Loading
حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردیا، جس کے تحت خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور اس کی خرید وفروخت پر بھی پابندی ہوگی۔
محکمہ داخلہ پنجاب سے جاری اعلامیے کے مطابق پنجاب بھر میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے، پنجاب میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے آلات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے خفیہ کیمروں والی اسمارٹ عینکوں اور روزمرہ استعمال کی اشیا میں چھپے ریکارڈنگ آلات کے استعمال، خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے، عینکوں، پین، کی چین اور دیگر روزمرہ اشیا میں چھپے مائیکرو کیمروں اور خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔
صوبے میں نافذ دفعہ 144 کے تحت پابندی کا اطلاق خفیہ طور پر تصاویر، ویڈیو اور آواز ریکارڈ کرنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھنے والے آلات پر ہوگا اور پنجاب بھر میں خفیہ ریکارڈنگ آلات کی دکانوں پر اور آن لائن خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی دکان دار، تاجر یا ڈسٹری بیوٹر ممنوعہ خفیہ ریکارڈنگ والے آلات فروخت نہیں کر سکے گا، خفیہ ریکارڈنگ آلات کے استعمال سے شہریوں کی نجی زندگی، حساس معلومات اور تنصیبات کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہیں اور خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائسز پر پابندی کا مقصد شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی عزت، وقار اور نجی زندگی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، موبائل فونز اور پی ٹی اے سے منظور شدہ ٹرمینل آلات پابندی سے مستثنیٰ ہیں جبکہ خفیہ ریکارڈنگ کے آلات پر پابندی کا اطلاق 30 روز تک ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل