Loading
ایف بی آر نے اسٹیل سیکٹر میں پیداوار اور ترسیل کی الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دیتے ہوئے مینوفیکچررز کو 30 دسمبر تک مانیٹرنگ سسٹم فعال کرنے کی ہدایت کردی۔
سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور سیلز ٹیکس رولز 2006 کے تحت جاری حکم نامے کا اطلاق اسکریپ پگھلا کر بلٹس اور انگوٹس بنانے، اسٹیل کی رولنگ و ری رولنگ کرنے اور پگھلانے سے رولنگ تک تمام مراحل ایک ہی مقام پر انجام دینے والے یونٹس پر ہوگا۔
مانیٹرنگ کے 4 مراحل میں بلٹس اور انگوٹس کی گنتی سے لے کر تیار شدہ مصنوعات کی ترسیل تک نگرانی کی جائے گی۔ اسٹیل کی پیداوار، مصنوعات کے سائز، تعداد اور وزن کا الیکٹرانک ریکارڈ مرتب ہوگا، جبکہ تمام ویٹ برج مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کرنا لازم ہوگا۔
علاوہ ازیں ایف بی آر پیداواری وزن کے تخمینے کا ترسیل کے اصل خالص وزن سے موازنہ بھی کرے گا۔
پیداوار اور ترسیل کا ڈیٹا حقیقی وقت میں ایف بی آر کے مرکزی کنٹرول یونٹ کو بھیجا جائے گا۔ نظام میں صنعتی کیمرے، ویڈیو اینالیٹکس، سینسرز اور ڈیٹا ریکارڈنگ آلات شامل ہوں گے، جبکہ کم از کم ایک ماہ کی ویڈیو ریکارڈنگ مقامی طور پر محفوظ رکھنا بھی ضروری ہوگا۔
مانیٹرنگ آلات صرف ایف بی آر کے مجاز وینڈرز نصب کرسکیں گے، جو ان کی دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت کے بھی پابند ہوں گے۔ سسٹم میں خرابی، نقصان یا چھیڑ چھاڑ کی اطلاع ایک گھنٹے کے اندر متعلقہ حکام کو دینا ہوگی، جبکہ پیداواری لائن، ویٹ برج یا ترسیلی عمل میں تبدیلی سے 30 دن پہلے آگاہ کرنا لازم ہوگا۔
حکم نامے کے مطابق مانیٹرنگ کے بغیر اسٹیل مصنوعات کاروباری احاطے سے باہر نہیں بھیجی جاسکیں گی۔ دستی ریکارڈ، نجی کیمرے یا الگ ویٹ برج اندراج منظور شدہ نظام کا متبادل نہیں ہوں گے۔
ایف بی آر نے متعلقہ چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے، جبکہ نظام نصب یا فعال نہ کرنے اور اس سے چھیڑ چھاڑ پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل