Tuesday, October 20, 2026
 

دہشتگردی کیخلاف بلوچستان حکومت تعاون کررہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ کے پی نے انکار کردیا تھا، رانا ثنا

 



وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں کے پی اور بلوچستان کا موازنہ درست نہیں، بلوچستان حکومت فوج اور وفاق سے مکمل تعاون کررہی ہے جبکہ سہیل آفریدی نے کے پی میں آپریشن ہونے سے صاف انکار کردیا تھا۔ یہ بات انہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کے دوران کہی۔ قبل ازیں دیگر سینیٹرزنے بھی اظہار خیال کیا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہمارے سینیٹر مولانا عبدالواسع نے ابھی اجلاس میں کے پی اور بلوچستان کا موازنہ کیا، کے پی میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کا جو تعاون درکار تھا وہ نہیں کررہی تھی، وزیراعلیٰ کے پی نے متعدد مرتبہ کہا کہ وہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے جب کہ بلوچستان حکومت مسلح افواج اور وفاقی حکومت سے مکمل تعاون کررہی ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملک کے تمام لوگوں کو ہم خیال ہونا پڑے گا۔ رانا ثنا نے کہا کہ نواز شریف نے ان لوگوں کو بھی فون کیا جو باہر 126 دن تک دھرنا دیے بیٹھے تھے، مولانا عبدالواسع مولانا فضل الرحمان سے بات کرلیں، اگر تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر مل کر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں تو وزیراعظم آج بھی بیٹھنے کو تیار ہیں تاہم  دہشت گردی کا مسئلہ جو ان کو درپیش ہے اس سے نمٹنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اسپیکر آفس جاکر وزیراعظم سے ملنے کو تیار نہیں، اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کو کہا کہ آپ وزیراعظم سے مل لیں انہوں نے کہا کہ میں نہیں جاؤں گا میں نے کہا اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر چلے جائیں انہوں نے کہا کہ وہ اسپیکر کو مانتے ہی نہیں۔ رانا ثنا نے کہا کہ پہلے بھی جب پی ٹی آئی  نے اسمبلیاں توڑیں اور نئے الیکشن کا مطالبہ کیا تو ستمبر کے پہلے ہفتے میں الیکشن کا طے ہوگیا تھا، شاہ محمود قریشی نے کہا میں بانی پی ٹی آئی کو بتا کر آتا ہوں اس کے بعد شاہ محمود قریشی کو انکار ہوگیا، روزانہ پاک فوج کے کڑیل جوان شہید ہورہے ہیں وہ لوگ مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں ملاقاتوں میں ایک پورے ادارے کے سربراہ کے خلاف بیانیہ بناتے ہیں ادارے کے سربراہ کے خلاف آپ تحقیر آمیز بیانیہ بنائیں پھر رولز اور قانون کے تحت ملاقاتوں پر پابندی لگ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مذاکرات کے ڈرافٹ کو دیکھیں جس میں تمام چیزیں طے ہوئیں انہوں نے صرف ایک پوائنٹ پر انکار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دیں گے، آپ کبھی ٹرمپ کے ذریعے باہر آنا چاہتے ہیں، یہ تیسرا لانگ مارچ تھا ان کا لانگ مارچ جو یہ کرنا چاہتے تھے بیس لاکھ بندوں کو لاکر حملہ آور ہونے کی بات انہوں نے کی تھی ہم نے نہیں کی۔ خیبرپختونخوا کے جن اضلاع میں معدنیات ہیں وہاں ایمرجنسی لگادی گئی ہے، مشعال اعظم سینیٹر مشعال اعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جن اضلاع میں معدنیات ہیں وہاں ایمرجنسی لگادی گئی ہے باقی میں گورنر راج لگا ہے، کیا صوبائی اسمبلی نے ایمرجنسی لگانے کیلئے کوئی قرارداد پیش کی؟ مشترکہ اجلاس میں ہمیں بتایا گیا کہ دہشت گردی کے کتنے واقعات ہوئے، آپ ملک کو توڑنے کی طرف لے جارہے ہیں، گورنر راج لگے ہوئے ایک ہفتہ ہوا، آپ نے انسداد دہشت گردی کے لیے کیا اقدامات کیے؟ گورنر ایمرجنسی لگنے کے تین دن بعد ہی بین الاقوامی اداروں کو کہتے ہیں آئی  یہاں سے معدنیات نکالیں۔ سینیٹر مشعال اعظم نے کہا کہ محسن نقوی نے آدھی بات کی، بیرسٹر سیف کو ہیلی کاپٹر دیا گیا اور عمران خان کو نتھیا گلی بھیجنے کی پیشکش کی، ہمیں بتایا گیا بانی پی ٹی آئی کی علی امین سے بات کروائی گئی اور دوسری طرف پی ٹی آئی کے دیگر لوگوں کو کہا گیا علی امین سے بات نہیں کی، ہمیں کہا گیا بانی پی ٹی آئی راضی ہوگئے ہیں 26 نمبر پر رک جائیں ہم نے کہا پی ٹی سی ایل پر ہماری بات کروائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے جو کونسل بنائی ہے اس میں سے 6 لوگوں نے معذرت کرلی ہے،  کونسل میں دو لوگ ایسے بھی ہیں جو دو سال پہلے فوت ہوچکے ہیں اس کا مطلب ہے آپ نے دو سال پہلے منصوبہ بنا رکھا تھا۔ بلوچستان میں ایک طرف دہشت گرد اور دوسری طرف حکومت انہیں مارتی ہے، مولانا عبدالواسع قبل ازیں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ دہری اذیت کا شکار ہیں ایک طرف دہشت گرد اور دوسری طرف حکومت انہیں مارتی ہے، کمشنر کو اغوا کرلیا جاتا ہے اور مقامی لوگ پیسے جمع کر کے تاوان دیتے ہیں، بلوچستان میں روزگار کے تمام معاملات مفلوج ہوچکے ہیں، جو کنٹینر پر چڑھ کر ڈیزل ڈیزل کرتے تھے آج وہی ہمارے پاؤں پڑ رہے ہیں، یہی مسلم لیگ ن والے ہیں جن کے ہم بہت کام آئے لیکن یہ اپنے لوگوں کو سنبھال نہیں سکتے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل