Sunday, October 18, 2026
 

عوام کے مسائل

 



اب سے کچھ عرصہ پہلے اس بات کا بڑا شور و غوغا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے بعد ہماری سیاسی قیادت نے قوم کو خوش خبری سنائی کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا ہے۔ یقینا کسی ملک کو مالیاتی بحران سے نکالنا ایک اہم کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کامیابی کے ثمرات عوام تک بھی پہنچے یا نہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا تو عوام شاید آج کے مقابلے میں قدرے بہتر حالت میں تھے، لیکن جب ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کی خوش خبری سنائی گئی تو محسوس ہوا کہ عوام کو شاید وہیں چھوڑ دیا گیا ہے جہاں وہ پہلے کھڑے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب مہنگائی، قرضوں، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ملک تو ڈیفالٹ سے بچ گیا، لیکن عوام کی بڑی تعداد اپنی زندگی کے اخراجات پورے کرنے میں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ آئے روز خاندانوں کی اجتماعی خودکشیوں اور انتہائی قدم اٹھانے کے واقعات کی خبریں اس معاشرتی المیے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ بعض واقعات میں معاشی مشکلات کو بنیادی وجہ قرار دیا جاتا ہے، اگرچہ ہر واقعے کے پس منظر اور اسباب کی الگ سے تحقیقات ضروری ہے۔ بہرحال، جب ایک خاندان کا سربراہ اپنے اہل خانہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہوجائے تو یہ محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشی اور سماجی نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ کیا ہم واقعی ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں، اگر اس ملک کے شہری ہی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہوتے چلے جائیں؟ ایک مشہور تاریخی اور اخلاقی قول حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب کیا جاتا ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مر گیا تو قیامت کے دن عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔ یہ قول حکمرانوں کی ذمے داری اور جواب دہی کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔ اس تصور کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ حکمرانی محض اقتدار حاصل کرنے یا ریاستی امور چلانے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایک بڑی ذمے داری بھی وابستہ ہے۔ ایک ذمے دار حکمران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام لوگوں کی بنیادی ضروریات، جان و مال کے تحفظ اور بہتر زندگی کے مواقع کو یقینی بنانے کی کوشش کرے۔ جب ہم اس معیار پر اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا ہمارے ہاں عام شہری کی زندگی آسان بنانے کو واقعی حکمرانی کی ترجیح سمجھا جاتا ہے؟ کیا آپ اس کی ایک وجہ جاننا چاہیں گے؟ اس کا جواب ایک گجراتی کہاوت میں چھپا ہوا ہے، جسے میں اس سے پہلے بھی متعدد سرکاری اداروں میں بیان کر چکا ہوں ’’جینوں راجہ ویپاری، اونی پرجا بھکاری۔‘‘ اس کا مفہوم ہے کہ جس کا حکمران تاجر ہو، اس کی رعایا بھکاری بن جاتی ہے۔ اس کہاوت کا مطلب یہ نہیں کہ تجارت کرنا یا کاروبار سے وابستہ ہونا بذات خود کوئی برائی ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکمرانوں کے ذاتی کاروباری مفادات اور عوامی پالیسیوں کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوجائے۔ جب پالیسی بنانے والوں کے اپنے کاروبار بھی انھی پالیسیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوں تو شفافیت، غیر جانب داری اور جواب دہی کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے ہاں چینی کے بحران کی مثال ہی لے لیجیے۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں چینی کی قلت، قیمتوں میں اضافے اور درآمد و برآمد کی پالیسیوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ بجلی کی پیداوار، توانائی کے معاہدوں اور زرعی اجناس کے کاروبار سمیت معیشت کے متعدد شعبوں میں بڑے کاروباری مفادات موجود ہیں۔ کاروبار کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن جب طاقت، دولت اور پالیسی سازی ایک ہی طبقے کے گرد جمع ہونے لگیں تو عام آدمی کے لیے اپنے مفادات کا تحفظ مشکل ہوجاتا ہے۔ اب آپ ہی بتائیے کہ ان حالات میں عوام معاشی طور پر ڈیفالٹ نہ کرے تو کیا کرے؟ غربت کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟ اب ذرا اعداد و شمار کی طرف آتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی اکتوبر 2026 میں جاری کردہ عالمی کثیر الجہتی غربت اشاریے (Multidimensional Poverty Index — MPI) سے متعلق رپورٹ میں پاکستان کے لیے کثیر الجہتی غربت کی شرح 38.3 فیصد، بھارت کے لیے 16.4 فیصد اور بنگلہ دیش کے لیے 14.9 فیصد بتائی گئی ہے۔ اس پیمانے کے مطابق پاکستان کی تقریباً 38.3 فیصد آبادی، یعنی لگ بھگ دس کروڑ افراد، کثیر الجہتی غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کثیر الجہتی غربت صرف آمدنی کی کمی کا نام نہیں، بلکہ اس میں تعلیم، صحت اور معیار زندگی سے متعلق محرومیوں کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کے لیے سامنے آنے والا یہ تناسب تشویشناک ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ معاشی مسائل کو صرف مجموعی قومی پیداوار، زرمبادلہ کے ذخائر یا قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عام آدمی کو تعلیم، علاج، صاف پانی، مناسب خوراک اور باعزت زندگی کے کتنے مواقع میسر ہیں۔ اسی لیے میں نے یہ لکھا ہے کہ عوام ڈیفالٹ کر چکے ہیں۔ یہاں ڈیفالٹ سے مراد ریاست کی طرح قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی نہیں، بلکہ عام شہری کی اس حالت کی طرف اشارہ ہے جس میں اس کی آمدنی بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہوجائے، اس کی بچت ختم ہوجائے اور مستقبل کے بارے میں اس کی امیدیں دم توڑنے لگیں۔ اب حال ہی میں، 12 اکتوبر 2026 کو، بنکاک میں ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کو مقروض ممالک کے گروپ ’’باروئرز پلیٹ فارم‘‘ (Borrowers’Platform) کی گورننگ کونسل کی سربراہی ملی۔ اس پیش رفت کو صرف قرض لینے والے ممالک کے گروپ کی سربراہی سمجھنا شاید درست نہ ہو، کیونکہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے قرضوں کے انتظام اور مالیاتی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ ایک طرف قرضوں میں جکڑی معیشت ہے اور دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل ہوتا ہے۔ کمی ہو بھی تو بعض اوقات معمولی، جبکہ اضافے کا بوجھ عوام کو فوراً محسوس ہونے لگتا ہے۔ بجلی کے بلوں میں مختلف سرچارجز اور سابقہ سہ ماہیوں کی ایڈجسٹمنٹ بھی عام صارف کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ گیس کے نرخ اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھاتی ہیں۔ کہنے کو تو پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ انگریزی میں اسے Agricultural Country کہہ سکتے ہیں، لیکن ہمارے حالات نے ایک نئے کلچر کو جنم دے دیا ہے، جسے میں ’’Agree Culture‘‘ کا نام دینا چاہوں گا۔ یعنی ہر بات پر اتفاق کرنے، ہر زیادتی برداشت کرنے اور اپنے حصے کی خاموشی اختیار کرنے کا کلچر۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سمجھوتا غلط ہے یا ہر اختلاف ضروری ہے، لیکن جب عام آدمی یہ سوچنے لگے کہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے سے اس کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی تو معاشرے میں خاموشی، مایوسی اور بے بسی کا کلچر جنم لینے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے بہت سے لوگ حالات کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے ان سے سمجھوتا کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ ایک طرف ایسے حالات ہیں کہ بعض خاندان شدید معاشی دباؤ کے باعث انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف اگر آپ ہمارے حکمرانوں کی گفتگو سنیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کے مسائل محض اعداد و شمار نہیں ہیں۔ گیس، بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات کو ہم سہولیات کہتے ہیں، لیکن جب ان کے بل عوام کی برداشت سے باہر ہوجائیں تو یہی سہولتیں ان کے لیے مستقل پریشانی کا سبب بن جاتی ہیں۔ ریاست کا مقصد ان ضروریات کو غیر ضروری طور پر مہنگا بنانا نہیں، بلکہ ایسے قابل عمل انتظامات کرنا ہونا چاہیے جن سے عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی سہولتیں میسر آسکیں اور قومی ادارے بھی مالی طور پر پائیدار رہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل