Loading
صبح کی پہلی کرن ابھی زمین پر نہیں اتری تھی کہ فیصل آباد کی کسی تنگ گلی سے ایک مزدور گھر سے نکلتا ہے جس کے ہاتھوں پر محنت کی لکیریں اور آنکھوں میں نیند ابھی باقی ہے۔ شاید سارے راستے آنکھیں ملتا ہوا طے کر رہا ہوتا ہے، اس کے ذہن میں بچوں کی فیس کا بل دندنا رہا ہے، بجلی کے بل اسے دن میں تارے دکھا رہے ہیں، بوڑھی ماں کی دوائی کا پرچہ اسے ستا رہا ہے اور ایک ایسی ٹیکسٹائل مل کی طرف جا رہا ہوتا ہے جہاں اس کے ہاتھوں سے بننے والا کپڑا امریکا کے کسی اسٹور میں جا کر اترتا ہے اور وہاں پر کسی ایسے امریکی کے جسم کی زینت بنتا ہے جس نے شاید کبھی اس مزدور کا نام بھی نہ سنا ہو اور اس کاریگر کو معلوم نہیں کہ اس کے ہاتھوں سے تیار کردہ قمیض کے کتنے ڈالر فروخت کرنے والے کو ملیں گے۔
پاکستان سے لے کر امریکا کے اسٹور مالک تک اس کے بنائے ہوئے قمیض سے کتنا منافع کما لیں گے، اسے خبر نہیں۔ اسے تو بس اتنا معلوم ہے کہ آج فیکٹری کھلی ملے اور اس کی دیہاڑی لگ جائے اور اسے تنخواہ مل جائے تاکہ بچے کے اسکول کی فیس، ماں کی دوا، گھر کے لیے آٹا، دال اور رات کو چائے کی پرسکون چسکی لگانے کے لیے پتی مل جائے۔ اس کی محنت کا اصل منافع باقی لوگ وصول کر لیتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ اسے جتنی دیہاڑی یا رقم مل گئی ہے یہ مالک کی مہربانی ہے یا ٹھیکیدار کا شکریہ۔
ایک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 5 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکسٹائل مصنوعات کا حجم 4.775 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5 ارب 2 کروڑ30 لاکھ ڈالر ہو گیا، اس طرح 5 فی صد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے، یہ اضافہ بظاہر ایک اچھی خبر ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کی اہمیت پاکستان کے لیے انتہائی اہم ترین ہے، کیونکہ کپاس سے دھاگہ، دھاگے سے کپڑا، کپڑے سے ملبوسات اور ملبوسات سے عالمی تجارت تک ایک طویل پیداواری اور تجارتی سلسلہ قائم ہے ،اس سلسلے کا اہم ترین کارکن کسان ہے جو کبھی معمولی منافع کھاتا ہے لیکن ’’وچولوں‘‘ جسے آڑھتی بھی کہتے ہیں۔
ان کے ہاتھوں لٹتا بھی رہتا ہے، پھر ’’جنرز‘‘ میں جہاں مزدور کام کرتے ہیں مزدوروں کا استحصال پاکستان میں عام بات ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بے روزگاری بے انتہا ہے اس لیے محنت کی قیمت کم لگائی جاتی ہے اور مزدور کم مزدوری پر کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور درمیانی منافع کوئی اور لے اڑتا ہے۔ پھر دھاگہ بنانے والی فیکٹریاں ہیں، پاکستان میں بجلی کی قیمت بڑھنے کے باعث کئی ٹیکسٹائل ملز کے مالکان بیرون ملک جا کر سستی بجلی سے فائدہ اٹھا کر اپنی ٹیکسٹائل یونٹس لگاتے رہے اور پاکستان میں ان کی فیکٹریوں کا کام محدود ہوکر رہ گیا۔ یہاں پر صرف دھاگہ تیار ہوتا اور وہ اس دھاگے کو بیرون ملک لے جا کر ملبوسات تیار کرتے اور زرمبادلہ اسی ملک کے فائدے میں استعمال ہو جاتا۔
لیکن اس اضافے کو مستقل نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ تجارت ہے عالمی منڈی میں خریداروں کے آرڈر، موسم، شپنگ کے اخراجات، خام مال کی دستیابی اور مصنوعات کی قیمتیں، ہر ماہ کی برآمدی حجم پر اثرانداز ہو سکتی ہیں اور یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اگر پاکستان نے زیادہ مقدار میں کپڑا برآمد کیا لیکن اس کی فی یونٹ قیمت کم رہی تو برآمدی آمدنی میں اضافے کے باوجود صنعت کے حقیقی منافع کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اس کے برعکس اگر پاکستان، بنگلا دیش، تھائی لینڈ، ویتنام کی طرح زیادہ قدر والی مصنوعات فروخت کرے تو کم اضافی مقدار کے باوجود زیادہ آمدنی اور بہتر معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل کہانی کھیت سے شروع ہوتی ہے جہاں سے کسان کو آمدنی حاصل ہو سکتی ہے لیکن یہ شعبہ اس منافع کمانے کے سلسلے میں انتہائی کمزور ہے کسان زمین تیار کرتا ہے، بیج بوتا ہے، پانی کا بندوبست کرتا ہے اسے مہنگی کھاد خریدنا پڑ جاتی ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے رعایتی قیمت والی کھاد مافیاز والے اپنی گوداموں میں محفوظ کر لیتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت شاید قوم کی بھلائی کے لیے مارکیٹ میں پیش کر دی جائے۔ پھر زرعی ادویات کا نمبر آتا ہے اصلی ادویات جسے مل جائیں وہ کسان قسمت کا دھنی ہوتا ہے ورنہ جعلی ادویات کی بھرمار ہے۔
حکومت نے اس سلسلے میں اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ پھر روز مہنگے ڈیزل کا مقابلہ کرنا، پھر پانی کی کمی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان نے پانی روک لیا ہے، نہریں خشک ہو گئیں، ہر سال ملک میں بارشوں کے موسم میں پانی ضایع بھی ہو جاتا ہے اسے جمع کرنے کا کوئی طریقہ رائج نہیں کیا گیا۔ پھر جب فصل تیار ہو جاتی ہے تو اصل منافع خور آ جاتے ہیں اونے پونے داموں فصل خرید لیتے ہیں اب اس میں کسان کو فائدہ حاصل ہو جائے تو اس کی قسمت، ورنہ بہت سے کسان بے چارے شکایت کرتے رہ جاتے ہیں۔
حکومت شکایات سنتی رہتی ہے لیکن اسے حل کرنے کے لیے طاقتوروں پر ہاتھ ڈالنا اس کے بس میں نہیں ہوتا۔ اگر کپاس مہنگی فروخت ہو تو زیادہ تر فروخت کار کسان کے علاوہ دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔ اگر سستی فروخت ہو تو اصل نقصان تو کسان کا ہی ہوتا ہے۔ بہرحال فائدے میں، منافع میں کسان کم ہی شریک ہوتے ہیں۔ اب ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 5 فی صد اضافہ ہو یا کمی کسان کسی بھی منافع میں شریک نہیں اس لیے کہ سسٹم ایسا ہے جس میں اصل فائدہ کسان تک نہیں پہنچ سکتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل