Loading
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے بیریئرز ہٹانے اور کارسرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف بیریئرز ہٹانے اور کارسرکار میں مداخلت کے مقدمے کی سماعت کی جہاں دوران سماعت دونوں ملزمان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ نہیں کروائے۔
ہادی علی چٹھہ نے عدالت سے کہا کہ ہماری جگہ اسٹیٹ کونسل ہی 342 کا بیان ریکارڈ کروا دے، جس پر جج طاہر عباس سپرا نے واضح کیا کہ دفعہ 342 کا بیان عدالت اور ملزمان کے درمیان ہوتا ہے، اس لیے آپ کو خود ہی بیان ریکارڈ کروانا ہوگا۔
اس موقع پر ایمان مزاری نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ ہم 342 کا بیان ریکارڈ نہیں کروائیں گے، جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ دفعہ 342 کے سوالات کے جواب نہیں دیتے تو عدالتی حکم میں یہی لکھوں گا کہ جواب نہیں دیا گیا۔
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو آئندہ سماعت پر اپنے بیانات ریکارڈ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل