Saturday, October 17, 2026
 

مجھے نوبل امن انعام کیوں نہیں دیا؟

 



نوبل امن انعام ہر سال ہی انسانیت کی خدمت کرنے، نئی ایجادات، تحقیقات کرنے اور عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کرنے والے لوگوں کو دیئے جاتے ہیں۔ اس سال یعنی 2026 کا نوبل امن انعام جنوبی افریقہ کی ایک خاتون قانون دان ناوی پلے کو دیا گیا ہے۔ اس خاتون کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے عالمی امن کے لیے بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، عالمی فوجداری عدالت کی سابق جج اور اقوام متحدہ کی آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہی ہیں۔ انھوں نے گزشتہ سال غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تحقیقات کی تھی اور اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کا ذمے دار قرار دیا تھا۔ وہ روانڈا اور میانمار میں بھی ہونے والے قتل عام کی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ تھیں۔  وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد بس ڈرائیور تھے۔ انھیں نوبل امن انعام دیا جانا نوبل انعام کمیٹی کا حق وانصاف پر مبنی فیصلہ ہے جسے ہر امن پسند شخص نے سراہا ہے۔ نوبل امن انعام کی تقسیم میں دلچسپی رکھنے والے کمیٹی کے فیصلے پر خوش اور مطمئن ہیں مگر ایک شخص ایسا بھی ہے جو اس فیصلے پر متعرض ہے۔ انھوں نے نوبل امن انعام کا اعلان کرنے والی کمیٹی کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔ یہ ا شخص کوئی اور نہیں، دنیا کے طاقتور ترین ملک امریکا کا صدر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر سال اکتوبر کے مہینے میں ناروے کی پارلیمنٹ نوبل انعام کسی مستحق عالمی شخصیت کو دینے کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی منتخب کرتی ہے جو پوری دنیا سے آنے والی رپورٹوں پر غور کرکے ایسے شخص کا انتخاب کرتی ہے جس نے عالمی امن کے لیے دلیرانہ اہم کردار ادا کیا ہو اور اس سلسلے میں کوئی سفارش یا دباؤ قبول نہیں کیا جاتا۔ نوبل امن انعام ہر سال الفریڈ نوبل کی یاد میں دیا جاتا ہے۔ ویسے تو کئی شعبوں میں کارہائے نمایاں ادا کرنے والوں کو انعامات دیئے جاتے ہیں مگر نوبل امن انعام ان سب میں سب سے زیادہ اہم ہے جس کے حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے لوگ امید لگائے بیٹھے ہوتے ہیں، یہ انعام کئی اہم عالمی سیاسی شخصیات کو بھی دیا جا چکا ہے۔ الفریڈ نوبل ایک عظیم سائنسدان، انجینئر اور ایک بڑے تاجر تھے، وہ سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں 21 اکتوبر 1833 کو پیدا ہوئے، ان کا 10 دسمبر 1896 کو انتقال ہوا تھا، انھوں نے 63 برس کی عمر پائی تھی۔ جب ان کا انتقال ہوا، 355 ایجادات ان کے نام سے پیٹنٹ تھیں۔ انھوں نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ ان کے نام سے کیمسٹری، فزکس، میڈیسن، فلسفہ، لٹریچر اور امن کے شعبوں میں اہم خدمات انجام دینے والے افراد کو نوبل انعام تقسیم کیے جائیں۔ یہ انعامات ان کی پانچویں برسی کے دن یعنی 10دسمبر 1901 سے مسلسل دیئے جا رہے ہیں۔ نوبل امن انعام کی تقسیم کا اہتمام ہر سال نوبل فاؤنڈیشن کرتی ہے۔ ان تمام انعامات میں نوبل امن انعام پر سب کی ہی نگاہیں ہوتی ہیں۔ یہ انعام ایک میڈل کی شکل کا ہوتا ہے جو 24 قیراط خالص سونے کا ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی ویلیو 12 ملین سویڈش کرونا یعنی سوا ملین ڈالر کے برابر ہے۔ نوبل امن انعام دو پاکستانیوں کو بھی مل چکے ہیں جن کے نام ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسف زئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ معزز اعزاز پانے والی خاتون اور کمٹی پر اعتراض محض اس لیے کیاکہ یہ انھیں نہیں دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ انھیں بے لاگ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا وہ اس کے صحیح حق دار تھے یا نووی پلے کی خدمات کے تناظر میں ان کا زیادہ حق بنتا ہے، انھیں اس کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دور میں جنگیں زیادہ ہوئیں یا انھوں نے رکوائی زیادہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے دنیا میں آٹھ جنگیں رکوائی ہیں مگر انھوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کی ایسی ہولناک آگ بھڑکائی ہے جو مہینوں بعد بھی نہیں بجھ سکی ہے۔ وہ جنگ کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں اور اس پر وہ بہت خوش ہیں۔ انھوں نے ایران کی پوری اعلیٰ قیادت کو قتل کرانے کے علاوہ پورے مشرق وسطیٰ میں اپنے چہیتے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر زبردست تباہی پھیلائی ہے۔ ان کی شہ پر ہی اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور اسے بہت نقصان پہنچایا، پھر وہ خود بھی ایران پر چڑھ دوڑے۔ اس جنگ کو رکوانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور ایک امن معاہدہ بھی کروا دیا تھا جسے اسلام آباد امن معاہدے کا نام دیا گیا تھا مگر افسوس کہ فریقین نے اس معاہدے کوپس پشت ڈال دیا اور پھر جنگ شروع کر دی۔ اس جنگ کی وجہ سے کئی خلیجی ممالک معاشی مشکلات میں گھر چکے ہیں۔ نیتن یاہو کو ٹرمپ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ وہ اسرائیل کو مسلسل مالی اور فوجی امداد فراہم کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ٹرمپ کی امن انعام یافتہ خاتون سے ناراضگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی سرکردگی میں اقوام متحدہ کے قائم کردہ کمیشن برائے غزہ نے نیتن یاہو کو فلسطینیوں کا قاتل قرار دیا تھا۔ بہرحال اگر ٹرمپ کو نوبل امن انعام سے محروم رکھا گیا تو اس کی ٹھوس وجوہات بھی ہیں۔ یہ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے صدر نکولس مورودو کو اغوا کیا تھا اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے گرین لینڈ اور کینیڈا پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ ٹرمپ نے اپنے صدارتی الیکشن کو جیتنے کے لیے امریکی عوام اور پوری دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دنیا سے جنگیں ختم کرا کے دنیا کو امن کا گہوارا بنائیں گے مگر صدر منتخب ہونے کے بعد وہ اپنے وعدوں کو یکسر بھول گئے اور آج صرف ان کی اور ان کے چہیتے نیتن یاہو کی وجہ سے پوری دنیا جہنم کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ان کے دور میں امریکی عوام بھی مہنگائی سے تنگ آ چکے ہیں۔ تیل کے بحران نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے مگر وہ ہیں کہ جنگ کو مزید ہوا دینے کے لیے تیار ہیں، اب ایسے ماحول میں کیا وہ نوبل امن انعام کے مستحق ٹھہرائے جا سکتے ہیں؟

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل