Loading
پشاور ہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، درخواستوں میں وفاقی و صوبائی حکومت اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت میں دلائل دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشتگردی کا بہانہ بنا کر صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، ہم نے وفاقی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمشیہ سپورٹ کیا ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہمارے 12 ممبر قومی اسمبلی اور 14 صوبائی اسمبلی ممبران کو اٹھا گیا، ہمارے ممبران کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ان کو ہراساں کیا جارہا ہے، ایسی چیزیں نہ کریں جو عوام میں نفرتیں پھیلاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ سب سے پہلے پاکستان ہے، ہم ایک ہیں، یہ ملک ہمارا ہے، ہمارے خلاف ایسے اقدامات کیوں کئے جارہے ہیں، ہمارے گناہ کو معاف نہیں کیا جاتا، جو چیزیں یہ کررہے ہیں ان سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں، 11 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی آوز کو تبدیل کیا گیا، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے افسران کو تبدیل کیا گیا۔
سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی سمیت دیگر ارکان غیر قانونی حراست میں ہیں، یہ اقدام غیر آئینی اور جمہوریت کے خلاف ہے، اسپیکر اور وزیر اعلی کو اس طرح غیر قانونی طریقہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا، صوبائی حکومت کو بحال کرنے کے ساتھ وزیر اعلیٰ اور اسپیکر کو بازیاب کروایا جائے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گورنر راج، ایمرجنسی کو قانونی تقاضے پورے کئے بغیر صوبے میں نافذ کیا گیا ہے، ایمرجنسی، گورنر راج کو غیر قانونی قرار دیے کر صوبائی اسمبلی کو بحال کیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل