Saturday, October 24, 2026
 

پنجاب کے واقعات اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ریڈ لائن

 



ایک ماں کے سامنے جب اُس کے بچے کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر کوئی بدتمیزی، تشدد یا بدتہذیبی ہو تو اُس کا فوری ردعمل خواہش کیا ہوگی؟ یہ ایک وہ عام سوال ہے جس کا جواب یقیناً ہر شخص جانتا ہے کہ وہ عورت اپنے بچے کے تحفظ کیلیے کم از کم یہ ضرور چاہیے گی کہ ایسے شخص کو فوری طور پر کوئی سزا ملے۔ ہماری مشرقی ماؤں کا عالم تو یہ ہے کہ اگر اُن کے سامنے بچے کو گھر کا کوئی فرد ڈانٹے یا مارے تو اُس کا موم کا دل آگ سے بھر جاتا ہے، اچھا یہ کوئی انتقام نہیں بلکہ ایک ماں کا فطری عمل ہے اور یہ وہی عورت ہوتی ہے جو کبھی گھر میں زور سے ڈانٹ پڑنے یا اسکول میں ٹیچر کے سوال کرنے پر خوف سے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی مگر حواس باختہ ہوجاتی ہے۔ چند برسوں کے دوران پنجاب میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جس کی بنیاد پر وہاں کی حکومت اور بالخصوص مریم نواز پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ اس کا بنیادی معاملہ پنجاب میں تشکیل دی گئی فورس کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مبینہ مقابلوں کا ہے جس میں زیر حراست ملزمان مارے گئے اور ان حالیہ واقعات کی وجہ سے مریم نواز کی گورننس پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ ایک واقعہ تو اُس 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کا ہے جو اپنے بھائی کے ساتھ ایک یتیم خانے میں زندگی بسر کررہا تھا اور حال ہی میں ایک شخص کے پاس الیکٹرک کا کام سیکھنے کےلیے  لگا۔ یہ واقعہ جو کچھ ہوا سب کے علم میں ہے، پولیس نے ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کیا اور پھر عدالت میں پیش کر کے چار روزہ ریمانڈ لیا۔ اس کے بعد وہی روایت کے مطابق ملزم حراست سے فرار ہوا اور پھر بہاولپور کے قریب ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا، دوسرا واقعہ اسلام آباد کی لائبہ اعجاز کا ہے جس میں فراڈ کرنے والا زیر حراست ملزم نعمان بھی اُسی انداز سے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔ ان دو واقعات کو ہوئے ابھی تین روز بھی نہیں گزرے کہ لاہور کے جوبلی ٹاؤن میں پیٹرول پمپ پر لگژری گاڑی میں آئے شخص نے مبینہ طور پر ملازم کو اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کہ اُس نے سگریٹ بجھانے کی درخواست کی تھی۔ اس پر وہ شخص مشتعل ہوکر باہر نکلا اور تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس سے پہلے واقعہ لاہور میں مزنگ روڈ پر مبینہ طور پر ایک موٹرسائیکل سوار نے اوور ٹیک کرنے پر اسکوٹی سوار لڑکی کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا اور مار مار کر اُسے زمین پر لٹا دیا۔ ان دونوں واقعات کے ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں پیٹرول پمپ ملازم نے تشدد کرنے والے ملزم کو تھانے میں داخل ہوتے ہی تشدد کا نشانہ بنایا۔ مریم نواز نے اس ویڈیو کے شیئر کرنے پر لکھا کہ یہ اُن لوگوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جو دولت اور طاقت کے بل پر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر کے بچ نکلیں گے۔ بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں،… https://t.co/JrUA4W891A — Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 23, 2026 اس ٹویٹ اور ویڈیو پر کئی سوشل میڈیا صارفین نے اطمینان کا اظہار کیا جبکہ کچھ حلقوں کی جانب سے مریم نواز پر تنقید جاری ہی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ایکس پر جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اسکوٹی پر سوار تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی سے رابطہ کیا اور اُسے پیش کش کی کہ وہ بھی ملزم کو اتنے ہی تھپڑ مارے جتنے ملزم نے مارے، مگر لڑکی نے جواب میں پنجاب حکومت کے اقدامات اور ایکشن پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دوسرے ٹویٹ کے بعد مریم نواز پر ایک بار پھر تنقید کے نشتر برسائے گئے، کئی لوگوں نے سوالات کیے کہ انتظامیہ ایسے نہیں چلائی جاسکتی، وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ پنجاب حکومت ایسے واقعات کو ’مریم نواز کی ریڈ لائن‘ قرار دے چکی ہے۔ I spoke to the girl myself and told her that she should slap the man as many times as he had slapped her. But she said that, for her, it was enough that the government had made her feel protected, cared for, and assured that justice was on her side. https://t.co/rgVBHVjvUn — Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 24, 2026 آئینی اور قانونی معاشرے میں مبینہ پولیس مقابلوں میں زیر حراست ملزمان کی ہلاکت کا دفاع اور مخالفت میں کسی صورت نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی نظام انصاف میں موجود سقم پر سوالات اٹھانے کی جسارت رکھتا ہوں مگر مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ میں یہ بھی انکشاف کیا کہ زیادتی کیس کے ملزم نے متاثرہ کو ڈیڑھ سے دو کروڑ کی پیش کش کی اور ضابطہ فوجداری کے تحت 164 کا بیان ریکارڈ ہونے کے باوجود جج نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔ یہ ساری بحث اور تکرار اپنی جگہ مگر لائبہ اعجاز اور وسیم عباس جیسے ہائی پروفائل کیسز میں ملزمان کا حراست سے فرار ہونا یا کوشش کرنا بھی تو پولیس نظام پر سوالیہ نشان ہوسکتا ہے؟ اور اس غفلت پر متعلقہ سے جواب طلب کرکے یا کوئی ایکشن لے کر معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ جو لوگ ان مقابلوں کی مخالفت کررہے ہیں اُن کے پاس آئینی، قانونی دلیل کے ساتھ یہ خدشات بھی ہیں کہ اگر یہ نظام رائج رہا تو کوئی کسی کو بھی اس طرح سے مار سکتا ہے اور جو لوگ ان مقابلوں پر خوش ہور ہے ہیں اُن کا ماننا یہ ہے کہ اس سے جرائم کی شرح کم اور لوگوں میں خوف پھیل سکتا ہے۔ ہاں ایک بار ضرور ہے کہ سی سی ڈی یا پولیس کے مبینہ مقابلوں کی پنجاب حکومت کی علی اعلان کوئی حمایت نہیں اور وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری اپنی ساتھی حنا پرویز کو ایک ٹویٹ پر تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہوئے اس کو شرمندگی کہہ چکی ہیں۔ میں ان دونوں دلیل کے درمیان ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ کیوں کہ ایسے واقعات میں متاثرہ فیملیز کے جذبات کا معلوم کیا جائے آیا وہ کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ مطمئن ہیں یا پھر نہیں؟ اور مخالفت کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ وہ آخر کیوں قانون کے تحت ان مقابلوں کو چلینج نہیں کرتے جب متاثرہ فیملی کو ملزم کی ہلاکت پر کوئی اعتراض نہیں۔ اب ایک بار پھر آپ اس تحریر کا ابتدائیہ پڑھیں اور پھر سوچ کر جواب دیں جو کچھ ہورہا ہے وہ آپ کی نظر میں کیسا ہے؟ بالخصوص جو ان دو واقعات میں ہوا اُس میں مریم نواز نے جس طرح ٹویٹ کرکے ملزمان کو مثال بنایا وہ ٹھیک نہیں؟ کیا اس سے جمہور خوش نہیں ہوئے؟ کیا اہل خانہ کو یہ اطمینان نہیں ہوا ہوگا کہ وزیراعلیٰ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ باقی جمہوری معاشرے کے اعتبار سے جو لوگ تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے مخالفت کررہے ہیں اُن کی رائے کا سب کو احترام کرنا چاہیے اور کراچی کی ایزل، میر رضا کے اہل خانہ سمیت عدالتوں میں جوتے گھسنے والوں سے پوچھنا چاہیے ان کے کیسز میں اب تک انصاف ملنے کی کیا پیشرفت ہوئی ہے۔ اگر آئینی معاملات کے ساتھ خاص توجہ انتظامی قانون سازیوں پر کر کے خاص عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں ان کیسز کو سالوں لٹکائے جانے کے بجائے تیز ترین انصاف ہو تو عام لوگوں کا ردعمل ایسا نہ ہوگا جو آج ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل