Loading
لاہور ہائیکورٹ میں اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کے اربوں روپے کے ٹھیکیداروں کے انکم ٹیکس چالان فرضی این ٹی این سے جمع کرانے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور چیئرمین ایف بی آر سے جواب طلب کرلیا۔
عدالت نے ایف بی آر اور اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب سے ریکارڈ طلب کرلیا، جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کنٹریکٹر کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل آصف اقبال نے دلائل دیئے، درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
موقف کے مطابق درخواست گزار سمیت دیگر ٹھیکیداروں کا انکم ٹیکس اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب نے کاٹا تھا، اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب نے ایف بی آر میں فرضی این ٹی این سے انکم ٹیکس جمع کرادیا، قانون کے مطابق ہر ٹھیکیدار کا انکم ٹیکس اس کے نام سے ایف بی آر میں جمع کرایا جانا ضروری ہے۔
موقف نے کہا کہ قانون کے برعکس اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب نے فرضی این ٹی این سے ایف بی آر میں انکم ٹیکس جمع کرادیا، اب درخواست گزار سمیت ٹھیکیداروں کو ایف بی آر میں انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے میں مشکلات درپیش ہیں۔
عدالت ایف بی آر کو ایف بی آر درخواست گزار سمیت دیگر کیخلاف کارروائی سے روکنے کا حکم دے، عدالت ایف بی آر اور اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو ریکارڈ کرنے کا حکم دے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل