Wednesday, October 21, 2026
 

کوچۂ سخن

 



غزل کوئی امکان پسِ در نہیں رکھا میں نے  اپنے رہنے کے لیے گھر نہیں رکھا میں نے  جو کوئی آئے وہ دیکھے مرے کھوٹے سکّے   اپنے یاروں کو چھپا کر نہیں رکھا میں نے  تو مرا شکر ادا کر کہ بچھڑنے کے لیے  کوئی الزام ترے سر نہیں رکھا میں نے  مجھ کو یاروں پہ بھروسہ ہے تو بس اتنا ہے  کبھی دستار کو سر پر نہیں رکھا میں نے  کہیں ایسا نہ ہو میں خود سے حسد کرنے لگوں  اپنا قد اپنے برابر نہیں رکھا میں نے   حسن والوں نے بھی اب تجھ کو حسیں مان لیا  نام ایسے ترا سندر نہیں رکھا میں نے  (ڈاکٹر شکیل پتافی ۔کوٹ مٹھن) غزل تھکا دیا ہے مسلسل تری کمی نے مجھے  کبھی کسی نے سمیٹا کبھی کسی نے مجھے  بہت سے مجھ میں ہنر آئنے سے آئے ہیں  جو رہ گئے تھے سکھائے ہیں شاعری نے مجھے  مرے حروف میں جلتے ہیں مدحتوں کے چراغ  عطا کیا ہے خزانہ عجب سخی نے مجھے  میں ایک بار بھٹک کر چلا گیا تھا کہیں  نہیں قبول کیا پھر تری گلی نے مجھے  وہ بانسری وہ تماشا وہ رونقیں مفقود  لطیف لطف دیا اس کی خامشی نے مجھے  مرے سخن کی روانی نہیں بدل پائی  کیا ہے رد بھلے ہر ایک آدمی نے مجھے  (مستحسن جامی۔ؔ خوشاب) غزل دل سے اگر جدائی کا خدشہ نکل پڑے  ممکن بہت ہے پھر کوئی رستہ نکل پڑے  جانے کے واسطے ہو کوئی معتبر دلیل اُسکی گلی میں کوئی تو اپنا نکل پڑے  سُن کر میں کربلا کی کہانی بلک اٹھا آنکھوں سے دیکھ لوں تو کلیجہ نکل پڑے  کرتا ہوں تیرے ہِجر میں دیوار و در سے بات ممکن ہے کوئی حرفِ دلاسا نکل پڑے  کتنے قدم پہ آتی ہے تشنہ لبی سے موت پیاسے کی پیاس ماپنے دریا نکل پڑے  کیسا لگے جو عکس ہی پڑ جائیں سارے ماند اور آئینے سے درد کا چہرہ نکل پڑے  بیٹھا ہوں رہگزر پہ لہو بیچنے سجیلؔ شاید کہ میرے گھر کا ہی خرچہ نکل پڑے   (سجیل قلزم ۔فیصل آباد) غزل وہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا سبھی نے چھوڑ دیا، بد گمان تھامے رہا فلک پہ تاروں کی محفل سجی ہوئی تھی کہیں زمین زادہ کوئی آسمان تھامے رہا حدود میں وہ مری سلطنت کی آ پہنچا میں کچھ بھی کر نہ سکا بس کمان تھامے رہا وہ جانتا تھا کہ بھائی ہیں اس کے قبضہ گیر وراثتوں میں شکستہ مکان تھامے رہا لڑائی بھائیوں کے بیچ میں عروج پہ تھی کلامِ پاک کوئی درمیان تھامے رہا عروج و پستی و ناکامیوں سے گزرا ہوں تمام عمر تعلق گٹھان تھامے رہا ہمیں نماز کی فرصت کہاں ملی ہے کبھی تھکا نہیں ہے مؤذن اذان تھامے رہا مفاد ہم کو تھا حسرتؔ عزیز، چھوڑ آئے  رہا جو گاؤں سو پیچھے کسان تھامے رہا (رشید حسرتؔ۔ کوئٹہ) غزل منظر کو سر شار کرے گا ،آئے گا  رستے خود ہموار کرے گاآئے گا اس کے ہجر کا طے ہے اتنا خمیازہ  جی بھر کے جب پیار کرے گا ،آئے گا ہر پہلو سے جیت یقینی رکھتا ہے  سیدھا دل پر وار کرے گا، آئے گا بخیہ گری کا کام اسی کو سونپا ہے  کیسے پھر انکار کرے گا آئے گا میٹھا بولنا اُس کو مہنگا پڑتا ہے  لہجے کو تلوار کرے گا آئے گا جیسے اُس کی شرط لگی ہو آنے پر  کچھ باتیں دشوار کرے گا آئے گا (عظیم کامل۔ جام پور) غزل مت کر یوں قیل و قال، مری سمت دیکھ لے اے میرے خوش خصال! مری سمت دیکھ لے تاکہ میں یاد کر لوں حکایاتِ خال و خد اے آئنہ مثال، مری سمت دیکھ لے یہ مشتعل اندھیرے مرے منہ کو آتے ہیں میری نظر اجال، مری سمت دیکھ لے آزردہ ہوں میں کب سے  مرا حال پوچھ لے کب سے ہوں میں نڈھال، مری سمت دیکھ لے اس دشتِ بے اماں میں فقط میں ہوں اور ہے تو اے تیز رو غزال! مری سمت دیکھ لے  کیا کیا نہ تیرے ظلم سے نقصاں ہوا مرا اے چشمِ پر ملال مری سمت دیکھ لے  پژمردہ کر چکا ہے تغافل ترا اِسے  منظر کو کر بحال، مری سمت دیکھ لے  (ماہم حیا صفدر۔ فیصل آباد) غزل اشک آلودہ پلک سوچ کے کچھ یاد آیا  شیشۂ دل کی چٹک سوچ کے کچھ یاد آیا چاندنی رات کے آنچل میں لپیٹے خود کو کجلی آنکھوں کی جھپک سوچ کے کچھ یاد آیا نوجوانی میں کوئی بھول، اچنبھا تو نہیں کچّی شاخوں کی لہک سوچ کے کچھ یاد آیا میرے غصّے کے بھی کچھ اور ہی تیور ہوں گے  اُس کے ہاتھوں کی جھٹک سوچ کے کچھ یاد آیا ایسی مسحور فضا پہلے تو گلشن کی نہ تھی گرم سانسوں کی مہک سوچ کے کچھ یاد آیا بیٹھے بیٹھے یونہی اِک خواب کا پیچھا کرتے  لوگ جاتے ہیں بھٹک سوچ کے کچھ یاد آیا آخری فیصلہ بے فیض کا کتنا تھا ثقیل پھر بھی لہجے میں لچک سوچ کے کچھ یاد آیا ہیڈ ساگر پہ ٹہلتے ہوئے تنہا جاویدؔ گھر کی سنسان سڑک سوچ کے کچھ یاد آیا (آصف جاوید۔حافظ آباد) غزل اِس لئے ساتھ چل سکا ہی نہیں  ہم سفر ہم مزاج تھا ہی نہیں  ڈھل گئی عمر تو سمجھ آیا  کاٹ دی!  زندگی جیا ہی نہیں  حسن جو روح تک اُترتا ہے  رابطہ اُس سے آنکھ کا ہی نہیں  اے مرا خواب دیکھنے والے  میں کوئی خواب دیکھتا ہی نہیں  ایسا رستہ بھی کیا؟ مسافت کیا؟ شوق کا جس سے واسطہ ہی نہیں ہوں شکارِ فریبِ زن فیصلؔ  پیار اندھا ہے دیکھتا ہی نہیں  (فیصل کاشمیری۔ گوجرانوالہ) غزل ایسی شدید روشنی میں جل مروں گا میں اتنے حسین شخص کو کیسے سہوں گا میں مجھ سے مرا وجود تو ثابت نہیں ہوا تُو آنکھ بھر کے دیکھ لے ہونے لگوں گا میں میں میکدے سے دُور ہوں پر دائرے میں ہوں زندہ رہا تو تیرے گلے آ لگوں گا میں میں وہ عجیب شخص ہوں کہ چند روز تک پاگل نہ کر سکا تو اُسے مار دوں گا میں (صہیب مغیرہ صدیقی۔ جلال پور، پیر والا) غزل چشمِ بینا کھول کچھ حسنِ عمل کو دیکھ لے  دلدلوں کی گود میں کھلتے کنول کو دیکھ لے  تجھ پہ دانے کی حقیقت منکشف ہو جائے گی  دیو قامت پیڑ، پھولوں اور پھل کو دیکھ لے  مندر و مسجد میں کاہے مارا مارا پھرتا ہے  اپنے اندر ڈوب جا، اُس لم یزل کو دیکھ لے   آدمی نے آبرو پامال قدرت کی ہے کی  زہر آلودہ فضا، جنگل جبل کو دیکھ لے  گاڑیاں، ٹاور، پلازے، اونچے اونچے گھر تو ہیں  ہے مگر انسان چھوٹا آج کل کو دیکھ لے  ( ابہام۔ لکھالہ، ایبٹ آباد) غزل یا ترا کام تھک کے سونا ہے  یا شب و روز صرف رونا ہے  زندگی کی گلاب رت نہ رہی خاک اب اوڑھنا بچھونا ہے  ہائے پہلو میں درد کا عالم جس میں ہر درد کو سمونا ہے  ایسے بیٹھا ہوں گھر کے کونے میں جیسے کوئی قفس کا کونا ہے  یہ مِرا دل ہے ناتواں فیصلؔ یا ترے ہاتھ کا کھلونا ہے  (فیصل امام رضوی۔ مظفرگڑھ) غزل ستارے چاند دھرتی اور یہ دریا نہیں کرنا  تمہارے نام اب میں نے جہاں سارا نہیں کرنا  جہاں میں جب کہیں جاؤں ہدایاتوں کو پڑھتا ہوں  یہاں کرنا ہے کیا کیا کچھ یہاں پر کیا نہیں کرنا  بنا اس کے تو مجھ کو سانس بھی آتی ہے رک رک کر  اور اک وہ ہے کہ جس نے ذکر بھی میرا نہیں کرنا  یہی رسمِ محبت ہے یہی دستورِ دنیا ہے  جسے ٹوٹا ہوا پاؤ اسے اپنا نہیں کرنا  جو تنہائی سے تیرے واسطے صاحب نکل آئے  اسے رسوا نہیں کرنا کبھی تنہا نہیں کرنا  ہمیشہ ایک رستہ واپسی کا چھوڑ کر رکھنا  بھلے تم عشق کر لینا مگر آندھا نہیں کرنا  میں گندم بو کے کیکر کاٹتا ہوں ہر دفع ارسلؔ  کسی کے ساتھ ارسل شیر اب اچھا نہیں کرنا  (ارسلان شیر ۔کابل ریور، نوشہرہ) ’’ دھڑکن‘‘ دل کو دیکھا  دھڑک رہا تھا اک دن ہم نے  چاک کیا جب سینہ اپنا دل کو دیکھا ہر دھڑکن اک خواب تھی جیسے  سانسوں کی آواز تھی جیسے  جیسے فطرت گیت سنائے  سن کر دل ناچے اور گائے  دل کو دیکھ کے ہم شرمائے  خبر نہیں تھی ہم کو لیکن اگلا منظر ایسا ہوگا چاک کیا جب اپنا سینہ دل تو دیکھا اگلا منظر دیکھ نہ پائے  ڈوب گئے امید کے سائے  ہم دنیا میں جی نہ پائے  ؔ(عارفہ محمد علی۔ کراچی) سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔ انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘  روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘ روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل