Monday, October 26, 2026
 

اینتھروپک پر ایلوس پریسلے کے گانوں سے اے آئی ٹریننگ کا الزام، 4 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ

 



امریکی گلوکار ایلوس پریسلے کے موسیقی کے حقوق رکھنے والے اداروں نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ کمپنی نے اجازت یا لائسنس کے بغیر ان کے 274 گانے اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیے۔  مدعیان نے تقریباً 4 کروڑ 11 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کمپنی نے الزامات مسترد کرتے ہوئے مقدمے کا بھرپور دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مقدمہ سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔ اس کارروائی کی قیادت لائسنسنگ کمپنی آتھنٹک برانڈز گروپ کررہی ہے، جو ایلوس پریسلے کی دانشورانہ ملکیت کے حقوق کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس کے ساتھ دیگر کمپنیاں، ٹرسٹ اور موسیقی کے حقوق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ مدعیان کا مؤقف ہے کہ کمپنی نے ان کے گانوں کے کاپی رائٹ شدہ بول اور موسیقی کو اپنے ’کلاڈ‘ اے آئی ماڈلز کی تیاری اور تربیت کے مختلف مراحل میں اجازت کے بغیر استعمال کیا۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ انتھروپک نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کو اپنے کاروباری طریقۂ کار کا حصہ بنایا۔ لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ گانوں کو ایک مرکزی ڈیجیٹل ذخیرے میں رکھا گیا، جہاں سے مواد کے مختلف حصے نقل کرکے کلاڈ ماڈلز کی اگلی نسلوں کو تربیت دینے کے لیے استعمال کیے گئے۔ مدعیان نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ صارفین کی جانب سے مخصوص گانوں کو نئے انداز میں تیار کرنے کی درخواست پر کلاڈ بعض اوقات اصل گانوں سے بہت زیادہ مشابہ مواد پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کی جانب سے حفاظتی پابندیاں متعارف کرانے کے باوجود یہ مسئلہ برقرار رہا۔ تاہم، یہ تمام دعوے مقدمے میں مدعیان کے مؤقف پر مبنی ہیں اور عدالت میں ان کی جانچ ہونا باقی ہے۔ حقوق کے مالکان ہر مبینہ خلاف ورزی شدہ گانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر قانونی ہرجانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ 274 گانوں کے حساب سے یہ رقم تقریباً 4 کروڑ 11 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے عدالت سے مستقل حکم امتناع جاری کرنے اور کمپنی کو غیر مجاز نقول تلف کرنے کا حکم دینے کی درخواست بھی کی ہے۔ اس مقدمے کی قیادت کرنے والے وکیل رچرڈ بش اس سے قبل مارون گے کے خاندان کی جانب سے رابن تھِک اور فیرل ولیمز کے خلاف ’بلرڈ لائنز‘ کاپی رائٹ مقدمے میں بھی پیش ہوچکے ہیں۔ بش کے مطابق ان کے موکل ایلوس پریسلے کے گانوں کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے محافظ ہیں۔ یہ مقدمہ موسیقی کی صنعت اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے درمیان کاپی رائٹ کے حوالے سے جاری وسیع تر قانونی کشمکش کا حصہ ہے۔ 2023 میں یونیورسل میوزک، کونکورڈ میوزک گروپ اور اے بی کے سی او نے بھی انتھروپک کے خلاف گانوں کے بول استعمال کرنے پر مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں بعدازاں مزید دعوے شامل کیے گئے۔ بی ایم جی رائٹس مینجمنٹ، سونی میوزک پبلشنگ اور وارنر چیپل میوزک سمیت دیگر اداروں نے بھی اے آئی کمپنیوں کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائیاں کی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں اس معاملے سے متعلق کم از کم نصف درجن دیگر مقدمات بھی زیرِ التوا ہیں۔ انتھروپک پہلے یہ مؤقف اختیار کرچکی ہے کہ کاپی رائٹ شدہ مواد سے اے آئی ماڈلز کی تربیت بعض حالات میں امریکی قانون کے تحت ’منصفانہ استعمال‘ کے زمرے میں آسکتی ہے۔ کمپنی کو گزشتہ برس مصنفین کی جانب سے دائر ایک دوسرے مقدمے میں 1.5 ارب ڈالر ادا کرکے تصفیہ بھی کرنا پڑا تھا۔ اس مقدمے میں الزام تھا کہ ان کی کتابوں کی غیر قانونی نقول اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کی گئی تھیں۔ ایلوس پریسلے کے گانوں سے متعلق مقدمہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ عدالت نے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ انتھروپک نے واقعی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل