Wednesday, October 21, 2026
 

برطانیہ: ہزار برس قدیم پُراسرار ڈھانچے کی شناخت کا معمہ حل

 



برطانیہ کے تاریخی ویسٹ منسٹر ایبی میں 150 سال سے زائد عرصہ قبل دریافت ہونے والے ایک پراسرار انسانی ڈھانچے کی شناخت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ باقیات قرونِ وسطیٰ کے دو راہبوں میں سے کسی ایک کی ہو سکتی ہیں۔ یہ باقیات 1869 میں ایبی کے احاطے میں رومی دور کے ایک پتھر کے تابوت سے ملی تھیں۔ تابوت پر موجود تحریر سے ابتدا میں اندازہ لگایا گیا کہ اس میں ویلیریئس امانڈینس نامی ایک امیر شخص مدفون تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 300 سے 400 عیسوی کے درمیان لندن میں رہتا تھا۔ تاہم، تابوت کے ڈھکن پر بنا لاطینی صلیب کا نشان دسویں یا گیارہویں صدی کا معلوم ہوتا ہے، جس سے اس شناخت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ویسٹ منسٹر ایبی کے مشاورتی ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر وارِک روڈویل اور ان کی ٹیم نے ڈھانچے کے تفصیلی تجزیے کیے۔ تحقیق کے مطابق مدفون شخص مرد تھا، اس کا قد تقریباً 5 فٹ 9 انچ تھا اور اس کی موت 35 سے 49 سال کی عمر کے درمیان ہوئی۔ پروفیسر روڈویل کے مطابق یہ باقیات ایلف وِگ یا وولنوتھ نامی راہب کی ہو سکتی ہیں۔ ایلف وِگ ویسٹ منسٹر ایبی میں ایبٹ رہے اور تقریباً 1020 عیسوی میں ان کا انتقال ہوا جبکہ ان کے جانشین وولنوتھ کی وفات 1049 عیسوی میں ہوئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وولنوتھ کو بھی اسی ایبی میں دفن کیا گیا تھا۔ یہ تابوت پہلی مرتبہ 1820 میں سامنے آیا تھا جب مزدوروں نے کام کے دوران اس کا ڈھکن توڑ دیا تھا، جو چھ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ 1869 میں اس کی باقاعدہ دریافت کے بعد ڈھکن کی مرمت کی گئی۔ پروفیسر روڈویل کا کہنا ہے کہ دونوں راہبوں کی تاریخِ پیدائش معلوم نہیں، اس لیے دستیاب شواہد کی بنیاد پر دونوں کو ممکنہ امیدوار سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم، ڈھانچے کی حتمی شناخت ابھی تک ثابت نہیں ہو سکی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل