Wednesday, October 21, 2026
 

بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

 



کراچی میں سپرہائی وے کے قریب گلشن معمار آباد ہے، نچلے متوسط طبقہ کی آبادی احسن آباد کے ایک فلیٹ میں ڈاکٹر عمیر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہتے تھے۔ ڈاکٹر عمیر احسن آباد کے قریب ایک نجی اسپتال میں ملازمت کرتے تھے، ان کو کینسر ہوگیا، وہ کینسر کے مرض کی پریشانی میں مبتلا تھے کہ انھوں نے ملازمت چھوڑ دی۔ ڈاکٹر عمیر جب اس اسپتال سے آخری تنخواہ لے کر آرہے تھے تو مسلح ڈاکوؤں نے ان سے یہ تنخواہ چھین لی۔ ڈاکٹر کی اہلیہ نے اپنا اوون فروخت کرنے کی کوشش کی ، مگر ایک پڑوسی نے انھیں 2 ہزار روپے دیے۔ شاید پھر ڈاکٹر عمیر نے شدید مالیاتی بحران کی بناء پر اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ خودکشی کرلی۔ جب پولیس دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہوئی تو گھر میں صرف انڈے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عمیر اپنا ایک کلینک چلاتے تھے۔ ڈاکٹر عمیر نے گلشن معمار کے ایک اسپتال میں ملازمت کرلی تھی مگر پھر انھیں گردے کا کینسر ہوگیا تھا۔ محلہ والوں کا کہنا ہے کہ جب ڈاکٹر عمیر کی تنخواہ ڈاکوؤں نے لوٹی تھی تو محلہ کے چند افراد گلشن معمار کے اس اسپتال گئے اور اسپتال کی انتظامیہ سے ڈاکٹر عمیر کو کچھ رقم دینے کو کہا تاہم محلہ والوں کی یہ استدعا اسپتال کی انتظامیہ نے قبول نہیں کی۔ ڈاکٹر عمیر کرایہ کے مکان میں رہتے تھے،یوں شدید مالیاتی دباؤ کی بناء پر ڈاکٹر عمیر یا شاید انھوں اور ان کی اہلیہ نے مشترکہ طور پر خودکشی کا فیصلہ کیا، جب احسن آباد کے اس فلیٹ سے 5افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں تو ہر شخص افسردہ تھا۔ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں کراچی کے ساحل پر ایک اور بندرگاہ پورٹ قاسم تعمیر ہوئی۔ پورٹ قاسم کی تعمیر کے ساتھ ہی اس علاقے میں کارخانے قائم ہوئے اور نئی بستیاں بھی آباد ہوئیں۔ بن قاسم کے علاقے میں نچلے متوسط طبقہ کی ایک سوسائٹی ہے جو بن قاسم لنک روڈ سے متصل ہے۔ 30 سالہ پراپرٹی ڈیلر شاہ زیب سوسائٹی میں اپنی 28سالہ اہلیہ، 20 سالہ بہن اور دو بیٹیوں5سالہ ایزن اور 3سالہ شاہ اربا کے ساتھ ایک کرایہ کے مکان میں رہتا تھا۔ شاہ زیب کو والد سے ورثے میں کوئی جائیداد نہیں ملی تھی جس کو فروخت کرکے وہ زندگی کا گزارا کرتا ۔ شاہ زیب کے پاس بچی کچی رقم ختم ہوچکی تھی اور کوئی روزگار نہ تھا، یوں بے روزگاری کے اثرات اس کے گھر تک پہنچ گئے۔ شاید شاہ زیب نے کچھ لوگوں سے قرضہ لیا ہوگا ، مگر پھر رشتہ داروں نے بھی منہ پھیر لیا۔ علاقہ کے مکینوں کے بھی حالات اتنے اچھے نہیں کہ وہ شاہ زیب کی مستقل مدد کرسکتے۔ شاید یہی حالات تھے کہ شاہ زیب اور اس کی اہلیہ نے اجتماعی خودکشی کا فیصلہ کیا۔ میاں بیوی نے دو کم سن بچیوں اور شاہ زیب کی بہن کو کھانے میں زہر پلادیا اور میاں بیوی نے پستول سے خودکشی کرلی۔ پولیس کو گھر کی تلاشی کے دوران شاہ زیب کا ایک خط ملا جس میں اس کی اجتماعی خودکشی کی وجوہات تحریر تھیں۔ شاہ زیب نے اس خودکشی نوٹ میں لکھا کہ ہمارے پاس روزگار نہیں ہے اور ہم چھ ماہ سے شدید پریشانی سے گزارا کررہے ہیں۔ رشتہ داروں نے ہماری مدد کرنے سے انکارکردیا اور ہمارے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ کچھ رشتہ داروں نے کہا کہ ہمارے پاس تمہارے لیے کچھ پیسے نہیں تو کچھ نے تو الزام لگایا کہ میں نے ہی اپنے والد کو قتل کیا ہے۔ اس ذلت کی بناء پر ہمارے پاس اپنی اور اپنے بچوں کی زندگیوںکو ختم کرنے کے علاوہ اب کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کے ماحول میں ان دونوں خاندانوں کی خودکشی کی وجہ شدید معاشی بحران ہے۔ گزشتہ 10برسوں کے دوران ناقص ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں بے روزگاری اور مہنگائی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں گزشتہ 5برسوں کے دوران کئی سو گنا اضافہ کی بناء پر نجی شعبہ شدید بحران کا شکار ہوا۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل کی برآمدات خاص حد تک گھٹ گئی جس کی بناء پر پورے ملک میں سیکڑوں صنعتی یونٹ بند ہوگئے۔ صرف میڈیا انڈسٹری میں ہی گزشتہ 10برسوں کے دوران 10ہزار کے قریب صحافی اور غیر صحافتی عملہ بے روزگاری کا شکار ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہر شہری معمولی کام کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔  گزشتہ دو برسوں سے ایران، امریکا، اسرائیل جنگ سے شاید خود ایران اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا پاکستان ہوا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور ہر کاروبار سکڑ کر رہ گیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں آٹے کی قیمتوں میں خوفناک اضافے نے بحران کو مزید شدید کردیا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں نے تو کفایت شعاری کے نام پر ہزاروں آسامیاں ختم کردیں مگر نجی شعبہ مکمل طور پر سکڑ کر رہ گیا۔  غیر ملکی سستے سامان نے مقامی صنعت کو ختم کرکے رکھ دیا۔ یوں بے روزگاری کی تعداد لاکھوں سے کروڑوں تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے حالیہ دنوں میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 71 فیصد ہے۔ بعض ممالک میں پاکستانی شہریوں کے لیے روزگار کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں اور تیل کے بحران کی وجہ سے خلیجی ریاستوں میں مالی ایمرجنسی کی صورتحال ہے، یوں نوجوانوں کے لیے یورپ اور امریکا جانے کے راستے بھی محدود ہوگئے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی شرح 48 فیصد ہے۔ پاکستان میں غربت کا بحران سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ایک طرف حکومت معاشی استحکام کی کامیابیوں کا جشن منا رہی ہے ، تو دوسری طرف ہر 10 میں سے تقریباً 4 پاکستانی صحت، تعلیم اور معیار زندگی کے شعبوں میں محرومی کا شکار ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی آبادی کا 38.3 فیصد کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے ، جب کہ جنوبی ایشیا میں یہ شرح 19.3 فیصد ہے۔ اس لحاظ سے ہماری صورتِ حال پڑوسی ممالک سے بھی بدتر ہے۔ بھارت کی آبادی کا 16.4 فیصد اور بنگلہ دیش کی آبادی کا 14.9 فیصد غربت کا شکار ہے۔ تاہم، یہ تخمینے مختلف برسوں میں کیے گئے سرویز پر مبنی ہیں، اس لیے انھیں ایک ہی وقت کی صورتِ حال کے مطابق قطعی درجہ بندی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے باوجود یہ تقابل ہماری ترقیاتی ترجیحات پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔پاکستان میں کثیرالجہتی غربت کی شرح، علاقائی اوسط سے تقریباً دوگنا ہونا محض کم آمدنی کا نتیجہ نہیں ہے۔ کثیرالجہتی غربت کا اشاریہ غذائیت، بچوں کی صحت، تعلیم، اسکولوں تک رسائی، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی، بجلی، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات میں کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی خاندان آمدنی کی بنیاد پر غربت کی مقررہ حد سے اوپر ہو، لیکن اس کے باوجود اسے ان بنیادی سہولتوں تک رسائی حاصل نہ ہو۔کثیرالجہتی غربت کا شکار افراد میں محرومی کی شدت 51.7 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ، آبادی کا مزید 12.9 فیصد حصہ اس نوعیت کی غربت کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مزید لاکھوں افراد بیماری، بے روزگاری، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں یا موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آفات کی صورت میں شدید محرومی کا شکار ہو سکتے ہیں۔پاکستان کی یہ ناقص کارکردگی اس معاشی حکمت عملی کی حدود کو واضح کرتی ہے جس کی توجہ بنیادی طور پر مہنگائی پر قابو پانے ، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور مالیاتی اہداف حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔  اگرچہ یہ اقدامات ضروری ہیں، لیکن ان کی جگہ معاشی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو نہیں دی جا سکتی۔ ایسی معیشت میں پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ ممکن نہیں، جہاں بچے اسکول جانے سے محروم رہیں، غذائی قلت ان کی نشوونما کو نقصان پہنچائے اور صحت کی ناکافی سہولتیں گھرانوں کو مالی مشکلات میں دھکیل دیں۔معاشی استحکام کو اس بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے کہ آیا اس سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آ رہی ہے یا نہیں، نہ کہ صرف اس بات سے کہ ادائیگیوں کا توازن برقرار ہے یا بجٹ خسارہ کم ہو رہا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان کا بڑھتا ہوا ترقیاتی فرق ایک واضح انتباہ ہے کہ انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کے بغیر معاشی استحکام غربت کو جڑ سے ختم کرنے کے بجائے اسے مزید مستحکم کر دے گا۔  کراچی میں صرف 25 دن میں 2خاندانوں کے 10افراد کی اجتماعی خودکشی بحران کی سنگینی کا واضح اظہار ہے مگر حکومت کو اس بحران کا ادراک نہیں ہے۔ یہی وقت ہے کہ ریاست کو اپنے ڈھانچے میں 50 فیصد کمی کرنی چاہیے، ورنہ اجتماعی خودکشی کے مزید واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدام پر عمل کرنا چاہیے۔ عظیم شاعر ساحر لدھیانوی نے بھارت میں غربت کے بارے میں ایک نظم کہی تھی جس کے یہ اشعار نمایاں تھے، آج یہی اشعار پاکستان کی صورتحال کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل