہو جاتا ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ میموگرام مہنگا ٹیسٹ ہے تو یقین کریں کہ کینسر کا علاج اس سے کہیں مہنگا اور عام طور پر ناقابل رسائی ہوتا ہے۔ کاش ہمارے ہاں لوگوں میں ہیلتھ انشورنس کروانے کا رجحان ہو تو بھی آسانی پیدا ہو جاتی ہے کہ ٹیسٹ اور علاج کروانے میں سہولت ہو جاتی ہے۔ چھاتی کے کینسر کو عورتوں کے لیے عام طور پر مختص سمجھا جاتا ہے اور اسی لیے گلابی رنگ کے ربن کا بروچ پہن کر ماہ اکتوبر میں بتایا جاتا ہے کہ یہ چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے لیے ہے… ہاں، اس بچی سے جب دوبارہ جا کر میں نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ کافی مصروف رہی اس لیے نہیں چیک کرسکی۔ یہ صرف اس کے ساتھ نہیں ہے، ہم سب کا عمومی مزاج یہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل