Loading
امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں مزید جنگی بحری جہاز اور ہزاروں فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خلیج ٹائمز کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اور بحری فوجیوں پر مشتمل یو ایس ایس میکن آئی لینڈ گروپ خطے میں تعینات کیا جارہا ہے۔
ان تعیناتیوں میں تقریباً 9 ہزار ملاح اور بحری فوجی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رکھنا اور ممکنہ کارروائیوں کی صلاحیت بڑھانا ہے۔
امریکا کی جانب سے بحری جہاز اور فوجیوں کی تعیناتی اس کے بعد سامنے آئی ہے جب ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کردیا ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ افزودہ جوہری مواد کا معمولی حصہ بھی ایران سے باہر نہیں جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی فوجی دباؤ کے تحت مذاکرات مسترد کرتے ہوئے پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا بھی کہنا ہے کہ امریکا کو مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کی سات شرائط پوری کرنا ہوں گی جن میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا اور منجمد اثاثے بحال کرنا شامل ہیں۔
دواسری امریکا کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کا راستہ روکنا ضروری ہے جبکہ ایران جوہری بم بنانے کی کوششوں کی تردید کرتا ہے۔
واضح رہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی حال ہی میں ایران کے دورے پر پہنچے تھے تاکہ جنگ کے دونوں فریقوں کے درمیان بداعتمادی کا خاتمہ ہو اور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل