Sunday, October 18, 2026
 

سندھ کی ترقی میں رکاوٹ!

 



وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے خوبصورت ساحلی علاقے ہمارے ملک کی قومی شناخت ہیں اور سمندر ملکی معیشت اور پائیدار ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور کے ٹی بندر میں بندرگاہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سمندری آلودگی کا خاتمہ اور سمندری حیات کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمے داری ہے۔ ان خیالات سے انکار ممکن نہیں۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی دونوں بندرگاہیں ملک کی معیشت میں نہ صرف اہم کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ سندھ ہی نہیں ملک کی بھی قومی شناخت ہیں مگر حکومت کے لیے کراچی اور اس کی دونوں بندرگاہیں صرف کمائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ دونوں بندرگاہیں سنبھالتا ہے اور کراچی کے ساحلی مقامات سی ویو، کیماڑی اور منوڑا جو ملک بھر کے سیاحوں کی تفریح کے اہم مراکز ہیں وہ ڈی ایچ اے کے کنٹرول میں ہیں۔ کراچی کے پس ماندہ ساحلی علاقے مچھیروں اور غریبوں کی بستیاں اور بے شمار مسائل کا شکار ہیں جہاں فش ہاربر بھی لگتا ہے جو سندھ حکومت کے پاس اور مچھلیوں کے کاروبار کا اہم کاروباری مرکز اور سندھ حکومت سے زیادہ وہاں تعینات ہونے والے اعلیٰ افسران کی کمائی اور مفت مچھلیوں کو بانٹنے کا ذریعہ ہے اور فشریز سے سندھ کے حکام فیض یاب ہوتے رہتے ہیں مگر فشریز کو مچھلی فراہم کرنے والے مچھیرے آج بھی بدحال مگر وہاں تعینات افسران مالا مال ہیں جہاں تعیناتیاں میرٹ پر نہیں کسی اور وجہ سے ہوتی ہیں۔ کے ٹی بندر کا علاقہ نہایت پس ماندہ اور کراچی سے باہر ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے مگر حکومتی توجہ سے محروم ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ کے بقول اگر کے ٹی بندر پر توجہ دی جائے تو وہ واقعی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم اور سندھ کی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق آئی ورک فار سندھ پلیٹ فارم پر 718 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جہاں اس وقت 21 ہزار 233 فعال ملازمین دستیاب ہیں سندھ حکومت کا اگلا ہدف آئی ورک فار سندھ کو مزید جدید اور ذہین ڈیجیٹل ایمپلائنمنٹ پلیٹ فارم پر اے آئی پاورڈ کیریئر اینڈ جاب اسسٹنٹس ایجنٹ تیار کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ کی 18 سال سے حکومت میں سکھر، حیدرآباد موٹروے مسلسل نظر انداز ہے جس میں تاخیر کی وجہ اعلیٰ افسران اور ان کی کرپشن ہے جنھوں نے زمینوں کی خریداری میں کرپشن کی جس پر افسران گرفتار بھی ہوئے اور مسلسل لاگت بھی بڑھی مگر سندھ حکومت دیگر معاملات کی طرح وفاق کو دباؤ میں لا کر سندھ کے اس اہم مواصلاتی منصوبے پر پیش رفت میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی حالانکہ ساڑھے چار سال سے وفاقی حکمرانی میں پیپلز پارٹی کا اہم کردار ہے مگر سکھر حیدرآباد موٹروے منصوبہ بدعنوانیوں کے باعث آگے نہیں بڑھ پایا جو سندھ کی ترقی میں اہم کردار ادا اور مواصلاتی رابطہ ثابت ہوسکتا ہے۔ 6 سال قبل ملتان سکھر موٹروے سفر کے لیے کھولے جانے کے بعد اگر بیورو کریسی چاہتی تو سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر میں کافی پیش رفت ہو سکتی تھی۔ چند سال قبل سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے سکھر حیدرآباد نیشنل ہائی وے کو کافی نقصان پہنچا اور اس مصروف سڑک پر آمد و رفت متاثر ہوئی تھی تو کراچی سے جانے والی ٹریفک نواب شاہ سے رانی پور والی سڑک پر منتقل ہوئی تھی۔ جس کے بعد سندھ حکومت نے اس سڑک کو اہمیت دے کر اربوں روپے کا موٹروے جیسا دو طرفہ سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تھا جس کا فاصلہ تقریباً135 کلو میٹر ہے اور یہ سڑک اندرون ملک آمد و رفت کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی تھی مگر یہ منصوبہ بھی سندھ کے بدعنوان اعلیٰ افسروں کی کرپشن کے بھینٹ چڑھ گیا جو سندھ کی ترقی کے لیے اہم ضرورت تھا مگر موٹروے اور نوابشاہ رانی پور سڑک کی تعمیر آگے نہ بڑھ سکی حالانکہ اس اہم سڑک کی ترقی کا آغاز نوابشاہ سے شروع ہونا اور رانی پور جا کر نیشنل ہائی وے سے منسلک ہونا تھا جہاں خیرپور سے گزر کر روہڑی سے سکھر ملتان موٹروے نے ملتان سکھر کا فاصلہ گھنٹوں کم کر دیا ہے۔ سندھ کی ترقی کے لیے سکھر حیدرآباد موٹروے اور موٹر وے جیسی نوابشاہ رانی پور شاہراہ افسروں کی نااہلی و کرپشن کی نذر نہ ہوتی تو سندھ کی مواصلاتی ترقی میں ایک نیا باب رقم ہو چکا ہوتا۔ کراچی سے براستہ پنجاب کے پی تک کا طویل سفر صرف سکھر تک آرام دہ ہے اگر سکھر حیدرآباد موٹروے مقررہ مدت میں بن جاتی تو سندھ کے ان علاقوں میں ترقی اور طویل سفر میں کئی گھنٹوں کی کمی ہو سکتی تھی۔ سندھ حکومت نے گمبٹ میں جگر کی صحت کا جو مشہور اسپتال بنوایا تھا وہ بھی رانی پور کے بعد نیشنل ہائی وے پر ہے جہاں اندرون سندھ کے علاوہ پنجاب، کے پی، کشمیر و بلوچستان سے مریضوں کی بڑی تعداد گمبٹ کا سفر کرتی ہے وہ بھی سکھر حیدرآباد موٹروے بن جانے سے آسان ہو سکتا تھا۔ نیشنل ہائی وے پر ملک بھر سے بڑی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا بہت رش ہے اور رانی پور سے براستہ نوابشاہ، مورو ضلع دادو سے گزرنے والی شاہراہ کراچی و حیدرآباد آنے جانے کی متبادل شاہراہ بھی ہے جس پر بلوچستان، پنجاب اور کے پی کے لیے بھی آرام دہ سفر ہوتا ہے جہاں سے دریائے سندھ عبور کیے بغیر لاڑکانہ و شکارپور کے راستے اندرون ملک کے سفر کی سہولت ہے اور سندھ پنجاب کا مواصلاتی مقابلہ کر سکتا ہے مگر سندھ کی اس ترقی میں اعلیٰ افسران اور سیاست بھی رکاوٹ ہے جو لگتا ہے سندھ کی مواصلاتی ترقی نہیں چاہتی اور اربوں روپے کی ہونے والی کرپشن سے بھی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل