Loading
(پہلا حصہ)
کبھی ہم ایک ہی تھے۔ پھر بھائیوں نے گھر الگ الگ کرلیے۔ ابتدا میں رنجشیں رہیں بہت، لیکن بھائی بھی کبھی بھائی سے جدا ہوا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بنگلادیش کی بھارت نواز سابق وزیراعظم حسینہ واجد کا پندرہ برس پر محیط دورحکم رانی ایک خونیں انقلاب کے بعد ختم ہوا تو نصف صدی بعد جنوبی ایشیا کے دو مسلم ممالک پاکستان اور بنگلادیش ایک دوسرے کے نزدیک آنے لگے ہیں۔
فیض صاحب نے ’’ڈھاکا سے واپسی پر‘‘ کہا تھا کہ خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد۔ نصف صدی بعد بالآخر وہ لمحہ آہی گیا۔ اب امن کی برسات ہورہی ہے۔ رنجشوں کا وہ سفر جو نصف صدی سے زائد عرصے تک دونوں ملکوں کو فاصلے اختیار کرنے پر مجبور کرتا رہا، اس میں ایک بڑا کردار شیخ حسینہ جیسے حکم رانوں کا تھا جن کی سیاست ہی نفرتوں کی بنیاد پر قائم تھی۔
اس نفرت کے خلاف گذشتہ سال لاوا پھٹا۔ اس تحریک جامعہ ڈھاکا کے طلباء نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا اور یوں شیخ حسینہ اپنے سرپرست بھارت بدر ہونے پر مجبور ہوئیں اور چند ماہ قبل 1400 افراد کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر شیخ حسینہ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا ہے۔
نفرت کی یہ دیوار گری تو حکومتی سطح پر مثبت اقدامات کیے گئے جس کے بعد معاشی، تجارتی، تعلیمی، صحافتی اور ادبی غرض ہر سطح پر وفود بصد شوق دونوں ممالک کا رخ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب گذشتہ برس برصغیر کی تاریخی ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبہ اردو اور بنگلادیش انسٹیٹیوٹ آف اسلامک تھاٹس کی جانب سے ادبی کانفرنس کا پیغام سامنے آیا تو دل نے بے ساختہ لبیک کہا۔
اس دو روزہ کانفرنس کا آغاز9 نومبر 2025 کو یوم اقبال کی مناسبت سے ہوا تھا۔ موضوع تھا،’’قومی بیداری میں اقبال اور نذرالاسلام کا کردار‘‘
اپنے قومی شاعر علامہ اقبال سے تو ہم سب بخوبی واقف ہیں، لیکن نذرالاسلام کے کام سے پاکستان میں لوگ زیادہ واقف نہیں۔ ہم بھی محض اتنا ہی جانتے تھے کہ نذرل ایک انقلابی شاعر تھے جو بنگلادیش کے قومی شاعر بھی ہیں۔ مقالہ تو کیا، مقالے کا مجوزہ خاکہ بھی بنیادی معلومات کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ کتابوں کی کھوج کا آغاز ہمیشہ کی طرح سر زبیر سے رابطے سے ہوا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بھیا! یہ سر زبیر کون ہیں؟ جناب یہ کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ فرشتہ آدمی ہیں۔
کہنے کو تو یہ ایک لائبریرین ہیں، لیکن عام لائبریرینز کی طرح نہیں، جن کا بس نہیں چلتا کہ اگر کوئی بھولا بھٹکا شخص کسی کتاب کی تلاش میں آ ہی گیا ہے تو اس سے کیسے جلد از جلد جان چھڑائیں۔ بیدل لائبریری سے وابستہ سر زبیر کراچی کے ادیبوں، ادب پروروں، علم کے رسیا اور طالب علموں کے لیے رحمت کا فرشتہ ہیں۔
ایسا شجر سایہ دار جن کی صحبت آپ کو فیضیاب کردے گی۔ آپ ان سے ایک کتاب کا اتا پتہ پوچھیے، وہ آپ کو دسیوں کتابیں پیش کردیں گے۔ یہی نہیں بلکہ پر زور اصرار کریں گے کہ اب ان کا مطالعہ کرکے ہی اٹھیں۔ نہ صرف کراچی بلکہ اندرون و بیرون ملک سیکڑوں پی ایچ اسکالرز سر زبیر کے تعاون کے بغیر اپنی تحقیق مکمل کر ہی نہیں سکتے تھے۔
چار پانچ کتابوں سے ہماری تسلی ممکن نہیں تھی۔ کسی نے خبر دی کہ آپ کے اپنے شہر میں ’’نذرل اکیڈمی‘‘ موجود ہے۔ وہاں نذرل پر ہر طرح کا مواد ملے گا، لیکن یہ ہماری سوچ تھی۔ ہماری بہن شیما نذرل اکیڈمی جاچکیں تھیں۔ کہا چکر لگا لو لیکن فائدہ نہیں، کیوںکہ وہاں تالا ملے گا یا بڑے بڑے جالے۔ بہر حال ہم نے پوچھ تاچھ کے بعد نذرل اکیڈمی کے ایک منتظم کو ڈھونڈ نکالا۔ انہوں نے فون کال پر کہا،’’میڈم فی الوقت تو حکومتِ سندھ کے تعاون سے لائبریری میں تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔
پندرہ دن لگیں گے۔ بس میں آپ کا نمبر محفوظ کرلیتا ہوں۔ افتتاح والے روز آپ کو بھی مدعو کریں گے۔ آپ آئیے گا۔‘‘ پندرہ دن سے پہلے ہمیں مقالہ مکمل کرنا تھا۔ اب نذرل اکیڈمی کے آسرے میں تو نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ اور اچھا ہی کیا کہ اس وعدے پر اعتبار نہ کیا۔ ورنہ ہم گنگناتے پھرتے کہ غضب کیا ترے وعدے پر اعتبار کیا، کیوںکہ پندرہ دن کیا، پورا ایک برس بیت گیا۔ نذرل اکیڈمی کی تزئین و آرائش غالباً مکمل نہ ہوسکی۔ کال نہ آنی تھی، نہ آئی۔
بہر حال سر زبیر، اور ہمارے ریڈیو کے ساتھی ابصار احمد جو ملی نغمات پر تحقیق کے حوالے سے معروف ہیں۔ ان دونوں نے جہاں تک ممکن ہوسکا ہماری معلومات میں اضافہ کیا۔کتابوں کا ڈھیر لگادیا۔ یوں ہم نے ایک اچھا سا مقالہ تحریر کیا۔
اب باری تھی ویزا لگوانے کی۔ پاسپورٹ ایکسپائر تھا اور چند ماہ قبل شناختی کارڈ والٹ کے ساتھ چوری ہوچکا تھا۔ وقت کم مقابلہ سخت۔ نادرا ایپ سے آن لائن شناختی کارڈ بنوایا اور موسٹ ارجنٹ پاسپورٹ۔ کانفرنس میں پانچ روز باقی تھے جب ہم ویزا لگوانے پہنچے۔ فیس طلب کی گئی 2300روپے۔ ہم نے کہا کہ بھائی فیس تو 650 روپے ہے۔ یہ 2300 روپے کس خوشی میں؟ بنگالی لہجے میں فرمایا گیا کہ ہم آپ کو ملٹی پل ویزا دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا جناب عالی ہم نے فارم میں سنگل اینٹری ہی لکھا ہے۔ ہمیں ملٹی پل کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ان کا اصرار تھا کہ ہم ملٹی پل ہی دیں گے۔
دل میں سوچا کیا پتا۔ اگلے سال پھر سے کانفرنس منعقد ہو۔ چلو اگلے دو چار برس کے لیے سہولت ہوجائے گی۔ ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔ لیکن ہمارا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا جب چار دن بعد انہوں نے ہمیں صرف پندرہ دن کا ویزا دیا۔ ہم نے صاحب سے پوچھا کہ وہ ملٹی پل ویزا کیا ہوا؟؟ فرماتے ہیں پندرہ دن میں آپ بار بار اینٹر ہوسکتی ہیں۔ چہ معنی دارد؟ یہی سلو ک ہماری بہن اور ڈاکٹر ظفراقبال کے ساتھ بھی ہوا۔ انہیں ملٹی پل اینٹری ویزا صرف دس روز کا ملا۔ اس حرکت سے اندازہ ہوا کہ بنگالی کل ہی نہیں آج بھی ہمارے بھائی ہی ہیں۔ چونا لگانا انہیں بھی خوب ہی اچھی طرح آتا ہے۔
بہر حال ہمارے پر زور اصرار پر ہماری بہن شیما بھی مقالہ بھیج چکی تھیں اور پرواز کے لیے پر تول رہی تھیں۔ ہمارا اصرار اس لیے تھا۔ فلائٹ میں ہمیں بہت ڈر لگتا ہے۔ جیسے جیسے جہاز اوپر جاتا ہے۔ ہمارا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اس لیے شیما کا دم غنیمت ہوتا۔ لیکن یہ کیا؟ شیما صاحبہ نے تاخیر سے فلائٹ بک کروائی۔ یوں انہیں ہماری ایئرلائن قطر ایئر ویز میں جگہ نہ ملی۔ وہ دبئی ایئرویز سے عازم سفر ہوئیں۔ اور اکیلے سفر میں ہمارا دم حلق مین آتا رہا وہ تو بھلا ہوکہ صومالیہ کے محمد ہمارے ساتھ والی نشست پر موجود تھے جو اپنے سرکاری ادارے کی جانب سے کراچی میں بحری فوج کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے۔ محمد نے اپنی شادی کی تصاویر اور تہذیب و ثقافت کی باتوں میں ہمیں ایسا مشغول کیا کہ ہم باقی چیزیں بھول گئے۔
ڈھاکا : پھر بنے ہم آشنا
گذشتہ برس تک کراچی سے ڈھاکا کوئی براہ راست فلائٹ نہیں جاتی۔ اسی لیے پہلے کراچی سے دوحہ گئے۔ پھر آٹھ گھنٹے انتظار کے بعد دوحہ سے ڈھاکا کا سفر شروع ہوا۔ ڈھاکا پہنچے تو یہ سفر لگ بھگ بیس گھنٹے پر مشتمل تھا۔ اگر ہماری فلائٹ کراچی سے براہ راست ڈھاکا ہوتی تو یہ سفر محض تین ساڑھے تین گھنٹے میں مکمل ہوجاتا۔ وقت اور پیسوں کا زیاں الگ اور تھکن سے چور حالت زار الگ۔ شکر ہے کہ اب کراچی سے براہ راست ڈھاکا فلائٹس شروع ہوچکی ہیں جن پر پاکستان مخالف شیخ حسینہ کے دور میں پابندی لگادی گئی تھی۔
بہرحال رات کو تین ساڑھے تین بجے ڈھاکا ایئر پورٹ پر اترے امیگریشن کروایا۔ پاکستان اور ایران سے آنے والوں کو الگ سے فارم بھی بھروایا جارہا تھا جس میں اپنے میزبان اور رہائش کی تفصیلات فراہم کرنی تھیں۔ یہ مکمل تفصیل تو ہم ویزا فارم میں پہلے ہی فراہم کرچکے تھے اب ایک بار پھر سے وہی مشق۔ بہرحال مرتے کیا نہ کرتے۔ یہ عمل بھی مکمل کیا۔ بنگلادیش کے معاشی اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے ہمارا خیال تھا کہ ڈھاکا ایک روشن چمکتا دمکتا چہرہ ہوگا، جس کے گالوں پر صحت مندی کا غازہ ہوگا۔ لیکن اندر قدم رکھتے ہی ہمیں محسوس ہوا کہ کیوںکہ ہم ابھی ابھی دنیا کے شان دار ترین دوحہ ایئرپورٹ سے ڈھاکا پہنچے ہیں۔
اس لیے توقعات زیادہ لگا لیں۔ حضرت شاہ جلال ایئرپورٹ کی حالت زار دیکھ کر تعجب ہوا۔ وہ انٹر نیشنل ایئرپورٹ تو کہیں سے بھی محسوس نہیں ہورہا تھا۔ کثرت استعمال سے اسٹاف کیبنز آلودہ ہورہے تھے۔ کہیں پوسٹرز پھٹے ہوئے تھے۔ ہمیں تو اسلام آباد ایئر پورٹ کے آگے اب کراچی کا جناح انٹرنیشنل بھی چھوٹا لگنے لگا ہے۔ لیکن وہاں کم از کم اینٹری سے ایگزٹ (داخلے سے روانگی ) تک کہیں بھی کسی سے راستہ پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ہر جگہ ڈیجیٹل سائنز نشان دہی کررہے ہوتے ہیں۔
سیکیوریٹی کلیئرنس سے بورڈنگ اور ویٹنگ لاوٗنج تک پہنچنا کسی نووارد کے لیے بھی مشکل نہیں۔ ڈھاکا ایئرپورٹ پر ایسا کچھ نہیں تھا۔ بہر حال ہمارے ساتھ ڈاکٹر ظفراقبال کی موجودگی غنیمت تھی۔ ڈاکٹر صاحب الخدمت فاؤنڈیشن میں سنیئر میڈیکل سپریڈینڈنٹ ایسٹ زون ہیں۔ وہ طویل عرصہ سعودی عرب میں میڈیکل خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ بنگالی، عربی اور دیگر کئی زبانوں سے شناسائی رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں سے راستہ پوچھتے رہے اور ان کی راہ نمائی میں ہم چلتے گئے۔ سامان وصول کیا اور باہر کا رخ کیا۔ یہ کیا؟ ہماری آنکھیں حیرت سے ابلنے کے لیے بے تاب تھیں۔ ایئرپورٹ پر رکشے ،کوسٹرز،کاریں، ڈبل کیبن گاڑیاں اور ایک ہجوم بے کراں موجود تھا۔ وہ ایئرپورٹ کم اور بس اڈا زیادہ لگ رہا تھا۔
تعجب و حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ ہم اپنے میزبان کے پاس پہنچے۔ ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے طالب علم زاہد ہمیں لینے پہلے سے ہی موجود تھے۔ جتنی دیر میں انہوں نے ہوٹل کے لیے گاڑی بک کی۔ اتنی دیر ہم غش کھانے کی سی حالت میں تھے۔ سوچ رہے تھے کہ کیا ہمارے ملک میں ہی سیکیوریٹی اتنی سخت ہے کہ ایئرپورٹ پر کوئی غیرمتعلقہ گاڑی بغیر مسافر جا ہی نہیں سکتی؟ اور جانے والی گاڑی مسافر کو اتارتے ہی واپسی کا رخ کرے گی۔ ہم نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ شاید یہاں پڑوسی ملکوں کی دراندازی اتنی نہ ہو۔ دہشت گردی کے واقعات معمول کا حصہ نہ ہوں۔ جب ہی ایئرپورٹ پر اتنی بے نظمی ہے، جو خدانخواستہ کسی بھی وقت کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
بیس بائیس برس کے زاہد میاں کے بنگالی لہجے سے اردو کیسی بھلی لگ رہی تھی۔ انہوں نے ہمیں دیکھتے ہیں سامان خود اٹھا لیا اور آداب ِ میزبانی اس انکساری سے نبھائے کہ ہم شرمندہ ہوتے رہے۔ بہر حال جب ہم ’’پلٹن روڈ‘‘ پر واقع ’’ہوٹل 71 ‘‘ پہنچے تو سحر ہونے ہی والی تھی۔ تھکن سے بری حالت تھی لیکن صبح آٹھ بجے شیما بھی آنے والی تھیں، ان کے انتظار میں ہم نے اگلے دو تین گھنٹے سوئی جاگی سی کیفیت میں گزارے۔ کانفرنس کا انعقاد تو اگلے روز تھا۔ لیکن اس سے قبل ایک بہت اہم سرگرمی ہماری منتظر تھی، جہاں جانا، لوگوں سے ملنا ، ہمارا برسوں پرانا خواب تھا۔
محبانِ پاکستان کس حال میں ہیں؟
شیما ڈھاکا پہنچیں تو تھکن کے باوجود سو نہ سکیں۔ کیوں؟ وہ اس لیے کہ ہم دونوں ہی محصورین کے کیمپس دیکھنا چاہتے تھے۔ ہمارے بچپن میں اخبارات میں یہ بیانات وقتاً فوقتاً شائع ہوتے تھے کہ ہم محصورین بنگلادیش کو واپس وطن لائیں گے۔ یہ دراصل انتخابی نعرہ ہوتا تھا جو خاص کر جماعت اسلامی اور ایم کیوایم کے منشور کا حصہ ہوتا تھا۔ حال ہی میں ہم نے فیض کی نظم ’’ڈھاکا سے واپسی‘‘ پڑھاتے ہوئے طالب علموں سے پوچھا کہ محصورین بنگلہ دیش کا نام کبھی سنا ہے؟ یا اسٹینڈرڈ پاکستانیز کا لفظ؟ یہ کون لوگ ہیں ؟ بہت غور کے بعد ایک سمجھ دار طالب علم نے کہا بنگلادیش میں روہنگیا مسلم کے کیمپس ہیں۔ جواب غلط تو نہ تھا، لیکن کتنا تکلیف دہ تھا۔ ہم روہنگیا سے تو واقف ہیں لیکن اپنے پیاروں سے نہیں۔ آہ۔۔۔ ایک سرد آہ ہمارے لبوں سے نکلی۔ یہ چند نوجوانوں کا نہیں من حیث القوم ہم سب کا المیہ ہے۔ آج کوئی محصورین کا نام بھی نہیں جانتا۔ یہ کسی کے انتخابی نعرے کا بھی حصہ نہیں۔ وہ جنہوں نے موت کو سامنے دیکھنے کے باجود پاکستان زندہ باد کا نعرہ ترک نہیں کیا، انہیں ہم ایسے بھولے ہیں کہ بقول عزیز حامد مدنی:
وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تری بزم خیال سے بھی گئے
ڈھاکا جانے کا قصد کرتے ہی ہم نے احتشام ارشد نظامی ماموں سے رابطہ کیا۔ وہ ہیں تو ہماری عزیز سہیلی ماہین زیدی کے ماموں لیکن ہم بھی انہیں ماموں ہی کہتے ہیں جس پر وہ ہمیشہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ بے حد شفیق اور قابل احترام شخصیت ہے ان کی۔ محصورین کو ان کا حق دلانے کے لیے ہمہ وقت ان کی آواز بنے رہتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان سے درخواست کرتے کہ ہمیں محصورین کے کیمپس کا دورہ کرنے میں ان کا تعاون درکار ہے۔ انہوں نے خود ہی کہا تم دونوں بہنیں محصورین کے کیمپس ضرور جانا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ احتشام صاحب کا آبائی شہر ڈھاکا ہے۔
اکہتر کے سانحات کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستانی فوج کا ساتھ دینے پر محصورین کا جس طرح قتل عام کیا گیا وہ ان کے دل پر رقم ہے۔ ان کا خاندان تو بچ بچا کر کراچی آنے میں کام یاب رہا لیکن ان کا دل آج بھی ڈھاکا میں دھڑکتا ہے۔ وہ اب شگاگو میں مقیم ہیں۔ وہ اور ان کے رفقاء طویل عرصے سے ’’فرینڈز آف ہیومینٹی، امریکا‘‘ کے نام سے ایک فلاحی تنظیم چلارہے ہیں، جس کا مقصد محصورین کے لیے بنیادی ضروریات کا انتظام ہے۔
ہمیں محصورین کا کیمپ دکھانے کے لیے ماموں نے ہمارا رابطہ ہارون الرشید صاحب سے کروادیا تھا۔ ہارون صاحب کے والد نسیم خان نے اسٹینڈرڈ پاکستانیز کی بنیاد رکھی تھی۔ ان سے زیادہ بہتر محصورین کی نمائندگی کا حق کون ادا کرسکتا تھا۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد ہارون صاحب اسٹینڈرڈ پاکستانیز کے راہ نما ہیں۔ ہارون بھائی کی گاڑی میں سوار ہم ڈھاکا کی تنگ سڑکوں سے میر پور کی جانب سے عازم سفر ہوئے۔ راستے میں ڈبل ڈیکر گاڑیاں دیکھیں جو کراچی کی لوکل بسوں کی طرح کافی خستہ حال ہوچکی تھیں۔
تقریباً ہر چوک پر سیاسی تاریخی مجسمے موجود تھے، جو پہلی چیز ہم نے نوٹس کی وہ یہ کہ سڑکیں انتہائی تنگ ہونے کی وجہ سے ٹریفک شدید جام تھا۔ اس کے باجود دھواں اور گردوغبار نہیں تھا۔ کسی گاڑی سے پیٹرول ڈیزل کا کالا دھواں نہیں نکل رہا تھا۔ کراچی میں جہاں اتنا ٹریفک جام ہو تو دھوئیں کے باعث سانس لینا دوبھر ہوجاتا ہے۔ یقیناً شہر میں سختی سے گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہوگی، جس کی وجہ سے ڈھاکا میں ٹریفک کے باوجود فضا آلودہ اور طبیعت مکدر نہیں ہوتی۔ دوسری چیز یہ کہ تقریباً تمام ہی چھوٹی بڑی نئی پرانی عمارتوں پر کاہی مائل سیاہی سی چھائی تھی۔ حتٰی کہ درخت کے تنے اور پتے بھی کاہی سبز تھے۔ پتا چلا کہ یہ کائی جمی ہے کیوںکہ یہاں بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔
میر پور پہنچے تو پہلے حیران پھر شرمندہ ہوئے کہ انتہائی مجبور، بے بس اور بے کس محصورین ہمارے استقبال کے لیے ہار پھول لے کر کھڑے تھے۔ خواتین نے ہمیں گلے لگایا۔ کیمپ کے تمام ہی نمائندہ افراد خوش دلی سے استقبال کررہے تھے۔ ہمیں اپنا آپ کسی سیاسی راہ نما کا سا محسوس ہوا، لیکن سوائے قلم کی طاقت کے ہمارے ہاتھ میں تو کچھ نہیں کہ ان کے مسائل حل کرسکتے۔
کیا محصورین کو بنگلادیش کی شہریت مل چکی ہے؟
ہم گذشتہ چار پانچ سال سے اس تگ و دود میں تھے کسی طرح محصورین کی اصل حیثیت سے واقف ہوسکیں۔ پاکستان تو کیا نام ور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ پاکستانی صحافی بھی یہ رپورٹ کرتے رہے کہ 2008 میں بنگلادیش کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اکہتر کے بعد پیدا ہونے والے محصورین کو شہریت مل چکی ہے اور وہ ماضی کے مقابلے میں بہتر طرز زندگی گزار رہے ہیں۔ یقیناً یہ جھوٹ ایک سوچے سجھے منصوبے کے تحت پھیلایا جاتا رہا ہے، تاکہ کم از کم پاکستان میں لوگ اسی اندھیر میں رہیں کہ ان کے محسن محصورین بنگلادیش بالآخر کسی حتمی فیصلے تک پہنچ گئے۔ ان کی زندگی میں بھی سکون آگیا۔ چلو ٹھیک ہے پاکستان سے محبت اپنی جگہ، پاکستان نہ سہی بنگلادیش ہی سہی۔ کہیں تو قرار آیا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔
’’اسٹینڈرذ پاکستانیز‘‘ نامی تنظیم کے سربراہ ہارون الرشید، ان کے ساتھیوں اور عام محصورین نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے بتایا کہ محصورین کی بنگلادیش کی شہریت اب بھی ایک سوالیہ نشان ہے، کیوںکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے18سال بعد بھی پارلیمنٹ سے اب تک منظوری نہیں ملی ہے۔ یوں یہ شہریت صرف اس حد تک ہے کہ ہم ووٹ تو ڈال سکتے ہیں لیکن بنیادی حقوق پر ہمارا کوئی حق نہیں۔ ہم نے تعجب سے پوچھا، لیکن ہارون بھائی، ووٹ تو وہی شخص ڈال سکتا ہے جو اس ملک کا شہری ہو؟ ہارون الرشید صاحب نے کہا، جی یہی تو بات ہے۔ جب کسی کو ووٹنگ کا حق ہو تو یقیناً وہ شخص اس ملک کا شہری ہی ہوگا۔ لیکن ہماری شناخت کا حصول اب بھی غیراعلانیہ طور پر بند ہے۔ ہمارے بچے پڑھ سکتے ہیں نہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرسکتے ہیں۔
کریں تو کیا کریں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بہت سے لوگوں کو شناختی کارڈ ضرور ملا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کیمپ سے اپنا تعلق چھپایا اور شہر میں مقیم عزیز و اقارب میں سے کسی کا پتا لکھوایا۔ لیکن کیمپوں کے رہنے والے لاکھوں لوگ وہ ہیں جن کے عزیز و اقارب یا تو پاکستان میں ہیں یا کیمپوں کے اندر ہی موجود ہیں۔ وہ کس طرح شناختی کارڈ بنوا سکتے ہیں؟
اول تو کسی کے پاس وسائل ہی نہیں کہ وہ بچوں کو اسکول میں داخل کروائے۔ اکا دکا افراد ہی یہ خرچ برداشت کرسکتے ہیں۔ اسکول میں بچوں کو داخل کروانے جائیں تو کیمپ کا پتا دیکھتے ہی اسٹاف بچے کو داخل کرنے سے منع کردیتا ہے۔ یہی حال ملازمت، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کا ہے۔ ہمارے بچوں نے اگر کچھ لکھنا پڑھنا سیکھا تو وہ این جی اوز کی جانب سے کیمپوں میں قائم اسکولوں کے ذریعے سیکھا۔ لیکن یہ اسکول بھی زیادہ تر پانچویں جماعت تک ہیں۔ وہاں بنگالی اردو انگریزی سے بچوں کو بنیادی واقفیت ہوجاتی ہے۔ ہمیں یہ بتادیا گیا ہے کہ بنیادی حق ہمیں اس وقت تک نہیں ملے گا جب تک ہم جھوٹ نہ بولیں۔ ہم یہیں پیدا ہوئے لیکن ہمیں شناختی کارڈ نہیں مل سکتا، کیوںکہ جب ہم شناختی کارڈ بنوانے جاتے ہیں تو متعلقہ ادارے جیسے ہی کیمپوں کا پتا دیکھتے ہیں وہ شناختی کارڈ بنانے سے صاف انکار کردیتے ہیں۔
ہم اس نکتے کو بہت اچھی طرح اس لیے سمجھ سکتے ہیں کہ ہم کراچی کے بنگالیوں کے استحصال پر مبنی رپورٹس بناچکے ہیں۔ کراچی کی مچھر کالونی میں مقیم بنگالی بولنے والے لاکھوں افراد آج بھی شناختی کارڈ سے محروم ہیں، کیوںکہ نادرا کے اہل کار ان سے اکہتر سے قبل کے کاغذات مانگتے ہیں۔ تعلیم سے دور اس طبقے کے پاس اکثر وہ کاغذات محفوظ ہی نہیں۔ یوں وہ بنگالی جنہوں نے ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی، آج بھی شناخت سے محروم ہیں۔
بنگلادیش کے 66 مختلف شہروں میں اس وقت 126 کیمپس ہیں، جن میں ایک اندازے کے مطابق کل آبادی ساڑھے چار لاکھ سے زائد ہے۔ یہاں آبادی کا آخری سروے نوازشریف حکومت نے 1992میں کرایا تھا جس کے مطابق آبادی ساڑھے تین لاکھ تھی۔ یہاں بہت سے کیمپوں کو منہدم بھی کردیا گیا۔ میرپور کے ایک کیمپ کے سامنے ایک بلندبالا کمرشل اور رہائشی بلڈنگ ’’نوانہ ہائٹس‘‘ کے نام سے ہے۔ کیمپ کے لوگوں نے بتایا کہ پہلے یہاں بھی ہمارا کیمپ تھا لیکن سرکار نے یہ کہہ کر کیمپ خالی کروایا کہ چوںکہ یہ کیمپ بہت خستہ حال ہوچکا ہے اس لیے یہاں ہمارے لیے نئے رہائشی یونٹ بنائے جائیں گے۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ چلو سرکار کو ہمارا بھی خیال آیا، لیکن دراصل وہ ہم سے ایک بار پھر دھوکا کررہے تھے۔ ہمارے کیمپ کی جگہ انہوں نے بہت بڑے بلڈر نوانہ گروپ کو و دے دی اور ہم آج بھی نوانہ ہائٹس کو اسی حسرت سے دیکھتے ہیں جس حسرت سے ہم اپنے ان گھروں کو دیکھتے ہیں جن پر اکہتر میں قبضہ کرلیا گیا۔
وہ ہمارا گھر ہے لیکن رہتا کوئی اور ہے۔ ہم نے صبح سے شام تک میرپور کے مختلف کیمپس کا دورہ کیا۔ اب ہم کیا بتائیں کہ محصورین کس کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ یہاں گیس ہے نہ پانی، اور تو اور دو ہزار افراد کے لیے صرف پانچ سے سات واش رومز ہیں۔ کثرت استعمال کے باعث جن کی حالت ناقابل بیان ہے۔ سات بائی آٹھ فٹ کی جھگیوں یا چار دیواریوں میں بیس پچیس افراد رہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں یہ سمجھ لیں کہ یہ جگہ ایک ڈبل بیڈ کے سائز کی ہے یا آپ کسی جگہ اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلا کر کھڑے ہوجائیں، تو یہ ایک فیملی کا کیمپ ہے۔
یہی ان کی کُل کائنات ہے۔ اس جگہ بیس پچیس افراد کا رہنا ناممکن ہے تو ایک وقت میں آدھے افراد گھر میں ہوتے ہیں اور آدھے گھر سے باہر۔ ان میں ساس سسر بھی ہیں اور بہو بیٹا اور بیٹی داماد بھی اور نصف درجن بچے بھی۔ ہمیں ہر گھر میں اسٹیل کے پائپوں والے پلنگ دکھے، جنہیں اینٹیں رکھ کر اونچا کیا گیا تھا۔ تھوڑی حیرانی سے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ تو بتایا گیا کہ کیوںکہ اتنے زیادہ افراد ایک جگہ نہیں آسکتے تو آدھے افراد بستر کے اوپر اور آدھے پلنگ کے نیچے سوتے ہیں۔ یعنی یہ محصورین کے ڈ بل اسٹوری بیڈ ہیں۔ کیمپس میں گیس نہیں، اور پانی بھی نہیں ہے۔
گلیاں، جنہیں گلیاں کہنا یقیناً درست نہ ہوگا، اتنی تنگ ہیں کہ ایک فرد کھڑا ہو تو دوسرا نہیں نکل سکتا۔ کیمپوں میں جتنے انسان ہیں اتنی ہی آبادی کتوں کی بھی ہے۔ قدم قدم پر کتے راستہ روکنے کو تیار۔ ٹوٹی پھوٹی تنگ گلیاں، جنہیں گلیاں کہنا بھی گلی کی توہین ہے، سیوریج تباہ حال ، منہدم ہوتی چار دیواریاں۔ یہ جگہ انسانوں کے رہنے کے قابل ہرگز نہیں۔ جانور بھی ایسی جگہ رہ نہیں سکتے۔ یہ سوچ کے دل دہل سا جاتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے پکے مضبوط دیواروں والے گھر اسی ڈھاکا شہر میں موجود ہیں۔ ملک کا مشرقی بازو الگ ہوتے وقت ان گھروں پر چند ما ہ میں ہی قبضہ ہوچکا تھا۔ جو گھر اور دیگر مقامات قبضے سے بچ گئے تھے انہیں شیخ حسینہ واجد نے ’’غداروں‘‘ کی جگہ قرار دے کر ’’اکہتر کے شہداء‘‘ میں تقسیم کردیا۔ وہ آج بھی اپنے گھروں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جو، اب مقامی بنگالیوں کے قبضے میں ہیں۔
اسٹینڈرڈ پاکستانیز کے نمائندہ ہارون الرشید کئی بار پاکستان آچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محصورین کی پاکستان منتقلی کے انتخابی نعرے ہر سیاسی جماعت نے لگائے۔ اس معاملے میں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم پیش پیش رہیں۔ صدر ضیاء نے اسلامی بینک میں پچاس کروڑ کا فنڈ رکھا۔ لیکن اس حوالے سے صرف نوازشریف نے وعدے پر عمل کیا۔ انہوں نے اپنے پہلے دورحکومت میں محصورین اکیتین سو پچیس گھرانوں کو پاکستان میں آباد کیا تھا۔ 1992 میں محصورین کا پہلا گروپ پاکستان آیا۔ اسی طرح مزید افراد کو بھی لانا تھا لیکن اس سے قبل ہی ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ یوں یہ عمل کبھی مکمل نہ ہوسکا۔
ہارون الرشید کہتے ہیں کہ مشرف دور میں ایم کیو ایم اس پوزیشن میں تھی کہ وہ محصورین کی واپسی یقینی بناتے۔ اس حوالے سے میری اور میرے والد نسیم خان جنہوں نے اسٹینڈرڈ پاکستانیز کی بنیاد رکھی تھی۔ ہم نے جنرل پرویز مشرف، مصطفیٰ کمال، گورنر عشرت العباد اور دیگر راہ نماؤں سے ملاقات بھی کی تھی۔ بہت تسلی دلاسے دیے گئے وعدے وعید ہوئے، لیکن حاصل حصول کچھ نہیں ہوا۔ ایم کیو ایم ہی نہیں انہیں جماعت اسلامی سے بھی شدید شکایت ہے۔ کہتے ہیں کہ پاکستان کی حمایت ہمارا جرم تھا، وہی اب یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ محصورین کو شہریت مل چکی ہے۔ ہم پاکستان آنا نہیں چاہتے اور بنگلادیش کی ترقی میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے بڑا مذاق ہمارے ساتھ اور کیا ہوسکتا ہے۔ چند مٹھی بھر نوجوان یقیناً کیمپ سے نکلنے میں کام یاب ہوگئے لیکن لاکھوں اب بھی یہاں جانوروں کی طرح پل رہے ہیں۔ اور ان کی اگلی کئی نسلیں اسی طرح رُلتی رہیں گی۔
وہیں موجود ایک شخص نے ہم سے سوال پوچھا کہ کیا افغانیوں نے پاکستان بنایا تھا؟ ہم نے انکار میں سر ہلایا۔ انہوں نے فوراً ہی اگلا سوال داغا۔ کیا افغانیوں نے پاکستان بچایا تھا؟ ہم نے پھر انکار میں سر ہلایا تو گلوگیر لہجے میں کہا گیا۔ ہمارے بزرگوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لے کر پاکستان بنایا تھا۔ اور ہم نے اکہتر میں پاکستان بچانے کے لیے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیاتھا۔ پچاس لاکھ افغانیوں کو تو پاکستان پناہ دیتا ہے لیکن ہم جو آج بھی پاکستانی ہیں، ہمارے لیے، ہمارے ہی ملک میں کوئی جگہ نہیں۔ نصف دہائی بعد پاکستان بنگلادیش کے تعلقات تو اچھے ہوگئے لیکن ہم اب بھی کسی بھی فریق کے لیے قابل قبول نہیں۔ ہم آج بھی اپنی شناخت کے منتظر ہیں۔
ہم دل گرفتگی کی حالت میں محض یہ سوچ کر رہ گئے کہ آخر کب تک یہ بے بس اسٹینڈرڈ پاکستانی یونہی لاچاری کی زندگی گزاریں گے اور آخر ہم کب تک اس سنگین انسانی المیے سے یونہی صرف نظر کرتے رہیں گے۔ اگر نصف دہائی بعد پاکستان اور بنگلادیش کے تعلقات خوش گواری کی انتہا پر ہیں تو کیا یہی وہ موقع نہیں کہ اب ا س مسئلے کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکالا جائے۔ اصولی طور پر تو ان سب کو جلدازجلد پاکستان لاکر بسانا چاہیے، لیکن اگر اسٹینڈرڈ پاکستانیز کا پاکستان آنا ممکن نہیں تو کیا پاکستان دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر بنگلادیش میں ہی ان کی آباد کاری کے لیے کوششیں نہیں کرسکتا۔ کیا ہمارے محسنوں کا ہم پر اتنا حق بھی نہیں؟ اور کیا ہم اتنے ہی احسان فراموش ہیں؟ چالیس برس قبل اسی مقصد کے لیے عالمی اسلامی کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپیہ جمع کیا گیا تھا وہ کیا ہوا؟
حال ہی میں بنگلادیش میں کیمپوں کا دورہ کرنے والے الخدمت فاؤنڈیشن سے منسلک معروف ڈاکٹر فیاض عالم صاحب کا یہ مؤقف کافی حد تک درست نظر آتا ہے کہ اب ہمیں ان مسائل کو حل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے جس سے کیمپوں میں مقیم بہاریوں کی زندگی میں کچھ سکون آسکے۔ ان کی آباد کاری اور ہاؤسنگ اسکیم کے لیے کوششیں کرنی چاہییں۔ ان کی تعلیم صحت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، کیوںکہ اگر بہاریوں کو لانے کی مخلصانہ کوششیں ہوتیں تو اب تک سب اپنے ملک آچکے ہوتے۔ اب انہیں پاکستان لاکر بسانا دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ افسوس لیکن کڑوا سچ اب یہی ہے۔
طویل فلائٹ کے فوراً بعد پورا دن کیمپوں میں گزرا۔ ہماری حالت تھکن سے چور تھی، لیکن ہارون صاحب اور ان کے ساتھی آداب میزبانی نبھانے کے لیے ہمیں لے کے ریسٹورینٹ پہنچے۔ ہم نے لاکھ انکار کیا لیکن انہوں نے ہمیں کھانا کھلائے بغیر جانے نہیں دیا۔
متحدہ پاکستان کی یادگار: ڈھاکا کی بیت المکرم مسجد
اگلے روز صبح سویرے ہماری آنکھ کھلی۔ ہمیں ہارون بھائی نے بتایا تھا کہ مسجد بیت المکرم ہمارے ہوٹل سے بہت نزدیک ہے۔ اس لیے ہم سویرے اٹھتے ہی مسجد کی تلاش میں نکلے۔ ڈھاکا کو مسجدوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مسجد کبھی ڈھاکا کی سب سے بڑی مسجد تھی۔ یہ متحدہ پاکستان کی بھی علامت ہے کہ اسے صدر ایوب نے بنوایا تھا۔ پیدل چلتے ہم مسجد پہنچے تو مسجد بند تھی۔ کنڈی کھولی اندر گئے تو سناٹا۔ ایک صاحب وہاں صفائی کررہے تھے۔ ان سے اندر جانے کا پتا کیا تو معلوم ہوا کہ ابھی سب بند ہے۔ خیر ہم نے مسجد کی سیڑھیوں پر ایک یادگار تصویر بنوائی اور واپسی کی راہ لی۔
ہوٹل پہنچے تو ناشتے کا وقت ہوچکا تھا۔ ناشتہ کیا اور جلدی سے تیار ہوکے پھر نیچے اترے جہاں لابی میں زاہد میاں اور ان کے ساتھ دیگر ہونہار طالب علم ہمیں ڈھاکا یونیورسٹی لے جانے کے لیے منتظر تھے۔ دیگر ملکوں سے آئے مندوبین سے سرسری سی ملاقات رات کو ہی ہوچکی تھی۔ اب لابی میں سب جمع ہوئے تو پاکستانی وفد بھی آپس میں بغل گیر ہوا اور ہندوستانی نیپالی، اور دنیا کے مختلف ممالک کے مندوبین پرتپاک انداز میں ملے۔
کچھ تاخیر سے ہم جامعہ ڈھاکا پہنچے تو انٹرنیشنل ہال کے بیرونی دروازے پر ہی طلباء و طالبات مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔ شعبے کی تمام خاتون اساتذہ اور طالبات نے ساڑی باندھی ہوئی تھی۔ اتنے خوش رنگ اور طرح طرح کے انداز والی ساڑیاں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔
ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی جانب سے یہ چوتھی عالمی کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ اس سے قبل 2014 ، 2017 اور 2020 میں بھی کانفرنسز منعقد کی گئیں جن میں دنیا کے 11ممالک کے مندوبین نے شرکت کی، لیکن شیخ حسینہ جیسی متعصب حکم راں نفرت میں اتنی اندھی تھیں کہ شعبۂ اردو کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں اردو کے سب سے اہم مرکز پاکستان سے کسی کو مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ خیر2025 میں ہونے والی یہ کانفرنس اس حوالے سے اہم تھی کہ پہلی بار پاکستانی مندوبین بھی کانفرنس کی شان بڑھانے کے لیے موجود تھے۔ اس کانفرنس میں بنگلادیش، بھارت، پاکستان، انگلینڈ، امریکا، مصر، ایران ، ناروے، فن لینڈ، ترکی، روس، جرمنی، نیپال سویڈن، جاپان ڈنمارک، کینیڈا، چین، ازبکستان، ماریشس اور ملائشیا سے مندوبین نے شرکت کی۔ دو روزہ کانفرنس میں18سیشن میں علامہ اقبال اور نذرالاسلام کے حوالے سے 127 مقالے پیش کیے گئے، جن میں دو سیشن آن لائن مندوبین کے بھی تھے۔
یہ ایسی شان دار تقریب تھی جہاں ہماری ملاقات ہندوستان سے آئے معروف ادبی شخصیت خواجہ اکرام صاحب سے بھی ہوئی۔ اور جواہر لعل یونیورسٹی کے ڈاکٹرنصیب علی سے بھی۔ نیپال کے ڈاکٹر ثاقب ہارونی سے بھی۔ پاکستان سے انجمن ترقی اردو کے وفد کے علاوہ، ڈاکٹر طارق ہاشمی (جی سی یونیورسٹی فیصل آباد)، پروفیسر محمد ناصر (سربراہ شعبہ فارسی، پنجاب یونیورسٹی) ڈاکٹر حمیرا شہباز (ڈائریکٹرشعبہ ترجمہ، نمل یونیورسٹی) ڈاکٹر شگفتہ فردوس، شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سیالکوٹ، ڈاکٹر انیس جہانگیر الحجرہ اسکول ٹرسٹ، ڈاکٹر ڈاکٹر نازیہ پروین یونیورسٹی آف ایجوکیشن، فیصل آباد ڈاکٹر سیدہ سعدیہ ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف عربی اور اسلامی تعلیمات، سیالکوٹ شامل تھیں۔
(جاری ہے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل