Loading
کورنگی سیکٹر 48 اے گلگت کالونی میں گھر کے اندر فائرنگ سے 20 سالہ خاتون جاں بحق ہوگئی۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ زمان ٹاؤن تھانے میں مقتولہ کے والد عابد شاہ کی مدعیت میں درج کرلیا جس میں مقتولہ کی بڑی بہن علینہ، بہنوئی حیات جاکھرانی اور سابق شوہر رفیق جاکھرانی کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق نمرہ کی شادی 3 سال قبل رفیق جاکھرانی سے ہوئی تھی جس کا رشتہ مقتولہ کی بڑی بہن علینہ اور اس کے شوہر حیات جاکھرانی نے طے کروایا تھا۔ شادی کے بعد نمرہ اپنے سسرال جیکب آباد چلی گئی تاہم ایک ماہ بعد ہی اس کے شوہر اور نمرہ نے گھگھر پھاٹک کے قریب رہائش اختیار کرلی تھی۔
مدعی مقدمہ کے مطابق نمرہ نے متعدد بار شکایت کی تھی کہ اس کے شوہر کا رویہ اس کے ساتھ درست نہیں جبکہ شوہر کے بھائی اور دیگر مرد رشتہ دار اس کی غیر موجودگی میں گھر آکر اس پر نظر رکھتے تھے۔ والد کا کہنا ہے کہ بیٹی کی شکایات کے باوجود اس کا شوہر الٹا اسی پر الزامات عائد کرتا تھا۔
مقدمے کے متن کے مطابق نمرہ نے شادی کے 6 سے 7 ماہ بعد عدالت کے ذریعے رفیق جاکھرانی سے خلع لے لی تھی جس کے بعد رفیق نے اسے اور اس کے والد کو متعدد بار جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
والد نے الزام عائد کیا کہ علینہ اور اس کے شوہر نے نمرہ کو دوبارہ رفیق کے ساتھ گھر بسانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران انہیں معلوم ہوا کہ بڑی بیٹی اور داماد نے رفیق سے نمرہ کی شادی کروانے کے عوض ڈھائی لاکھ روپے وصول کیے تھے۔
مدعی کے مطابق خلع کے بعد نمرہ اپنے بھائی عبدالرحیم اور بڑی بہن علینہ کے گھر رہتی تھی۔ گزشتہ روز بھی وہ اپنی بہن کے گھر موجود تھی کہ دوپہر کے وقت اہل خانہ کو فون کے ذریعے اطلاع ملی کہ رفیق جاکھرانی نے علینہ کے گھر میں فائرنگ کرکے نمرہ کو قتل کردیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر وہ جناح اسپتال پہنچے تو علینہ بھی وہاں موجود تھی۔ پوچھنے پر علینہ نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا اور صرف اتنا بتایا کہ رفیق جاکھرانی گھر آیا تھا اور نمرہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
مقتولہ کے والد نے مقدمے میں شبہ ظاہر کیا ہے کہ علینہ اور اس کے شوہر حیات جاکھرانی نے نمرہ کے سابق شوہر کے ساتھ دوبارہ گھر بسانے سے انکار پر رفیق کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نمرہ کی علینہ کے گھر موجودگی کا علم اہل خانہ کے علاوہ کسی کو نہیں تھا۔
پولیس حکام کے مطابق مقتولہ کی بڑی بہن علینہ کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی گئی ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد حیات جاکھرانی اور رفیق جاکھرانی فرار ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل