Friday, October 23, 2026
 

قومی اسمبلی اجلاس: ’فائیوجی سروس کے فروغ کے لیے کم قیمت موبائل فونز کی دستیابی کی کوششیں جاری‘

 



قومی اسمبلی کوبتایا گیا کہ پاکستان میں فائیوجی سروسز کے فروغ کے لیے کم قیمت موبائل فونز کی دستیابی یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں پی ٹی اے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان دو اجلاس ہو چکے ہیں،ملک بھر میں 5G سروس کی مکمل فراہمی میں مزید دو سال لگیں گے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف اراکین کے سوالوں کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی مواصلات سبین غوری نے ایوان کوبتایا کہ فائیوجی ٹیکنالوجی سے متعلق موبائل فونز کی کم از کم قیمت تقریبا 36 ہزار روپے ہے جو عام آدمی کے لیے برداشت کرنا مشکل ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ ان فونز کی قیمت کم کرکے 15 سے 20 ہزار روپے کی سطح پر لائی جائے تاکہ طلبہ سمیت زیادہ سے زیادہ افراد فائیوجی خدمات سے استفادہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موبائل فونز اسمبل بھی کیے جا رہے ہیں تاہم ٹیکسوں کی بلند شرح کے باعث ان کی قیمتیں کم کرنے میں مشکلات درپیش ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں فائیوجی سپیکٹرم کی نیلامی 19 مارچ 2026 کو ہوئی تھی جس میں تین سیلولر کمپنیوں نے حصہ لیا، اس وقت ملک کے تقریبا 25 شہروں میں فائیوجی خدمات فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ اداروں کی کوششوں سے کم قیمت موبائل فونز کی دستیابی ممکن بنائی جا سکے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں فائیو جی (5G)سروس کی مکمل فراہمی کے لیے مزید تقریبا دو سال درکار ہوں گے، تاہم بڑے شہروں میں اس سروس کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔ سبین غوری نے کہا کہ حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ایک سال کے اندر ہزاروں نئی سائٹس مکمل کرنے کا ہدف دیا ہے جبکہ انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے کے لیے آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کو بھی توسیع دی جا رہی ہے۔ فائیوجی سروس کی فراہمی، انٹرنیٹ کی رفتار اور ملک میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی صورت حال سے متعلق سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 5G سروس کے لیے انفراسٹرکچر کی تیاری اور تنصیب مسلسل عمل ہے اور اسے راتوں رات مکمل نہیں کیا جا سکتا ،اس کے لیے وسائل، نیٹ ورک کی توسیع اور مختلف علاقوں میں سروس کی فراہمی کے انتظامات درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت تقریبا 2,051 ٹیلی کام سائٹس پرفائیوجی ٹاورز نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ 25 شہروں کو اس منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نیلامی میں حصہ لینے والی تینوں سیلولر کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک سال کے اندر ہزاروں سائٹس کی تنصیب مکمل کریں جن میں بڑے شہر، وفاقی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومت شامل ہوں گے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ پی ٹی اےمختلف شہروں میں 5G اور 4G سروسز کی صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو نیٹ ورک کی کارکردگی اور سروسز کی دستیابی کا جائزہ لے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فائیوجی نیٹ ورک کے لیے بہتر بنائے جانے والے انفراسٹرکچر سے فورجی سروسز کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع سے موجودہ ٹیلی کام نظام کی استعداد بہتر ہوتی ہے، اس سلسلے میں نیشنل ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن نے نئی آپٹیکل فائبر لائنیں بچھانے کے ساتھ موجودہ نیٹ ورک کی رفتار اور استعداد میں بھی بہتری لائی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فائیوجی کے لیے تقریبا 2,851 کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبلز کے نیٹ ورک کو بہتر بنایا گیا ہے جہاں آپٹیکل فائبر اور دیگر بنیادی سہولیات بہتر ہوتی ہیں وہاں 4G سمیت دوسری ٹیلی کام سروسز کی کارکردگی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ ضمنی سوال پرانہوں نے ایوان کوبتایا کہ انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی مختلف وجوہات ہیں جن میں زیرِ سمندر بین الاقوامی کیبلز میں خرابی اور بعض علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی دنیا سے منسلک کرنے والی سمندری کیبلز میں مختلف مواقع پر خرابی پیدا ہوئی جس سے انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ حکومت ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ صوبوں سے رائٹ آف وے پالیسی کے تحت اجازت نامے بھی حاصل کیے گئے ہیں، اس پالیسی کے تحت ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق اخراجات میں کمی لانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے نیٹ ورک کی توسیع میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں تقریبا 5,175 ٹیلی کام سائٹس کے مقابلے میں فائیوجی کے لیے تقریبا 485 ٹاورز نصب کیے گئے ہیں جو مجموعی تعداد کا لگ بھگ 10 فیصد بنتے ہیں۔ ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ فائیوجی انٹرنیٹ پیکجز کی قیمتوں میں لازما بڑا فرق نہیں ہوتا، تاہم زیادہ رفتار کے باعث صارفین کا ڈیٹا استعمال بڑھ سکتا ہے جس کا انحصار صارف کی ضروریات اور استعمال پر ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ لاس اینڈڈیمیج فنڈ کے تحت وفاقی حکومت نے دو جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے ، فنڈ کے لیے درخواستوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث فیصلہ سازی کا عمل بڑھا دیا گیا ہے اور دسمبر میں فیصلہ ہوگا ۔ جمعہ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈاکٹرنفیسہ شاہ ،شرمیلافاروقی اوردیگراراکین کے سوالوں کے جواب میں وزیرمملکت موسمیاتی تبدیلی شذرہ منصب علی خان نے ایوان کوبتایا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد موسمیاتی تبدیلی کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے تاہم وفاقی حکومت پالیسی ضرور بناتی ہے اور اسے صوبوں کے ساتھ شیئر کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے باقاعدگی سے اجلاس اور مشاورتی فورمز بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی سے رہنمائی لیتے ہوئے ہر صوبہ اپنے مخصوص حالات، جغرافیائی خصوصیات اور دیگر ضروریات کے مطابق اپنی پالیسی تشکیل دیتا ہے اور اس میں ضروری تبدیلیاں کرتا ہے، اس لیے اب ہر صوبے کی اپنی پالیسی موجود ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ اسلام آباد کی حدود کے لیے فضائی آلودگی، پانی کے معیار اور آلودگی کے دیگر ذرائع سے متعلق معیارات مقرر کیے گئے ہیں،اسلام آباد میں آلودگی کے اسباب سے متعلق ایک تحقیق میں ٹریفک کو سب سے بڑا سبب قرار دیا گیاجبکہ دیگر ذرائع کا حصہ نسبتا کم پایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے اینٹوں کے بھٹوں، صنعتی یونٹس، ماربل فیکٹریوں اور دیگر آلودگی پھیلانے والے ذرائع کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ شرمیلا فاروقی کے سوال پرانہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری اور شیری رحمان نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کیا اور 2022 کے سیلاب کے بعد پاکستان نے اس معاملے پر موثر سفارتی کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ فنڈ کو فعال بنانے میں کئی سال لگے اور گزشتہ سال اسے عملی طور پر فعال کیا گیا ابتدائی طور پر 250 ملین ڈالر مختص کرنے کی بات ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں اس کی مجموعی رقم بڑھ کر 342 ملین ڈالر ہوگئی۔ اس رقم کا 50 فیصد کم ترقی یافتہ ممالک اور چھوٹے جزیرہ نما ممالک کے لیے مختص کیا گیا، جبکہ باقی 50 فیصد ترقی پذیر ممالک کے لیے ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ملک کے لیے 20 ملین ڈالر کی حد مقرر کرتے ہوئے منصوبے طلب کیے گئے تھے۔ پاکستان کی جانب سے وفاقی حکومت نے دو جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے تاہم فنڈ کے لیے درخواستوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث فیصلہ سازی کا عمل بڑھا دیا گیا ہے اور دسمبر میں فیصلہ ہوگا کہ پاکستان کے تین منصوبوں میں سے کس منصوبے کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ڈاکٹر شزرا منصب علی خان نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صرف بین الاقوامی مالی معاونت پر انحصار نہیں کرتا بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی اپنے وسائل سے مختلف منصوبوں کے لیے رقوم مختص کرتی ہیں۔ 2001 میں ایڈاپٹیشن فنڈ کے قیام کے بعد سے گرین کلائمیٹ فنڈ ،گلوبل انوائرمنٹ فیسلٹی اور ایڈاپٹیشن فنڈ سمیت مختلف بین الاقوامی ذرائع سے پاکستان کو اب تک مجموعی طور پر 561.99 ملین ڈالر موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی توجہ کے حامل اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام سمیت مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ گلاف اور سیفر پاکستان منصوبے بھی ان کوششوں کا حصہ ہیں۔موسمیاتی لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وزارت خزانہ سے متعلق ہے، اس لیے اس کی تفصیلات کے لیے الگ سوال متعلقہ وزارت کو بھیجا جا سکتا ہے۔ مون سون سٹریٹجک پلان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی جانب سے 2026 کا مون سون سٹریٹجک پلان مرتب کیا گیا، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کے غیر متوقع رجحانات اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا ہے منصوبے میں قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات شامل ہیں، قلیل مدتی اقدامات میں سیلابی میدانوں میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں مداخلتیں شامل ہیں، جبکہ متعلقہ کمیٹیاں وفاقی اور صوبائی سطح پر مزید اقدامات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پیش کردہ منصوبے سمیت تینوں منصوبوں میں سے کسی ایک کو فنڈ فراہم کرنے کا فیصلہ دسمبر میں ہوگا۔ ضمنی سوالات پرانہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ امور پر وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ کاری کے لیے مختلف فورمز اور کمیٹیاں قائم ہیں، جن کے ذریعے متعلقہ ادارے اپنے کاموں، منصوبوں اور ذمہ داریوں کے مطابق باہمی تعاون کرتے ہیں۔ پاک ای پی اے صوبائی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے، جبکہ کلائمیٹ چینج اتھارٹی بھی صوبوں کے ساتھ رابطہ کاری کرتی ہے۔ اتھارٹی کے چیئرمین نے تقریبا ایک ماہ قبل ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ اسی طرح وزارت کے سیکرٹری صوبائی محکموں کے متعلقہ سیکرٹریز کے ساتھ بھی باقاعدگی سے رابطے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک کانفرنسوں اور بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کے لیے کن افراد کو بھیجا جائے گا، اس کا فیصلہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نہیں کرتی۔وزیرمملکت نے کہاکہ پاکستان گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں دنیا کے کم ترین حصے دار ممالک میں شامل ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس لیے عالمی فورمز پر پاکستان کے حالات اور مشکلات کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل