Monday, October 26, 2026
 

22 سال کی عمر میں خوفناک بیماری سے مرنے والا تھا، عثمان خواجہ کا انکشاف

 



آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ اوپنر عثمان خواجہ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے پورے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کے دوران ریمیٹائڈ آرتھرائٹس نامی بیماری میں مبتلا رہے۔ عثمان خواجہ نے آسٹریلوی پروگرام ’آسٹریلین اسٹوری‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 2009 میں جب ان کی عمر صرف 22 سال تھی انہیں اس بیماری کی تشخیص ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرض کے باعث ان کے بائیں گھٹنے میں شدید درد رہتا تھا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے لیے چند قدم چلنا مشکل ہوگیا تھا اور ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ مر جائیں گے۔ سابق کرکٹر کے مطابق انہیں خدشہ تھا کہ بیماری کی خبر سامنے آنے سے ان کے کیریئر پر منفی اثر پڑے گا، اسی لیے انہوں نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو بھی اس بارے میں نہیں بتایا۔ حتیٰ کہ ڈیوڈ وارنر اور مائیکل ہسی جیسے قریبی ساتھی بھی اس راز سے لاعلم رہے۔ خواجہ نے بتایا کہ باقاعدہ ادویات اور انجیکشنز کی مدد سے وہ تقریباً چھ ماہ بعد دوبارہ کرکٹ کے میدان میں واپس آئے۔ ان کے مطابق علاج کے بغیر معمول کی زندگی گزارنا بھی مشکل ہوجاتا۔ عثمان خواجہ نے جنوری 2026 میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی۔ انہوں نے 88 ٹیسٹ میچوں میں 16 سنچریز کی مدد سے 6229 رنز بنائے۔ اب وہ اپنی سوانح عمری ’صبر‘ کے ذریعے زندگی کے مزید پہلو سامنے لانے کی تیاری کررہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل