Loading
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے سفارتی حل کی امیدوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم سعودی عرب پر حملوں کے بعد خطے میں فوری استحکام کے امکانات کم ہونے سے برینٹ خام تیل کی قیمت اب بھی گزشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 66 سینٹ، یعنی 0.57 فیصد کمی کے بعد 115.15 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 44 سینٹ، یعنی 0.43 فیصد گھٹ کر 101.32 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار جہازوں پر ایرانی حملوں کی لہر کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی تھی، جو اپریل کے بعد بلند ترین سطح تھی۔ پیر کو بھی قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچی۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی ایک وجہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے ممکنہ خاتمے سے متعلق امیدیں ہیں، جن سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات کچھ کم ہوئے ہیں۔ تاہم سعودی عرب پر حملوں اور خطے میں غیر یقینی صورتِ حال کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں دباؤ برقرار ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل