Sunday, October 25, 2026
 

بھارت میں سیانگ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے خلاف احتجاج، پولیس سے جھڑپیں

 



بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں مجوزہ سیانگ اپر ملٹی پرپز پروجیکٹ کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے۔ 23 اکتوبر کو سیانگ، اپر سیانگ اور ایسٹ سیانگ اضلاع میں 12 گھنٹے کی ہڑتال کی گئی، جس کے دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی، جبکہ کم از کم چار خواتین زخمی ہوئیں۔ احتجاج کرنے والی مقامی تنظیمیں تقریباً 11,200 میگاواٹ کے اس منصوبے کے لیے جاری ابتدائی سروے اور فزیبلٹی جائزے روکنے، گرفتار کارکنوں کی رہائی اور علاقے سے نیم فوجی دستے واپس بلانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ مظاہرین کو خدشہ ہے کہ منصوبے سے مقامی آبادی کی زمین، روزگار، ماحول اور روایتی طرزِ زندگی متاثر ہوسکتا ہے۔ حکام کے مطابق ڈائٹ ڈائم کے مقام پر تقریباً 150 سے 200 مظاہرین نے پولیس رکاوٹیں توڑنے اور اہلکاروں پر پتھراؤ کی کوشش کی، جس کے بعد آنسو گیس استعمال کی گئی۔ ایسٹ سیانگ میں بھی جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے اور کم از کم سات گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب احتجاج کے بعد پاسِگھاٹ میں نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (NHPC) کے دفتر کو آگ لگا دی گئی، ایک پولیس اسٹیشن کے قریب موجود گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور بعض سیاسی رہنماؤں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس کے بعد انتظامیہ نے بعض علاقوں میں اجتماعات پر پابندیاں عائد کردیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل