Monday, October 19, 2026
 

ون ڈے کرکٹ میں ریورس سوئنگ کی واپسی، بیٹرز کیلیے مشکلات بڑھ گئیں

 



ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں کھیلنے کے قوانین میں تبدیلی کے بعد ریورس سوئنگ ایک بار پھر اہم ہتھیار بن کر سامنے آگئی ہے۔ جولائی 2025 میں متعارف کرائے گئے نئے قانون کے تحت کپتان 34 اوورز مکمل ہونے کے بعد دونوں سروں پر استعمال ہونے والی سفید گیندوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتے ہیں جس سے اننگز کے آخری 16 اوورز میں گیند زیادہ پرانی اور کھردری ہوجاتی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد بولرز کو بہتر مواقع فراہم کرنا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق قانون میں تبدیلی کے بعد آخری 10 اوورز میں فاسٹ بولرز کی نصف فل لینتھ گیندوں پر ایک ڈگری سے زیادہ سوئنگ دیکھی گئی جو گزشتہ شرح سے تقریباً 35 فیصد زیادہ ہے۔ آخری پانچ اوورز میں بولرز کا اکانومی ریٹ بھی 8.40 سے کم ہوکر 7.95 رنز فی اوور رہ گیا ہے۔ انگلینڈ کے کوچ برینڈن میک کولم نے سری لنکا کے خلاف شکست کے بعد کھلاڑیوں کو نئی صورتحال کے مطابق حکمت عملی تبدیل کرنے پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔ پاکستان کے شاہین آفریدی اور نسیم شاہ سمیت کئی عالمی بولرز کے لیے بھی یہ تبدیلی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ شاہین آخری اوورز میں اوسطاً 1.3 ڈگری سوئنگ حاصل کررہے ہیں۔ تاہم ریورس سوئنگ میں اضافہ ہر ملک میں یکساں نہیں، انگلینڈ میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جبکہ جنوبی افریقا میں آئندہ ورلڈ کپ سے قبل اس کے اثرات کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ٹیموں کو آخری اوورز کے بجائے اننگز کے ابتدائی حصے میں زیادہ رنز بنانے کی حکمت عملی اپنانا پڑسکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل