Saturday, October 24, 2026
 

لاہور ہائیکورٹ کا قتل کے مقدمات میں سزا سے  متعلق بڑا فیصلہ

 



لاہور ہائی کورٹ نے قتل کے مقدمات میں سزا سے  متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت عالیہ نے قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ 2019 کا اطلاق ایسے مقدمات پر نہیں ہوتا جن میں سزائے موت مقرر ہو۔ لاہور ہائیکورٹ نے حکومت پنجاب کو قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین سے متعلق قانونی اصلاحات پر غور کرنے کا حکم بھی جاری کردیا۔ جسٹس محمد امجد رفیق نے فیصلے میں کہا کہ پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ میں عدالتی صوابدید کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ترامیم کی جائیں۔ عدالتی حکم نامے میں سزا مقرر کرنے سے پہلے ملزم کو الگ سماعت کا موقع دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی سزا دفعہ 302 (ب) سے تبدیل کرکے دفعہ 302 (سی) تعزیرات پاکستان کے تحت کردی۔ عدالت نے ملزم کی سزا پہلے سے کاٹی گئی قید کی مدت تک محدود کردی۔ فیصلے کے مطابق ملزم 12 سال، 11 ماہ اور 2 دن قید کاٹ چکا ہے۔ جسٹس محمد امجد رفیق نے ملزم کی جیل اپیل جزوی طور پر منظور کرلی۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ قتل کی باقاعدہ سازش یا پیشگی منصوبہ بندی کے ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ لڑکوں کے دو گروپوں میں رقابت کی بنیاد پر قتل کو پہلے سے طے شدہ منصوبہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ملزم نے اچانک تصادم کے دوران ہاکی کا ایک وار کیا۔ چشم دید گواہوں کی شہادت طبی شواہد سے مطابقت رکھتی ہے۔ مقتول کے سر پر ہاکی کا وار جان لیوا ثابت ہوا۔ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے  میں مقتول کے ورثا کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے، تاہم معاوضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔ عدالت نے سزا میں ترمیم کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ واپس بھجوانے کا حکم دے دیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل