Tuesday, October 27, 2026
 

ایران سے کروڑوں ڈالر ملنے کے بعد حزب اللہ نے نئی جنگ کی تیاری کرلی، رائٹرز کا اہم انکشاف

 



لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایران سے مالی معاونت ملنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کی تیاریوں پر کام تیز کردیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے لبنانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تنظیم گزشتہ تین ماہ سے اپنی فوجی صلاحیتیں بحال کرنے اور ممکنہ تصادم کے لیے تیاریوں میں مصروف ہے۔ رائٹرز کے مطابق حزب اللہ نے جون کے بعد جنگی کارروائیوں میں آنے والے وقفے کو دوبارہ مسلح ہونے کے لیے استعمال کیا۔ لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران تنظیم نے بالخصوص دھماکہ خیز مواد کے حصول اور ڈرونز کی تیاری پر توجہ دی۔ ذرائع کے مطابق ایران نے حزب اللہ کو اپنی فوجی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے کروڑوں ڈالر فراہم کیے ہیں۔ یہ رقم ایران کی جانب سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مدد کے لیے دیے گئے تقریباً 20 کروڑ ڈالر سے الگ بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں حزب اللہ کی کارروائیوں سے واقف سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تنظیم جنگ کے دوران متاثر ہونے والے اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو بھی بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حزب اللہ کو 2024 کے بعد اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ان جھڑپوں میں اس کے متعدد رہنما اور ہزاروں جنگجو نشانہ بنے جبکہ اسلحے کے بڑے ذخائر بھی تباہ ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے ان دیہاتوں پر قابض ہیں جنہیں حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں لبنانی حکومت پر بھی تنظیم کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ رائٹرز کے سوالات کے جواب میں حزب اللہ کے میڈیا آفس نے کہا کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کے باعث مزاحمت ایک جائز حق ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی کے تناظر میں حزب اللہ چوکس ہے، تاہم لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تنظیم ابھی اپنے اسلحے کے ذخائر اور افرادی قوت کو مکمل طور پر بحال نہیں کرسکی۔ حزب اللہ نے رواں ماہ یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ لبنانی حکام کی جانب سے ضبط کیا گیا دھماکہ خیز مواد اس کا تھا اور اسے اسرائیل کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ مواد دھماکہ خیز ڈرونز کے لیے مختص تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل