Loading
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود ایران پر نو ماہ سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ حملے کیے گئے اس لیے تہران کو ہی تنازع کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ان حملوں میں مناب کے اسکول کے بچوں اور لامرد میں نوجوان خواتین کو نشانہ بنایا گیا، ایرانی رہنماؤں کو قتل کیا گیا اور ایرانی عوام پر پابندیاں مزید سخت کردی گئیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکا نے 17 جون کو دستخط کیے گئے مفاہمتی معاہدے کو بھی نقصان پہنچایا اور اب عالمی برادری سے ایران کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ اس تنازع کے باعث علاقائی عدم استحکام اور عالمی معیشت میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے، جس کی قیمت دنیا بھر کے ممالک ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ شروع کرنے والے ممالک خود کو متاثرہ فریق ظاہر کرکے ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے اور نہ ہی حملہ آور کو مظلوم اور متاثرہ فریق کو قصوروار قرار دیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی مشن نے ستمبر میں کہا تھا کہ اسے ایران میں مناب کے اسکول اور لامرد کے کھیلوں کے مرکز پر فروری میں ہونے والے حملوں میں امریکی افواج کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے معقول بنیادیں ملی ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے اسکول پر حملوں سے متعلق اپنے مؤقف میں کہا تھا کہ اس کی فوجی کارروائیاں مسلح تنازع کے قوانین کے مطابق ہوتی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل