Loading
پشاور ہائیکورٹ نے فقیر آباد سے لاپتہ بچے کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران آئی جی خیبرپختونخوا کو آج ہی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران بچے کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کا بیٹا گزشتہ پانچ ماہ سے اغوا ہے۔ انہیں فون کال موصول ہوئی تھی جس میں بھتے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ کال ٹریس کرلی گئی ہے اور فون کرنے والے شخص کا پتا بھی چل گیا ہے، تاہم بچہ اس شخص کے پاس نہیں، اس لیے اسے بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔
پولیس کے جواب پر چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وہ اس جواب سے مطمئن نہیں ہیں۔ عدالت نے بچے کو بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا، پانچ ماہ گزرنے کے باوجود پولیس بچہ بازیاب نہیں کرا سکی۔
عدالت نے آئی جی خیبرپختونخوا کو آج ہی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے درخواست پر سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل