Loading
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24 ارب کی بے ضابطگیوں کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھادیے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر حافظ نعیم نے پروگرام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ کرپشن رپورٹ نے غریبوں کے نام پر جاری نام نہاد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سالانہ 800 ارب روپے سے زائد کے بجٹ کے باوجود یہ پروگرام ملک میں غربت ختم کرنے میں ناکام رہا، پچھلے 8 سال میں غربت کی شرح 21 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد پر پہنچ گئی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) کے خطے میں یومیہ تین ڈالر سے کم پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ پچھلے سالوں میں خرچ کیے گئے یہ ہزاروں ارب روپے ملک کے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل بدل سکتے تھے اگر بہتر منصوبہ بندی اور ترجیحات کے ساتھ خرچ کیے جاتے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل