Loading
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعے میں پیشرفت سامنے آئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا کا سوشل میڈیا پر ویڈیو سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ احمد تنویر نے زیادتی نہیں اور نہ ہی موبائل لیا۔
خاتون نے دعویٰ کیا کہ پہلے والا بیان دباؤ میں دیا تھا لہذا اب کیس ختم کردیا جائے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر متاثرہ لڑکی کا بیان ریکارڈ کروا کر کیس کی تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، متاثرہ لڑکی کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان معزز عدالت میں پہلے ہی ریکارڈ ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکی عدالت میں تین ملزمان کے خلاف زیادتی کا بیان دے چکی ہے، دیگر دو گرفتار ملزمان بھی تیسرے ملزم احمد تنویر کے ملوث ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
ڈی آئی جی انویسٹیگیشن لاہور نے کہا کہ تیسرے ملزم کو ہر صورت شاملِ تفتیش کرکے میرٹ پر کیس کو مکمل کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل